اتوار 25 جنوری 2026 - 10:33
عصرِ حاضر کے تعلیمی چیلنجز اور اسلامی تعلیمات کا حل

حوزہ/تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تشکیل کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ عصرِ حاضر میں جہاں سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمگیری نے تعلیم کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں متعدد فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز بھی جنم لے چکے ہیں۔ جدید تعلیمی نظام میں اگرچہ معلومات کی بہتات فراہم ہے، مگر کردار سازی، روحانی تربیت اور اخلاقی توازن میں شدید کمی نظر آتی ہے۔

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تشکیل کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ عصرِ حاضر میں جہاں سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمگیری نے تعلیم کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں متعدد فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز بھی جنم لے چکے ہیں۔ جدید تعلیمی نظام میں اگرچہ معلومات کی بہتات فراہم ہے، مگر کردار سازی، روحانی تربیت اور اخلاقی توازن میں شدید کمی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرت کو اعلیٰ بنانے کے لئے اسے کچھ اصول و ضوابط بھی سکھائے۔جس کے لئے اس نےانبیاء بھیجے اور کتب بھی نازل فرمائیں یہاں تک کے قرآن کاموضوع بھی انسان اور اسکی معاشرت ہی ہے۔ تعلیم و تربیت بھی اسی معاشرت کا ایک اہم جزو ہے۔ آج کے حالات میں پیش آنے والے ہر چیلنج کا جواب اسلامی تعلیمات میں موجود ہے اسلامی تعلیمات ہردور کی ،شکلات کا ایک جامع، متوازن اور دیرپا حل پیش کرتی ہیں۔

عصرِ حاضر کے تعلیمی چیلنجز

1۔ اخلاقی زوال

آج کا تعلیمی نظام زیادہ تر مادی کامیابی، روزگار اور مقابلہ بازی تک محدود ہو چکا ہے۔ اخلاقیات، صداقت، دیانت، احترامِ انسانیت اور ذمہ داری جیسے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

2۔ مقصدِ تعلیم کا فقدان

تعلیم کا مقصد صرف ڈگری، ملازمت یا معاشی ترقی سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ انسان کی ہمہ جہت شخصیت سازی نظر انداز ہو رہی ہے۔

3۔ علم اور عمل میں تضاد

طلبہ کے پاس معلومات تو بہت ہیں لیکن ان کا عملی زندگی میں صحیح استعمال کم ہوتا جا رہا ہے۔ علم کردار میں تبدیل نہیں ہو پا رہا۔

4۔ مغربی فکری غلبہ

موجودہ نصاب میں مغربی افکار اور اقدار کا غلبہ ہے، جس کے نتیجے میں دینی تشخص، تہذیبی شناخت اور روحانی وابستگی کمزور پڑ رہی ہے۔

5۔ استاد اور شاگرد کے تعلق میں کمزوری

روایتی تعلیمی نظام میں استاد مربی ہوتا تھا، مگر آج یہ تعلق رسمی اور محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل

1۔ تعلیم کا حقیقی مقصد

اسلام میں تعلیم کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں، بلکہ معرفتِ الٰہی، خودسازی اور معاشرتی اصلاح ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

“کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے برابر ہو سکتے ہیں؟”سورۃ الزمر: 9

یہ علم وہ ہے جو انسان کو شعور، ذمہ داری اور تقویٰ عطا کرتاہے۔

2۔ اخلاقی تربیت کی بنیاد

رسولِ اکرم نے فرمایا: “مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔”

اسلامی تعلیم میں علم اور اخلاق لازم و ملزوم ہیں۔ اگر نصاب میں سچائی، عدل، صبر، حیا اور خدمتِ خلق کو شامل کیا جائے تو تعلیمی نظام متوازن ہو سکتا ہے۔

3۔ علم اور عمل کا ربط

اسلام ایسے علم کو بے فائدہ قرار دیتا ہے جو عمل میں نہ ڈھلے۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “علم عمل کے ساتھ پکارا جاتا ہے، اگر عمل نہ کرے تو علم رخصت ہو جاتا ہے۔” (نہج البلاغہ)

لہٰذا تعلیم ایسی ہو جو عملی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے۔

4۔ استاد کا کردار: معلم سے مربی تک

اسلامی نظامِ تعلیم میں استاد صرف معلومات دینے والا نہیں بلکہ کردار ساز ہوتا ہے۔ رسول اکرم کو قرآن نے “معلّم” اور “مزکّی” دونوں قرار دیا۔

اساتذہ اگر اخلاقی نمونہ بن جائیں تو طلبہ خود بخود متاثر ہوتے ہیں۔

5۔ دین و دنیا کا امتزاج

اسلام دنیا اور آخرت میں توازن سکھاتا ہے۔ جدید علوم جیسے سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کو اسلامی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک ایسا نصاب بنایا جا سکتا ہے جو ترقی کے ساتھ دینداری بھی فراہم کرے۔

عملی تجاویز

1. تعلیمی نصاب میں اخلاقی و دینی مضامین کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔

2. اساتذہ کی تربیتِ اخلاقی و فکری پر خصوصی توجہ دی جائے۔

3. تعلیمی اداروں میں روحانی و تربیتی نشستیں منعقد کی جائیں۔

4. طلبہ کو خدمتِ خلق اور سماجی ذمہ داری کی عملی مشق کرائی جائے۔

5. والدین، اساتذہ اور ادارے مل کر تربیت کا مشترکہ نظام قائم کریں۔

نتیجہ

عصرِ حاضر کے تعلیمی چیلنجز محض نصابی تبدیلی سے حل نہیں ہو سکتے، بلکہ اس کے لیے فکری، اخلاقی اور روحانی اصلاح ناگزیر ہے۔ اسلامی تعلیمات ایک ایسا جامع نظام پیش کرتی ہیں جو علم، عمل، اخلاق اور مقصدِ حیات کو یکجا کرتا ہے۔ اگر ہم تعلیم کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں استوار کریں تو نہ صرف بہتر انسان بلکہ ایک صالح اور متوازن معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha