پیر 2 فروری 2026 - 11:16
رہبرِ حکیم کی توہین؛ امتِ مسلمہ کی وحدت پر کاری ضرب: مولانا عقیل رضا ترابی

حوزہ/سربراہ مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ ہند نے رہبرِ معظم کی شان میں جواری ٹرمپ کی ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہبرِ حکیم کی توہین، امتِ مسلمہ کی وحدت پر کاری ضرب شمار کی جائے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ ہند مولانا عقیل رضا ترابی نے رہبرِ معظم کی شان میں جواری ٹرمپ کی ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہبرِ حکیم کی توہین، امتِ مسلمہ کی وحدت پر کاری ضرب شمار کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک، حساس اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے۔ عالمِ اسلام کا جغرافیہ اگرچہ وسیع ہے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے روز بہ روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ فکری انتشار، مذہبی تعصبات، سیاسی مفادات اور ابلاغی یلغار نے ’’ملتِ واحدہ‘‘ کے تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے پُرآشوب ماحول میں رہبرِ حکیم جیسی باوقار، مدبر اور صاحبِ بصیرت قیادت کا وجود محض ایک شخصیت نہیں، بلکہ امت کے لیے فکری سہارا، روحانی اعتماد اور اجتماعی سمت کا معتبر عنوان ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج جب رہبرِ انقلابِ اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلّہ العالی کی ذاتِ گرامی کو اہانت اور توہین کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو حقیقت میں یہ کسی ایک فرد کی تذلیل نہیں، بلکہ اس فکری و تمدنی محاذ پر ضرب ہے جس کا بنیادی مقصد امتِ مسلمہ کو وحدت کے محور سے ہٹا دینا ہے۔

انہوں نے قیادت کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات میں قیادتِ صالحہ کو محض انتظامی منصب نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے امت کی فکری و اخلاقی حیات سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔ امام جعفر صادقؑ کے مکتب میں قیادت وہ چراغ ہے جو زمانۂ فتن میں راستہ دکھاتا ہے اور امت کو خواہشات، خوف اور فریب کے اندھیروں سے نکال کر بصیرت کی روشنی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہِ جعفری کی روایت میں مرجعیت اور رہبری کو دین کے تحفظ اور امت کی فکری رہنمائی کا عملی مظہر قرار دیا گیا ہے۔

