تحریر: مولانا علی عباس حمیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا میں ہر قوم کی پہچان اس کے علم، ہنر، ثقافت اور تہذیب سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر کسی بھی معاشرے کی فکری بنیاد، اخلاقی سمت اور تہذیبی شناخت کو قائم رکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے علم اور ثقافت میں ترقی کی، اس نے دنیا پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ مگر جدید دور میں ایک ایسی طاقت ابھر کر سامنے آئی ہے جو بظاہر ترقی، آزادی اور جمہوریت کی علمبردار ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اقدامات دنیا کے علمی، ثقافتی اور تہذیبی نظام کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ طاقت امریکہ ہے۔
علم دشمنی اور فکری استعمار
امریکہ نے علم کو انسانیت کی خدمت کے بجائے طاقت، سرمایہ اور غلبے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ جدید تعلیم کا جو نظام امریکہ نے دنیا میں پھیلایا، اس کا مقصد آزاد فکر پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایک خاص طرزِ فکر کو مسلط کرنا ہے۔
امریکی تعلیمی ماڈل میں:
• مقامی تاریخ اور روایات کو نظرانداز کیا جاتا ہے
• طلبہ کو سوال کرنے کے بجائے نظام کا حصہ بننے کی تربیت دی جاتی ہے
• علم کو اخلاق سے الگ کر دیا گیا ہے
نتیجتاً ترقی پذیر ممالک میں ایسے تعلیم یافتہ افراد پیدا ہو رہے ہیں جو اپنی قوم، مذہب اور ثقافت سے کٹے ہوئے ہیں، مگر مغربی مفادات کے لیے کارآمد ہیں۔ یہ فکری غلامی کی بدترین شکل ہے۔
ہنر کی تباہی اور معاشی غلامی
ہر قوم کا ہنر اس کی معاشی خودمختاری کی بنیاد ہوتا ہے۔ مگر امریکہ نے دنیا بھر میں ایسے معاشی نظام متعارف کروائے جنہوں نے مقامی صنعتوں اور روایتی ہنر کو تباہ کر دیا۔
• بڑی امریکی کمپنیاں مقامی کاریگروں کو بے روزگار کرتی ہیں
• مشینی پیداوار نے انسانی مہارت کی قدر ختم کر دی
• ترقی پذیر ممالک کو صرف صارف بنا دیا گیا
اس طرح قومیں ہنر سے خالی، خودکفالت سے محروم اور ہمیشہ امریکہ کی محتاج بن کر رہ جاتی ہیں۔
ثقافت پر حملہ: میڈیا اور تفریح
ثقافت کسی بھی معاشرے کی روح ہوتی ہے، مگر امریکہ نے اپنی ثقافتی یلغار کے ذریعے دنیا بھر کی ثقافتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
امریکی فلمیں، ڈرامے، موسیقی اور سوشل میڈیا:
• عریانی اور فحاشی کو آزادی کے نام پر فروغ دیتے ہیں
• خاندانی نظام کو کمزور کرتے ہیں
• مذہب اور اخلاق کو دقیانوس قرار دیتے ہیں
ہالی ووڈ اور نیٹ فلیکس جیسے پلیٹ فارمز نے نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کر دیا ہے۔ آج نوجوان اپنے ہیرو، لباس، زبان اور طرزِ زندگی میں امریکی ثقافت کی نقالی کو فخر سمجھتے ہیں۔
تہذیب کی تباہی اور جنگی سیاست
امریکہ نے دنیا میں جہاں بھی مداخلت کی، وہاں تہذیب، تاریخ اور انسانیت کو شدید نقصان پہنچایا۔
مثال کے طور پر:
• عراق: ہزاروں سال پرانی تہذیب تباہ
• افغانستان: تعلیم، امن اور ثقافت برباد
• فلسطین: انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی
امریکہ کی جنگیں صرف زمین پر قبضے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ وہ قوموں کی تہذیبی شناخت مٹانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
مذہب دشمنی اور اخلاقی زوال
امریکی نظام مذہب کو ذاتی معاملہ کہہ کر معاشرتی زندگی سے الگ کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں:
• اخلاقی اقدار کمزور ہو جاتی ہیں
• انسان محض مفاد پرست بن جاتا ہے
• خاندانی رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ امریکی معاشرہ بظاہر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود روحانی طور پر کھوکھلا ہے، اور یہی کھوکھلا پن دنیا بھر میں پھیلایا جا رہا ہے۔
نوجوان نسل پر اثرات
امریکی تہذیبی یلغار کا سب سے بڑا شکار نوجوان نسل ہے۔
• اپنی زبان سے دوری
• تاریخ سے لاعلمی
• اخلاقی انتشار
• شناخت کا بحران
یہ سب امریکہ کے نرم ہتھیار کا نتیجہ ہیں، جو بندوق کے بغیر قوموں کو غلام بنا لیتے ہیں۔
حل اور ذمہ داری
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ:
1. اپنا تعلیمی نظام اپنی اقدار کے مطابق بنایا جائے
2. مقامی ہنر اور صنعت کو فروغ دیا جائے
3. ثقافت اور زبان کا تحفظ کیا جائے
4. نوجوانوں میں تنقیدی شعور پیدا کیا جائے
5. میڈیا کا استعمال ذمہ داری سے کیا جائے
جب تک ہم خود اپنی تہذیب کی حفاظت نہیں کریں گے، کوئی اور ہمارے لیے یہ کام نہیں کرے گا۔
نتیجہ
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکہ آج کے دور میں علم، ہنر، ثقافت اور تہذیب کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ وہ دشمنی ہتھیاروں سے کم اور نظریات سے زیادہ کرتا ہے۔ اگر دنیا کی اقوام نے بروقت اس خطرے کو نہ پہچانا تو وہ اپنی شناخت، تاریخ اور روح سب کچھ کھو بیٹھیں گی۔
ہمیں ترقی ضرور کرنی چاہیے، مگر اپنی بنیادوں کو چھوڑ کر نہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جو علم کو اخلاق، ہنر کو انسانیت، اور تہذیب کو وقار عطا کرے۔









آپ کا تبصرہ