۱۷ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 7, 2021
News Code: 366049
25 فروری 2021 - 00:50
محمد حسین بہشتی حوزہ علمیہ مشہد مقدس  

حوزہ/ ایران اور اس کے شعر و ادب کو عشق علی اور مدح وثنائے محمد وآل محمد علیہم السلام کے لئے دنیا کی معاصر تاریخ وثقافت میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔

تحریر: مولانا محمد حسین بہشتی

حوزہ نیوز ایجنسیایران اور اس کے شعر و ادب کو عشق علی اور مدح وثنائے محمد وآل محمد علیہم السلام کے لئے دنیا کی معاصر تاریخ وثقافت میں امتیازی حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔ایران کا نام جب بھی کوئی سنتا ہے یا کلمہ ایران پر اس کی نظر پڑتی ہے تو لامحالہ طور پر ایران کی تاریخ اور اس کا کلچر وثقافت انسانی ذہن میں مجسم ہوجاتی ہے۔ جہاں پر انسان کی توجہ ایران کی تاریخ پر مبذول ہوتی ہے مثلاً انسانی ذہن قیصر وکسریٰ کی شان دل میں بٹھا لیتاہے ۔ اسلامی لشکر نے اسی ایران کو فتح کیا بعد میں اسلام کا جھنڈا ایران میں لہرایا ۔ جہاں پر پہلے ایرانیوں کا عقیدہ  زردشتی عقیدہ تھا وہیں پر شمع رسالت کے پروانے حضرت سلمان فارسی کی تبلیغات رنگ لائیں اور الحمدللہ یہ ملک تشیع کی پہچان بن گیا اور لوگ آج بھی اپنے مذہبی، اسلامی اور ثقافتی رسومات کے پابند ہیں۔ جہاں ایران میں دوسرے کاموں کی طرف خصوصی توجہ دی جانے لگی ہے وہاں پر ادبیات اور شعر وشاعری بھی خاص مقبول حیثیت رکھتے ہیں اور ادبیات فارسی میں یگانہ روزگار افراد نے اس مملکت میں آنکھ کھولی اور ادبیات کو عروج تک لے گئے۔ کیونکہ فارسی زبان ایک وسیع وعریض زبان ہے ویسے تو تمام شعراء کرام کو زبان سے گلہ رہاہے کیونکہ شعراء کی اڑان الفاظ میں مقید نہیں ہوسکی اور شعراء کو اپنے معنیٰ ومفاہیم کے لئے اکثر اوقات الفاظ میسّر نہیں آتے اس لئے وہ دوسری زبانوں کا سہارا لیتے ہیں انہی شعراء میں سے ایک شاعر اہلبیت جوکہ مودّت و محبت اہل بیت سے مالامال تھے انہوں نے مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی شان اقدس میں چند اشعار کہے جو پورے ایران تو کیا عالم اسلام میں ادباء ان اشعار کو سرلوحہ زندگی قرار دیتے ہیں اور انہی اشعار کی بدولت اس عظیم شاعر کو ادبیات کی معراج نصیب ہوئی اور ان کے یہ اشعار پورے ایران اسلامی میں ہر عالم ، ذاکر اور خطیب کی زبان پر ہیں۔ 
اس شاعر بزرگوار کا اصل نام سید محمد حسین لیکن شعراء اور ادب کی دنیا میں استاد شہریار کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں ان کا ایک پورا دیوان ہے اس دیوان میں وہ اشعار جوکہ مدح علی علیہ السلام میں لکھے گئے تھے۔ ان میں سے ایک غزل یہاں ذکر کرتے ہیں۔ واقعاً ان اشعار میں ولایت کا شیرین رس گھول رہا ہے اور جزابیت بہت زیادہ ہے ۔
''علی ای ھمایٔ رحمت تو چہ آیتی خدا را''
 انہی اشعار کے متعلق دلچسپ واقعہ مشہور ہے ۔ وہ کچھ اسطرح سے ہے کہ ایک دن لمبے قد والا ایک شخص حضرت آیت اللہ مرعشی نجفی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور بعد از سلام و دعا حضرت آیة اللہ مرعشی اپنے مطالعے میں مشغول ہوجاتے ہیں چند لمحات گزرجانے کے بعد اس شخص کی جانب نگاہ کرتے ہیں چند سکینڈ اسکی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور تعجّب خیز نگاہوں سے دیکھنے کے بعد حضرت آیة اللہ مرعشی  اپنے مقام سے اٹھتے ہیں اور بھر پور تبسّم کے ساتھ کھڑے ہوکر مہمان عزیز کو گلے لگاتے ہیں اور خوش آمدید کہتے ہیں اور فرماتے ہیں: پیارے شہریار ! خوش آمدیدخوش آمدید! تہہ دل سے میرا خلوص قبول ہو اور مبارک ہو ۔ آقا شہریار حیرت اور تعجب کی کیفیت میں دست بوسی کاارادہ کرتے ہیں لیکن آیة اللہ اپنے ہاتھ پیچھے کی طرف کھینچ لیتے ہیں اور بعد میں مہمان کو زبردستی اپنے گلے لگالیتے ہیں اور مہمان کی پیشانی کا بوسہ لینا شروع کر دیتے ہیں پھر اپنی دائیں طرف بٹھاتے ہیں خود حضرت آیة اللہ مؤدبانہ دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے ہیں نو وارد مہمان حضرت آیة اللہ سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں کہ حضرت عالی کی طرف سے پیغام ملتے ہی پہلی فرصت میں تبریز سے قم کی طرف روانہ ہوا ہوں۔لیکن راستے میں جو سوال میرے ذہن میں بار بار اٹھتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عالی مجھے کیسے جانتے ہیں؟ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ہے اور ہمارے باہمی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
حضرت آیة اللہ العظمیٰ مرعشی رحمة اللہ علیہ مہمان کی طرف چائے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی غزل ہے جس کا مطلع اسطرح سے ہے کہ
علی ای ھمایٔ رحمت تو چہ آیتی خدا را
استاد شہریار متعجب اور حیرت زدہ ہوکر اثبات میں جواب دیتے ہیں لیکن فرماتے ہیں: آج تک میں نے یہ غزل کسی کو نہیں سنائی اور نہ ہی ان اشعار کے بارے میں کسی سے تبادلہ خیال ہواہے۔ میرے خیال میں یہ اشعار خدا اور میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ حضرت آیة اللہ مرعشی نے فرمایا: مجھے دقیقاً بتائیں کہ آپ نے ان اشعار کو کب اور کس وقت ضبط تحریر میں لائے ہیں ؟ استاد شہریار اپنے سر کونیچے کرتے ہیں اور خوب فکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل آج ہی کی رات میں نے یہ اشعار کہے تھے اس رات پہلے میں نے وضو کیا اور شب کو تنہائی کے عالم میں شعر کہے اس رات میری حالت عجیب تھی میں مولائے کائنات امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت میں دیوانہ تھا اور عشق علی  میں سر تا پا غرق تھا رات کو تقریباً ٣ بجے کے بعد میں نے اس غزل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ ان کلمات کو سننے کے بعد حضرت آیة اللہ مرعشی النجفی  کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے اور سرمبارک کو ان کلمات کی تائید میں ہلاتے ہوئے فرمایا : ٹھیک ہے آپ بالکل سچ کہہ رہے ہیں یہ واقعہ اسی طرح ہے یہی وقت اور یہی رات تھی۔
    استاد شہریارکی حیرت واستعجاب زیادہ ہوگیا اور مشتاقانہ پوچھنے لگے ۔ اس رات اور اس وقت کیا ہوا تھا؟واقعاً آپ کی بات نے مجھے پریشانی اور تعجب میں ڈال دیا ہے ۔
حضرت آیة اللہ مرعشی فرماتے ہیں: '' اس رات میں کافی دیر تک نہیں سویا اور بیدار تھا۔ نماز شب اور دعائے توسل کے بعد میں نے خداوند عالم سے عرض کیا ۔ بارالٰہا ! آج مجھے خواب میں اپنے عبد خاص سے ملا۔ میری آنکھ لگ گئی تو کیا دیکھتا ہوں مسجد کوفہ کے کسی کونے میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ حضرت علی علیہ السلام اپنی بلاغت اور عظمت کے ساتھ مسجد میں تشریف فرماہیں اور اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم نے حلقہ کی صورت میں آنحضرت کو گھیر رکھا ہے جیسے چاند کے ارد گرد ستاروں کا جھرمٹ ہوتا ہے ۔ ان اصحاب کو میں نہیں پہچانتا ۔ شاید  سلمان ، ابوذر ، مقداد ، میثم تمار، مالک اشتر ، حجر بن عدی ، اور محمد ابن ابی بکر وغیرہ ہونگے۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ کوئی جشن کا سماں ہے مولائے کائنات علی علیہ السلام دربان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ: شعراء کو اندر بلایا جائے ۔ سب سے پہلے شعرائے عرب حاضر ہوتے ہیں مولائے متقیان علی علیہ السلام انکی طرف محبت بھرے انداز میں نظر کرم فرماتے ہیں۔ دوبارہ گویا ہوتے ہیں فارسی شعراء کو بلایا جائے ۔ فارسی شعراء حاضر ہوتے ہیں محتشم کاشانی اور دوسرے شعراء فارس کی طرف حضرت نگاہ فرماتے ہیں اور فرداً فرداً دیکھتے ہیں گویا کسی خاص فرد کی تلاش میں تھے لیکن وہاں موجود نہیں تھا تیسری بار مولائے کائنات دربان سے فرماتے ہیں میرے شہریار کو بلاؤ !اس وقت تم حاضر ہوتے ہوگئے۔
اس وقت تمہاری شکل وصورت کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا اور آج رات جب میں نے تمہیں دیکھا تو فوراً پہچان لیا کہ تم وہی شہریار ہو۔ تم اپنی قدر وقیمت کو جان لو ! تم پر مولائے کائنات علی کی خاص نظر کرم ہے۔ اس واقعہ کو استاد شہریار نے سنا اور انکی آنکھوں سے آنسو ٹپکنا شروع ہوگئے۔ کافی دیر کے بعد فرط محبت سے رواں دواں آنسو تھم گئے تو پھر حضرت آیة اللہ مرعشی   گویا ہوئے تم نہایت مؤدبانہ مولا امیر المؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھے مولائے کائنات نے تمہیں فرمایا: کہ شہریار! اپنے اشعار سناؤ ! تم نے اپنے اشعار کو پڑھنا شروع کیا جس کا مطلع یہ تھا۔  
 
علی ای ھمایٔ رحمت تو چہ آیتی خدا را
ان جملات کو سنا تو شہریار کی آنکھیں ساون کی طرح برسنے لگیں۔ حضرت آیة اللہ مرعشی نے خواہش کی کہ یہ اشعار مجھے بھی سنائیں ۔ استاد شہریار نے اپنے اشعار کو پڑھنا شروع کیا:  
علی اے ھمایٔ رحمت تو چہ آیتی خدا را
کہ بہ ماسوا فکندی، ھمہ سایۂ ھما را
ترجمہ: اے ہمائے رحمت! اے طائر رحمت! آپ خداوند کریم کی عظیم الشان نباء عظیم نشانیوں میں سے کتنے عجیب نشان ہیں کہ تمام موجودات و مخلوقات ارضی وسماوی پر آپ کا سایہ مبارک احاطہ کئے ہوئے ہے۔
دل اگر خدا شناسی ،ھمہ در رخ علی بین
بہ علی شناختم من بہ خدا قسم خدا را
ترجمہ: اے دل غافل! اگر تم خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو علی کی طرف نگاہ کرو! کیونکہ خدا کی قسم میں نے علی کے وسیلے سے خداوند متعال کی معرفت حاصل کی ہے۔
بہ خدا کہ درد وعالم اثر از فنا نماند
چو علی گرفتہ باشد سر چشمۂ بقا را
ترجمہ: خدا کی قسم اگر کوئی علی سے لو لگائے تو وہ دونوں جہانوں میں فنا نہیں ہوگا کیونکہ علی چشمہ بقاء کے صاحب ہیں۔
مگر ای سحاب رحمت تو بباری ،ارنہ دوزخ
بہ شرار قھر سوزد ھمہ جان ماسوارا
ترجمہ: یا علی ! اے ابر رحمت! اپنے لطف وکرم کی باران سے نوازیں ورنہ شرار قہر سے دوزخ تمام مخلوقات کو جلاکر راکھ کردے گی۔
برو ای گدایٔ مسکین در خانہ علی زن
کہ نگین پادشاہی دھد از کرم گدارا
ترجمہ: اے فقیر، مسکین اور بیچارے! تم علی کے دروازہ پر جاکر دستک دو کیونکہ علی از راہ کرم و جود وسخا بادشاہی کی انگوٹھی گدا کو عطاکرتے ہیں۔
بجز از علی کہ گوید بہ پسر کہ قاتل من
چو اسیرتست اکنون بہ اسیر کن مدارا
ترجمہ: علی کے علاوہ کون ہے جو اپنے فرزند کو وصیت کرے کہ اے فرزند ارجمند ! ''حسن مجتبیٰ'' میرا قاتل فی الحال تمہاری اسارت میں ہے اپنی محبت ولطف سے نواز دے۔!
بجز از علی کہ آرد پسری ابوالعجائب
کہ علم کند بہ عالم شھدای کربلارا
ترجمہ: علی کے علاوہ کون ہے جس نے امام حسین(ع) جیسے بیٹے کی تربیت کی ہو کہ جنہوں نے جہاں بھر کو شہدائے کربلا جیسے عظیم نمونے پیش کئے ہوں۔
چو بہ دوست عہد بندد، زمیان پاکبازان
چو علی کہ می تواند کہ بہ سر برد وفا را
ترجمہ: وہ لوگ جنہوں نے راہ خدا میں عہد وپیمان کو مضبوطی سے باندھا  ہے ایسے پاکباز لوگوں میں علی  سے بہتر اور افضل کون ہو سکتا ہے جو اپنے وعدوں کو بطریق احسن وفا کرسکے ۔
نہ خدا توانمش خواند، نہ بشر توانمش گفت
متحیرم چہ نامم شہ ملک  لافتیٰ را
 ترجمہ: علی کو نہ خدا کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی بشر کہہ سکتے ہیں میں حیرانی میں سرگرداں ہوں کہ مملکت لافتیٰ کے بادشاہ کو کس نام سے پکاروں۔!!!
بہ دوچشم خونفشانم ھلہ ای نسیم رحمت
کہ زکوی او غباری بہ من آر تو تیارا
ترجمہ: اے نسیم رحمت ! میری دونوں خون فشان آنکھوں کی صحت وشفاء کے لئے علی کے کوچہ سے گردو غبار لادو۔
بہ امید آنکہ شاید برسد بہ خاک پایت
چہ پیام ھا سپردم ھمہ سوز دل صبا را
ترجمہ: اے میرے ممدوح! میں ابھی تک درد دل پر مشتمل کتنے پیغام اس امید کے ساتھ باد صبا کے سپرد کرچکا ہوں کہ شاید آپ کے مبارک قدموں کی خاک تک پہنچ جاؤں۔
چو تویی قضای گردان بہ دعای مستمندان
کہ زجان ما بگردان رہ آفت قضا را
ترجمہ: آپ ہی قطب عالم امکان ہیں غریب اور ناداروں کی دعاؤں کے طفیل زمانے کے رنج والم اور آفات وبلیات سے ہماری جان کو نجات بخش دیں۔
چہ زنم چو نای ھردم زنوای شوق او دم
کہ لسان غیب خوشتر بنوازد این نوارا
ترجمہ: میں مولا علی علیہ السلام کے عشق میں کیسے ہمہ وقت مترنم رہوں کہ لسان الغیب ''حافظ شیرازی''مجھ سے کہیں بہتر اس ترنم میں مشغول ہیں۔
ھمہ شب در این امیدم کہ نسیم صبحگاہی
 بہ پیام آشنائی بنوازد آشنا را!
 یہ شعر حافظ شیرازی لسان غیب کاہے۔
ترجمہ: پوری رات میں نے باد صبا کے انتظار میں گزاردی کہ نسیم صبا میرے مولا کی طرف سے پیغام لیکر آئے اور میرے دل کو سکون حاصل ہو۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 13 =