۱۷ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 7, 2021
News Code: 366070
25 فروری 2021 - 20:13
مولانا سید علی ہاشم عابدی 

حوزہ/ مولی الموحدین، امیرالمومنین، امام المتقین ، یعسوب الدین، قائد غرالمحجلین غالب کل غالب، مطلوب کل طالب مولانا علی بن ابی طالب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جملہ ممکنات پر فضیلت عطا کی۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | مولی الموحدین، امیرالمومنین، امام المتقین ، یعسوب الدین، قائد غرالمحجلین غالب کل غالب، مطلوب کل طالب مولانا علی بن ابی طالب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جملہ ممکنات پر فضیلت عطا کی ، جیسا کہ خود مولا نے خطبہ شقشقیہ میں ارشادفرمایا: ینحدر عنی السیل و لا یرقی الی الطیر کہ علم و حکمت و فضل کا سیلاب ہم سے جاری ہوتا ہے اور کسی کے طائر فکر کی ہماری بلندی تک رسائی نہیں ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات آپ کا قصیدہ پڑھتی نظر آتی ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث آپ کے فضائل کو بیان کر رہی ہیں۔ جیسے حدیث غدیر، حدیث منزلت، حدیث طیر، حدیث ثقلین، حدیث مدینۃ العلم وغیرہ

ذیل میں امیرالمومنین علیہ السلام کی چند خصوصیات کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے۔ 

۱۔حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے جس جنگ میں بھی شرکت کی فاتح ہوئے۔ ( طبرانی، معجم الاوسط ۳/۸۷ (۲۱۷۶)؛ مسند احمد ۱/۱۹۹ (۱۷۲۰))

۲۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عَلی اَشْجَعُ النّاسِ قَلْبا  (دل کے حوالہ سے علیؑ لوگوں میں سب سے  زیادہ شجاع ہیں۔  ابن مغازلی، مناقب علی بن ابی طالب / ۱۴۳ (۱۸۸))

۳۔ مقابل کو ایک وار میں قتل کر دیتے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ کانت ضرباته وترا (انکا وار ایک ہی ہوتا۔ ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه ۱ / ۲۰)

۴:  حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:  علی سیفُ اللّه عَلی اَعْدائِهِ (علیؑ شمشیر خدا ہیں اس کے دشمنوں پر۔ شیخ صدوق، الامالی / ۶۱.)

۵۔  امیرالمومنین علیہ السلام زیادہ تر پیادہ جنگ کرتے اور اگر کبھی سوار بھی ہوتے تو سواری انکے لئے اہم نہیں تھی۔ اس سلسلہ میں جب آپ سے سوال کیا گیا تو فرمایا:سواری دشمن کا پیچھا کرنے اور میدان سے جان بچا کر بھاگنے کے کام آتی ہے مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ (ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب ۳ / ۲۹۸.)

۶: حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی زرہ صرف سینہ پر ہوتی پشت زرہ سے خالی ہوتی ۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا: میں ہمیشہ دشمن کے سامنے ہوتا ہوں کبھی پشت نہیں دکھاتا۔ (ابن بکار، الاخبار الموفقیات / ۳۴۳ (۱۹۴)؛ ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه ۲۰ / ۲۸۰.)

۷۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شجاعت و بہادری کا رعب و دبدبہ اس قدر کفار و مشرکین کے دلوں میں تھا کہ جب بھی وہ آپ کو میدان جنگ میں دیکھتے تو ایک دوسرے سے وصیت کرتے جیسے اپنی موت کو سامنے دیکھ رہے ہوں۔ (ابن مغازلی، مناقب علی بن ابی طالب / ۱۴۰ (۱۰۹)؛ زمخشری، ربیع الابرار ۳ / ۳۱۹)

۸۔ جب بھی دو فوجیں آمنے سامنے ہوتیں تو لوگ کہتے کہ ملک الموت اس فوج میں ہیں جہاں علیؑ ہیں اور مقابل لشکر کے لئے ہلاکت ہے۔ (راغب اصفهانی، المحاضرات ۳ / ۱۳۸)

۹۔ ایک دن امیرالمومنین علیہ السلام کے لشکر کے ایک کمانڈر نے عرض کیا کہ اگر ہم دوران جنگ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے تو آپ ہمیں کہاں ملیں گے تو فرمایا : جہاں جدا ہوئے وہیں ملیں گے۔ (کیوں کہ ہم اپنی جگہ ثابت قدم رہیں گے۔ ) (ابشیهی، المستطرف ۱ / ۱۷۸ باب ۴۱.)

۱۰۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: وَ اللّه لَو تَظاهَرَتِ الْعَرَبُ عَلی قِتالی لَمّا وَلَّیتُ عَنها (اگر تمام عرب مجھ سے جنگ کے لئے نکلیں تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گااور ان سے قتال کروں گا۔  (نهج البلاغه، نامه ۴۵.)

۱۱۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے مولا علی علیہ السلام کی شادی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر علیؑ نہ ہوتے تو فاطمہؑ کا کوئی کفو نہ ہوتا۔ (روضۃالواعظین، صفحہ ۱۴۶)

۱۲۔ مولود کعبہ: نہ امیرالمومنین علیہ السلام سے پہلے کسی کو یہ شرف ملا کہ وہ کعبہ میں پیدا ہو اور نہ آپؑ کے بعد کسی کو یہ فضیلت ملی۔ (الغدیر جلد ۶، صفحہ ۲۱)

۱۳۔ لقب امیرالمومنین: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کو اس لقب سے ملقب فرمایا، جب کہ آپ سے قبل نہ کسی کو یہ لقب ملا اور نہ ہی استعمال ہوتا تھا۔ مولا علیؑ کے بعد بھی کسی معصوم امام نے اپنے کو امیرالمومنین نهیں کہلوایا  (نورالامیر فی تثبیت خطبۃ الغدیر صفحہ ۹۷)

۱۴۔ سد الابواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم خدا سے اپنے اور مولا علیؑ کے گھر کے دروازے کے علاوہ تمام لوگوں کے دروازوں کو بند کر دیا جو مسجد النبیؐ میں کھلتے تھے۔ (بحارالانوار جلد۳۹، صفحہ ۳۵)

۱۵۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھائی ہونا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےمدینہ ہجرت سے پہلے مہاجرین کے درمیان اور ہجرت کے بعد جب انصار و مہاجرین کے درمیان عقد اخوت قائم کیا تو دونوں مقام پر صرف امیرالمومنین علیہ السلام کو اپنا بھائی بتایا۔ (الاستیعاب جلد ۳،صفحہ ۱۰۹۷)

۱۶۔ اسلا م میں سبقت : تمام شیعوں اور بعض اہلسنت کے مطابق مردوں میں سب سے پہلے مولا علی علیہ السلام اسلام لائے۔ (السنن الکبریٰ جلد ۵، صفحہ ۱۰۷)

۱۷۔ تبلیغ آیات برائت: تمام مفسرین و مورخین کے مطابق جب سورہ توبہ نازل ہوا تو اس سورہ یا اسکی ابتدائی چند آیتوں کی تبلیغ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے ایک صاحب کو بھیجا لیکن حکم خدا ہوا کہ انہیں واپس بلا لیں تو حضورؐ نے مولا علیؑ کو بھیجا ، مولا علیؑ نے ایام حج میں مشرکین کے مجمع میں اسکی تلاوت کی۔(تفسیر نمونہ جلد ۷، صفحہ ۲۷۵۔ مسند احمد بن حنبل جلد۵، صفحہ ۱۷۹)

۱۸۔ حالت رکوع میں زکات دینا: حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے حالت رکوع میں فقیر کو انگوٹھی عطا فرمائی تو آیت ولایت نازل ہوئی۔( الدر المنثور، جلد ۲، صفحہ ۲۹۳)

۱۹۔سورج کا پلٹنا: اس واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے امیرالمومنین علیہ السلام کے لئے سورج پلٹا۔ اسی طرح امیرالمومنین علیہ السلام کے دور حکومت میں جب آپ اپنے لشکر کے ساتھ سفر جنگ میں تھے تو آپ نے سورج پلٹایا اور لشکر میں جن لوگوں نے نماز عصر نہیں پڑھی تھی انھوں نے نماز پڑھی ۔  (ارشاد مفید، جلد ۱، صفحہ ۳۴۶)

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 1 =