ہفتہ 31 جنوری 2026 - 18:43
مسجدِ قرآن و عترت، سیوان (بہار) میں جشنِ اعیادِ شعبانیہ اور علمی پروگراموں کا انعقاد

حوزہ/ مسجدِ قرآن و عترت، احمد نگر، پرانا قلعہ، سیوان (بہار) میں ماہِ شعبان المعظم کے موقع پر جشنِ اعیادِ شعبانیہ کے تحت متعدد علمی و دینی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا، جن میں علمائے کرام نے اہلِ بیتؑ کی سیرت، تربیتِ اولاد اور احترامِ والدین جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیوان/ مسجدِ قرآن و عترت، احمد نگر، پرانا قلعہ، سیوان (بہار) میں ماہِ شعبان المعظم کے موقع پر متعدد علمی و فکری محافل کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، امام حسینؑ کی ولادت باسعادت کے موقع پر شہر سیوان میں ایک عظیم الشان محفل منعقد ہوئی، جس میں امام جمعۂ شہر سیوان، مولانا محمد رضا معروفی نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر کس و ناکس میں اتنی استطاعت کہاں کہ وہ حضراتِ اہلِ بیتؑ کی عظمت و فضیلت کو پوری طرح درک کر سکے۔ وہ مقام ایسا ہے جہاں انبیاء کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور فرشتوں کو بھی حاضری کے لیے اجازت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ درسِ حیات صرف اہلِ بیتؑ کے در سے حاصل کیا جائے، کیونکہ ہدایت، فلاح اور کامیابی وہی عطا فرماتے ہیں۔

مسجدِ قرآن و عترت، سیوان (بہار) میں جشنِ اعیادِ شعبانیہ اور علمی پروگراموں کا انعقاد

مولانا معروفی نے اپنے خطاب میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 83 کی تلاوت کی اور اس کی تفصیلی تشریح پیش کی۔ آیتِ مبارکہ میں بنی اسرائیل سے لیے گئے اس میثاق کا ذکر ہے جس میں توحید، والدین سے حسنِ سلوک، قرابت داروں، یتیموں اور مساکین کے حقوق، حسنِ گفتار، اقامتِ صلوٰۃ اور ادائے زکوٰۃ جیسی بنیادی تعلیمات بیان کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ آیت درحقیقت انسان کے لیے بہترین لائحۂ عمل پیش کرتی ہے، تاکہ وہ دین و دنیا میں کامیاب ہو اور غضبِ الٰہی سے محفوظ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سات بنیادی تعلیمات بیان فرمائی ہیں، جو انسان کو اخلاقی اور روحانی بلندی عطا کرتی ہیں۔

مولانا موصوف نے پہلی تعلیم "لا تعبدون الا اللہ" (اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا) کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بظاہر یہ مختصر جملہ ہے، مگر درحقیقت پورے دین کا خلاصہ ہے۔ عبادتِ خداوندی کے لیے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت، اس کی وحدانیت کا علم، شرک سے بیزاری، اور عبادت کے طریقوں کی معرفت ضروری ہے، جو صرف وحی اور رسالت کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی سے خلافت اور ولایت کا تصور واضح ہوتا ہے۔

باب الحوائج حضرت ابوالفضل العباسؑ کی ولادت کی شب منعقدہ جشن میں مولانا معروفی نے دوسری تعلیم "وبالوالدین احسانا" (والدین کے ساتھ حسنِ سلوک) پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کا حکم دے کر ان کی عظمت کو واضح کر دیا ہے، کیونکہ نعمتِ الٰہی کے بعد سب سے بڑی نعمت والدین ہیں۔ وجود، پرورش، تربیت اور بے لوث محبت — یہ سب والدین کی عطا ہے۔

مسجدِ قرآن و عترت، سیوان (بہار) میں جشنِ اعیادِ شعبانیہ اور علمی پروگراموں کا انعقاد

انہوں نے مزید کہا کہ والدین اپنی اولاد پر جو احسانات کرتے ہیں، وہ کسی عوض یا بدلے کے طالب نہیں ہوتے، بالکل اسی طرح جیسے اللہ تعالیٰ بندوں پر بے شمار نعمتیں نازل فرماتا ہے بغیر کسی ذاتی غرض کے۔

امام جمعۂ سیوان نے حضرت علی اکبرؑ کی ولادت کی مناسبت سے منعقدہ محافل میں تربیتِ اولاد اور احترامِ والدین کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جس طرح والدین اولاد کی راحت و آسائش کے خواہاں ہوتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ بندوں کے نیک اعمال کو ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ انہیں کئی گنا بڑھا دیتا ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں صدقہ و انفاق کی مثال بیان کی گئی ہے۔

آخر میں مولانا موصوف نے کہا کہ اگر والدین کا حقیقی احترام اور ان کی خدمت کا صحیح شعور حاصل کرنا ہے تو وہ صرف دامنِ اہلِ بیتؑ سے وابستہ ہونے میں ہے، اسی لیے اعیادِ شعبانیہ کی مناسبت سے ان عناوین کا انتخاب کیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha