بدھ 7 جنوری 2026 - 09:32
امیرالمومنین حضرت علیؑ پوری انسانیت کے لیے خدا کا عطا کردہ عظیم تحفہ ہیں، مولانا شمع محمد رضوی

حوزہ/ سیوان، بہار میں منعقدہ جشنِ ولادتِ مولائے کائناتؑ سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت خانۂ کعبہ میں ایک منفرد اور تاریخی شرف ہے، اور آپؑ کی ذاتِ اقدس نہ صرف اہلِ ایمان بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، عدل اور انسانیت کی عملی تفسیر ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیوان/ امام بارگاہ قرآن و عترت احمد نگر، سیوان، بہار میں مولائے کائنات امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں محبانِ حیدرِ کرارؑ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

رپورٹ کے مطابق، پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نوجوانوں نے منقبت و کلام پیش کیے، جبکہ بزرگوں نے بھی عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ اس موقع پر افتتاحی خطاب حجت الاسلام والمسلمین مولانا محمد رضا معروفی نے کیا، جس میں انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی سیرت اور فضائل پر روشنی ڈالی۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید شمع محمد رضوی نے “خانۂ کعبہ میں امیرالمومنین حضرت علیؑ کی ولادت” کے موضوع پر مدلل اور پراثر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام پوری انسانیت کے لیے خداوندِ عالم کا عطا کردہ عظیم تحفہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے کتاب نازل فرمائی اور اس کتاب کی تفسیر و عملی رہنمائی کے لیے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کو نعمت کے طور پر عطا فرمایا، اور اس سلسلۂ ہدایت کا درخشاں تسلسل حضرت علی علیہ السلام کی ذاتِ اقدس ہے۔

مولانا رضوی نے واقعۂ ولادت بیان کرتے ہوئے کہا کہ 13 رجب، عام الفیل کے تیسویں سال، جناب فاطمہ بنت اسدؑ الہیٰ رہنمائی کے تحت خانۂ کعبہ کی جانب روانہ ہوئیں، جہاں کعبہ کی دیوار شگافتہ ہوئی اور حضرت علی علیہ السلام کی ولادت خانۂ خدا کے اندر ہوئی۔ یہ شرف نہ اس سے پہلے کسی کو حاصل ہوا اور نہ بعد میں کسی اور کو نصیب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی ولادت ایسے دور میں ہوئی جب انسانیت ظلم و جہالت کی تاریکیوں میں گھری ہوئی تھی، اور آپؑ کی ذاتِ اقدس نے انسانیت کو نجات کا راستہ دکھایا۔ 13 رجب کو خانۂ کعبہ میں ولادت کا واقعہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جسے شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کے مورخین اور محدثین نے تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اہل سنت کے معروف عالم علامہ طبری اور شیعہ عالم علامہ محمد باقر مجلسیؒ نے بھی اس واقعہ کو اپنی معتبر کتب میں ذکر کیا ہے۔

مولانا موصوف نے 13 رجب کو یومِ پدر (Father’s Day) قرار دینے کے پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں بانیٔ انقلاب امام خمینیؒ نے اس دن کو یومِ پدر کے طور پر منسوب کیا، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ حضرت علی علیہ السلام نہ صرف اپنی اولاد بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثالی باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج اس دن کو معاشرے میں اس انداز سے منایا جاتا ہے کہ اولاد اپنے والدین کی خدمت، احترام اور شکرگزاری کا اظہار کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ باپ وہ ہستی ہے جو زندگی کے نشیب و فراز میں اولاد کا سہارا بنتا ہے، صحیح راستہ دکھاتا ہے اور عملی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔ یومِ پدر ہمیں اپنے والدین، بزرگوں اور محسنوں کی قدر و منزلت کو پہچاننے اور ان کا شکریہ ادا کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے۔

آخر میں انہوں نے امام خمینیؒ اور رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی عظمت کے سامنے ہر صاحبِ بصیرت سرِ تعظیم خم کرتا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ آپؑ کے مداح صرف ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ مختلف ادیان کے پیروکار بھی آپؑ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ ایک گہرے سمندر کی مانند ہے، جس کی وسعت اور گہرائی کا ادراک وہی کر سکتا ہے جو اس میں غوطہ زن ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha