۳۰ خرداد ۱۴۰۰ | Jun 20, 2021
مرتضی مقتدایی

حوزہ/ خواتین کے دینی مدارس کی پالیسی ساز کونسل کے سربراہ نے کہا: خانہ کعبہ میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت ایسی فضیلت ہے جو صرف انہی سے مختص ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی پر مسرت میلاد کی  مناسبت سے منعقدہ ایک ورچوئل پروگرام میں آیت اللہ مرتضی مقتدائی نے خوشی کے ان لمحات میں ملک بھر کی  خواہران طالبات اور خواہران کے دینی مدارس کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا: خانہ کعبہ میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت ایسی فضیلت ہے جو حضرت علی علیہ السلام سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے بعد کسی کو یہ سعادت نصیب ہوگی۔

آیت اللہ مقتدائی نے امام رضا علیہ السلام کی ایک روایت جو انہوں نے امام سجاد علیہ السلام سے نقل کی ہے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا مسجد الحرام میں داخل ہوئیں اور طواف کرنے کے لیے خانہ کعبہ کے قریب آئیں۔ دیوار کعبہ میں دروازہ نمودار ہوا، حضرت علی علیہ السلام کی مادر گرامی خانہ کعبہ میں داخل ہوئیں اور وہیں پر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔

تہران کے دینی مدارس کی پالیسی ساز کونسل کے سربراہ نے کہا: یہ ایسی فضیلت ہے جو حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام سے مختص ہے۔ نہ حضرت علی علیہ السلام سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی اور کو یہ شرف حاصل ہوا کہ اس کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہو۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی اس فضیلت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کا خدا کے نزدیک کیا مقام ہے۔

انہوں نے کہا: اہل بیت علیہم السلام اور بالخصوص حضرت علی ابن ابیطالب علیہما السلام سے توسل کرنے کے بہت زیادہ آثار ہیں اور اس کے ذریعہ ہماری مشکلات حل ہوسکتی ہیں اور ہماری حاجات پوری ہو سکتی ہیں کیونکہ اہل بیت علیہم السلام شیعہ کے لیے باعث افتخار ہیں۔

آیت اللہ مقتدائی نے کہا: ہمیں اہل بیت علیہم السلام کی اطاعت کرنی چاہیے اور وہ کام کرنے چاہئیں جن سے اہل بیت علیہم السلام ہم سے راضی ہوں۔ ہم علی علیہ السلام کی طرح نہیں بن سکتے اور ان کی طرح ایک رات میں ہزار رکعت نماز نہیں پڑھ سکتے لیکن کم از کم وقت میں اپنی واجب نماز تو ادا کر سکتے ہیں۔

آیت اللہ مقتدائی نے کہا: خدا کو ناراض کرنے والے اور معصیت کرنے والے افراد سے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام بیزار ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ہم علی علیہ السلام کے شیعہ ہونے کا دعوی تو کریں لیکن ہمارا عمل ایسا ہو کہ وہ ہم سے بیزار ہوں۔

انہوں نے آخر میں کہا: اگر ہمارا عمل اور کردار ایسا ہو جیسا علی ابن ابی طالب علیہما السلام چاہتے ہیں تو خدا کے لطف و کرم سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شفاعت بھی ہمارے شامل حال ہو گی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 9 =