ہفتہ 31 جنوری 2026 - 13:43
کیا فقر کو بے دینی کا جواز بنایا جا سکتا ہے؟

حوزہ/ اعتقادی شبہات کے ماہر کا کہنا ہے کہ فقر بے دینی کا سبب بننے کا پس منظر فراہم کر سکتا ہے، تاہم یہ دینداری میں کمی کا جواز نہیں بنتا۔ درحقیقت یہ ایک تنبیہ ہے، نہ کہ اس بات کی اجازت کہ کوئی شخص اپنی دینداری کم کر دے یا دینی پابندیوں سے غفلت برتے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فقر اور دینداری کا موضوع اسلامی معاشرے میں نہایت اہم اور حساس ہے۔ ایسے حالات میں کہ جب بہت سے لوگ معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا فقر، دینداری میں کمی یا دینی پابندیوں سے غفلت کا جواز بن سکتا ہے؟ چونکہ اس مسئلے کا افراد کے اعتقاد اور دینی طرزِ عمل پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، اس لیے اس پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔

اسی موضوع کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے حجت الاسلام علی تقی خاکی (شبهات کے ماہر) سے گفتگو کی ہے۔ ذیل میں اس گفتگو کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے:

حوزہ نیوز کو وقت دینے پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ اس سوال کے بارے میں کہ: ’’روایات میں آیا ہے کہ فقر دین کو ختم کر دیتا ہے، اور چونکہ آج لوگ معاشی مشکلات میں مبتلا ہیں، اس لیے ان سے دینداری کی توقع نہیں رکھنی چاہیے‘‘— آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس سوال کے جواب میں چند نکات قابلِ توجہ ہیں:

۱۔ اس مفہوم کی صریح روایت موجود نہیں

سب سے پہلے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ہمیں ایسی کوئی صریح روایت نہیں ملتی جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ’’فقر دین کو ختم کر دیتا ہے‘‘۔ البتہ کچھ روایات ایسی ضرور ہیں جن میں فقر اور دینداری کے درمیان ایک تعلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، لیکن ان روایات میں فقر سے مراد کیا ہے، یہ خود ایک قابلِ بحث موضوع ہے۔

۲۔ روایات کی درست تفسیر

اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ ان روایات میں فقر سے مراد معاشی اور مادی فقر ہے، تو بھی یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ غربت اور تنگ دستی اس بات کا جواز نہیں بنتی کہ انسان دینداری ترک کر دے، احکامِ الٰہی کی نافرمانی کرے یا اپنے دینی فرائض ادا نہ کرے۔

یعنی معاشی مشکلات کو کبھی بھی دینی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انسان پر لازم ہے کہ ایک طرف اپنی معاشی مشکلات کے حل کے لیے کوشش کرے، اور دوسری طرف دینی تعلیمات اور الٰہی فرائض کی پابندی بھی کرے۔

درحقیقت، فقر اور تنگ دستی خود خدا کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو”

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ معاشی تنگی اور مالی کمی بھی انسان کے امتحان کے اسباب میں سے ایک ہے۔ کبھی خوف، کبھی بھوک، کبھی مال کا نقصان، کبھی جان اور کبھی پیداوار میں کمی، یہ سب آزمائشیں ہیں۔

لہٰذا فقر بذاتِ خود ایک امتحان ہے، اور انسان اس بنیاد پر آزمائشِ الٰہی سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ یہ ہرگز درست نہیں کہ فقر کو دینی پابندیوں سے دستبرداری کا جواز بنا لیا جائے۔

روایات کا اصل مقصد کیا ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ وہ روایات جن میں فقر اور دینداری کے کمزور ہونے کے درمیان تعلق بیان ہوا ہے، ان کا اصل مقصد کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ایسی روایات اجازت نہیں بلکہ تنبیہ ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کہا جاتا ہے کہ منشیات کا استعمال جرائم میں اضافے کا سبب بنتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ منشیات استعمال کرنے والا شخص جرم کا مجاز ہو جاتا ہے، بلکہ یہ ایک انتباہ ہوتا ہے۔

یہ انتباہ کم از کم تین طبقات کے لیے ہے:

۱۔ خود فرد کے لیے تنبیہ

سب سے پہلے یہ تنبیہ خود انسان کے لیے ہے کہ وہ اپنی زندگی کو درست طریقے سے منظم کرے، تاکہ شدید معاشی فقر میں مبتلا نہ ہو۔ کیونکہ فقر بعض اوقات انسان کو دینی کمزوری کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اسی لیے روایات میں ’’تقدیرِ معیشت‘‘ یعنی زندگی کو سمجھ داری سے چلانے پر زور دیا گیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ فضول خرچی اور بے جا اسراف سے بچے، تاکہ بعد میں تنگ دستی کا شکار نہ ہو۔

۲۔ معاشرہ اور اہلِ ایمان کے لیے تنبیہ

دوسری تنبیہ پوری ایمانی سوسائٹی اور دیگر مومنین کے لیے ہے۔ کیونکہ فقر انسان کو بعض دینی فرائض کی ادائیگی میں کمزور کر سکتا ہے، اس لیے اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ غریبوں اور محتاجوں کی خبر گیری کریں۔

اگر مومن چاہتے ہیں کہ معاشرے میں دینی اقدار مضبوط ہوں اور لوگ دین پر قائم رہیں، تو انہیں فقراء کی مدد اور دست گیری کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔

۳۔ حکمرانوں اور ذمہ داران کے لیے تنبیہ

تیسری تنبیہ ان افراد کے لیے ہے جو اقتدار اور ذمہ داری کے منصب پر فائز ہیں۔ چونکہ فقر بی دینی کے اسباب میں سے ایک بن سکتا ہے، اس لیے اسلامی معاشرے کے منتظمین اور حکمرانوں پر لازم ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کریں، تاکہ معاشرے میں دینداری مضبوط ہو۔

نتیجہ:

یہ روایات فقر کی حالت میں دینی فرائض ترک کرنے کی اجازت نہیں دیتیں، بلکہ فقر کو ایک آزمائش قرار دیتی ہیں اور ساتھ ہی فرد، معاشرہ اور حکمرانوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha