حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہولوکاسٹ متاثرہ یوم پر جاری اپنے پیغام میں کہا: سامراجی و صہیونی دہشتگردی کے سامنے نازیوں کا تاریخ میں غیر انسانی رویہ بھی ہیچ ہو چکا، ہولوکاسٹ کہیں تاریخ کے صفحات میں بعض اعتراضات کے باوجود قبیح فعل مگر آج کا غزہ،لبنان، شام تو دستاویزی ثبوتوں عالمی امن پر نہ صرف زوردار تھپڑ ہے بلکہ اب بورڈ آف پیس کے نام پر ایک نئے کھیل کا آغاز ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہولوکاسٹ کے تذکرے تو صرف دستاویزی شکل میں خال خال مگر غزہ، بیت المقدس، مغربی کنارہ، خان یونس، شام اور لبنان میں ہونیوالی بربادی و تباہ کاری دنیا نے اپنی نظروں سے دیکھی، عالمی میڈیا کی رپورٹس اور تاریخی غزہ ملین مارچ اس کے گواہ ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: اولین اصول یہی ہے کہ ظلم جہاں پر بھی ہو وہ ظلم ہی ہے۔ تاریخ میں نازیوں کارویہ جو بیان کیا گیا وہ غیر انسانی تھا مگر ہولوکاسٹ کی بنیاد پر بھی سوالات و اعتراضات اٹھے، بعض حوالوں سے ہولوکاسٹ کو سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ قرار بھی دیاگیا مگر اس کے باوجود اس وقت سے نہ ان اقدامات کی مذمت ہوئی بلکہ آج تک عالمی سطح پر اس معاملے پر منفی تذکرے تک پر پابندیاں ہیں تو دوسری طرف جو کچھ سامراجیت و صہیونیت نے کیا، جو قیامت غزہ، مغربی کنارے، خان یونس، بیت المقدس کے ساتھ پڑوسی ممالک شام و لبنان پر ڈھائی گئی، جو حیوانیت و درندگی اور شیطانیت ظاہر ہوئی اس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا: ہولوکاسٹ تاریخ ایک ایسا تذکرہ جس پر اعتراضات موجود مگر ارض فلسطین پر جو ظلم ڈھائے گئے وہ سب عالمی دنیا کی نظروں کے سامنے ہوا، ہولوکاسٹ بارے تاریخی شواہد مٹائے گئے یا خفیہ آپریشن ہوئے مگر غزہ سے بیروت اور بیت المقدس سے دمشق تک سارے مظالم دن کی روشنی میں ہوئے، بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی لاشوں کے ساتھ بھوک و پیاس اور بے یارو مددگار بے سائباں انسان اور ہرطرف پھیلی تباہی، بربادی اور کھنڈرات سامراجی و صہیونی دہشتگردی و ظلم و شیطانیت کی واضح مثال اور کبھی نہ مٹنے والے ثبوت ہیں جنہیں ہزارہا پروپیگنڈوں کے باوجود کبھی دلوں سے ختم نہ کیا جا سکے گا کیونکہ غزہ مظالم پر جس طرح عالمی سطح پر انسانیت نے آواز بلند کی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے مگر افسوس اقوام عالم کے حکمرانوں کے ضمیر مردہ یا مفاد کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جب اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں سمیت بعض طاقتور ممالک نے اپنے مفادات کی خاطر مجرمانہ خاموشی کا سہارا لیا تو آج "بورڈ آف پیس" کے نام پر ایک نئے کھیل کا آغاز ہونے کو ہے مگر وہ وقت دور نہیں جب دنیا سے ہر ظلم کا خاتمہ ہو گا اور ہر ظالم کو حساب دینا پڑے گا۔!!
یاد رہے کہ ہولو کاسٹ، یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے بارے میں صہیونیوں نے جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر دنیا کے سامنے پروپیگنڈہ کیا ہے کہ ان کو سنہ 1933ء سے 1945ء کے عرصہ کے درمیان جرمن نازیوں نے بری طرح قتل عام کا نشانہ بنایا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جرمن نازی تمام یہودیوں اور صہیونیوں سے سخت نفرت کرتے تھے اور شاید یہی نفرت اس بات کا سبب بنی ہو کہ انہوں نے نے یہودیوں کو جرمنی سے نکلنے کا کہا ہو۔ اب جہاں تک ہولو کاسٹ کی بات ہے تو اس عنوان سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک صہیونیوں کا نقطہ نظر ہے جسے امریکی پشتپناہی بھی حاصل ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ نے بھی صہیونیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہولو کاسٹ کا دن منانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ یہ دن ہر سال جنوری کی 27 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک نقطہ نظر یورپی دنیا میں اور بھی موجود ہے جو کہتا ہے کہ ہولوکاسٹ صہیونیوں کے جھوٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔









آپ کا تبصرہ