مولانا ترابی نے کہا کہ رہبرِ حکیم کی توہین کا سب سے پہلا اور گہرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ امت کے دل سے اعتماد رخصت ہونے لگتا ہے اور جب اعتماد کمزور ہو جائے تو وحدت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ بات سمجھنی چاہیے کہ قیادت پر حملہ دراصل اس ستون پر حملہ ہے جس پر امت کا اجتماعی شعور استوار ہوتا ہے۔ مخالف قوتیں بخوبی جانتی ہیں کہ اگر ملت کو کسی میدان میں کمزور کرنا ہو تو سب سے پہلے اس کی فکری قیادت سے بدگمانی پیدا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے رہبرِ معظم کی اہم خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلّہ کی فکری خصوصیت یہ ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو کسی خاص خطے یا کسی مخصوص مسلکی دائرے تک محدود نہیں سمجھتے، بلکہ ان کی نگاہ میں اسلام ایک آفاقی پیغام اور امت ایک زندہ اور بیدار ذمہ داری ہے۔ فلسطین کے مسئلے سے لے کر استکبارِ عالمی کے مقابلے تک، وحدتِ اسلامی کے تصور سے لے کر نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت تک، ان کے بیانات اور رہنما خطوط کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ اگر امت متحد نہ رہی تو اس کی عزت، اس کی خودمختاری اور اس کے دینی تشخص کو شدید خطرات لاحق رہیں گے۔ ایسے رہبر کی توہین درحقیقت وحدتِ اسلامی کے اسی بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے جس نے فرقہ وارانہ سرحدوں سے بلند ہو کر ’’امت‘‘ کو مخاطب کیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی اختلاف یا فکری زاویۂ نظر کا فرق نہیں، بلکہ ایک منظم فکری یلغار ہے، جس کا ہدف امت کے اندر شکوک، بداعتمادی اور داخلی انتشار کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فقہِ جعفری کی روشنی میں اختلافِ رائے ایک زندہ، معتبر اور علمی روایت ہے، لیکن اہانت، تمسخر اور کردار کشی کسی حال میں بھی علمی اختلاف کے دائرے میں نہیں آتے۔ یہ طرزِ عمل نہ اہلِ بیتؑ کے اخلاق سے ہم آہنگ ہے اور نہ علمائے ربانیین کی سیرت سے۔ امام زین العابدینؑ نے دعا کے پیرائے میں امت کو یہ درس دیا ہے کہ زبان اگر عبادت کا وسیلہ ہے تو وہ عزت، حرمت اور وقار کی محافظ بھی ہونی چاہیے۔ افسوس کہ ہمارے عہد میں بعض قلم اور بعض زبانیں اختلافِ رائے کے نام پر بے ادبی اور تضحیک کو رواج دے رہی ہیں۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ رہبرِ حکیم کی توہین صرف کسی ایک محدود حلقے تک اثر انداز نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اثرات پورے سماج میں سرایت کر جاتے ہیں۔ بالخصوص نوجوان نسل، جو پہلے ہی فکری دباؤ اور نظریاتی انتشار کا سامنا کر رہی ہے، جب اپنے بزرگ علما اور دینی قائدین کو طعن و تشنیع اور تمسخر کا نشانہ بنتے دیکھتی ہے تو اس کے دل میں دینی قیادت کے بارے میں بداعتمادی جنم لینے لگتی ہے۔ یوں رفتہ رفتہ وہ رہنمائی کے معتبر مراکز سے کٹتی چلی جاتی ہے، اور یہی وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جہاں مخالف قوتوں کو اپنی سب سے بڑی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلّہ کی شخصیت کو محض کسی ریاستی یا سیاسی نظام کی نمائندگی تک محدود کرنا علمی انصاف کے منافی ہے۔ وہ عصرِ حاضر میں فقہ، فکرِ اسلامی اور استقامتِ ایمانی کی ایک نمایاں اور باوقار علامت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف اختیار کیا جانے والا اہانت آمیز اسلوب دراصل اس مزاحمتی اور بیدارگر فکر کو نشانہ بناتا ہے جو ظلم، استکبار اور سامراجی غلبے کے مقابلے میں امت کو حوصلہ، خودداری اور فکری استقامت عطا کرتی ہے۔

انہوں نے قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ جب بھی علما اور صالح قیادت کو مجروح کیا گیا، اس کے نتائج ہمیشہ انتشار، کمزوری اور بالآخر غلامی کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ بنو امیہ کے دور سے لے کر جدید استعماری عہد تک ایک ہی حربہ بار بار استعمال کیا گیا: قیادت کو مشکوک بنا دو، تاکہ قوم خود اپنے ہی ہاتھوں سے بکھر جائے۔ آج ہمیں نہ جذباتی نعروں کی ضرورت ہے اور نہ وقتی اور سطحی ردِعمل کی۔ ہمیں ایک باشعور، باوقار اور اصولی فکری موقف درکار ہے۔ رہبرِ حکیم کی توہین کے مقابلے میں سب سے مضبوط اور دیرپا جواب یہی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں وحدت کو مضبوط کریں، اختلاف کو اخلاق اور علمی حدود کے اندر رکھیں، اور اپنی زبان و قلم کو نادانستہ طور پر مخالف منصوبوں کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہماری اجتماعی ذمہ داری کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی اہلِ بیتؑ کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں تو ہمیں ان کے سکھائے ہوئے ادب، حلم، وقار اور انصاف کو اپنے طرزِ گفتگو اور طرزِ تحریر میں زندہ کرنا ہوگا۔ قیادت کا احترام شخصیت پرستی نہیں، بلکہ اس فکری اور دینی تسلسل کی حفاظت ہے جو ہمیں دین، ملت اور مظلوم انسانیت سے جوڑتا ہے۔

مولانا عقیل رضا ترابی نے کہا کہ آخر میں صرف اتنا عرض کرنا کافی ہے کہ رہبرِ حکیم کی توہین محض ایک فرد کی تذلیل نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی وحدت پر کاری ضرب ہے اور اگر ہم اس ضرب کی سنگینی کو بروقت نہ سمجھ سکے تو بعید نہیں کہ تاریخ ہمیں ان اقوام کی صف میں کھڑا کر دے جنہوں نے اپنے خیرخواہوں کو پہچاننے سے پہلے اپنے مخالفین کو مضبوط کر دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha