جمعہ 21 مارچ 2025 - 19:19
قرآن کریم اور اطاعت علی علیہ السلام

حوزہ/ امیر المومنین حضرت علی ؑ کے یوم شہادت کے موقع پر آئیے اپنے افکار و اعمال کی روشنی میں جائزہ لیں کہ ہم اپنی زندگی میں حضرت علی ؑ کی کتنی اطاعت کر رہے ہیں۔ ہمیں احتسابی نظر ڈالنی چاہیے کہ ہم حضرت علی ؑ سے دوستی کا تعلق نبھاتے ہوئے آپ ؑ کے دوستوں سے دوستی اور آپ ؑ کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہیں؟

تحریر: علامہ محمد رمضان توقیر مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان

حوزہ نیوز ایجنسی I خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ذیشان ہے کہ ” یاعلی ما عرفک حق معرفتک غیر اللہ و غیری “ یعنی اے علی ؑ تمہیں میرے اور اللہ کے سوا کسی نے نہیں پہچانا ہی نہیں۔ اگرچہ اس مستند اور مسلّمہ حدیث کے بعد امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام پر بات کرنا یا بات لکھنا بنتا ہی نہیں اور نہ ہی کسی کی بات بن سکتی ہے لیکن ”ذکر علی عبادۃ “ کے نبوی حکم کو سامنے رکھتے ہوئے ہم امیرالمومنین ؑ کے ذکر میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے نبی ص کی ارشاد فرمائی ہوئی باتوں کا مختصر تذکرہ کریں تو ہماری بات کسی حد تک لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علی ابن ابی طالب کے بارے میں اپنے پاک کلام یعنی قرآن کریم میں باتیں کی ہیں جبکہ پیغمبر اکرم ص نے احادیث مبارکہ کے ذریعے علی ؑ کی باتیں کی ہیں۔

احادیث مبارکہ کے بارے میں تو مستند اور صحیح کی بحث ہوسکتی ہے لیکن کلام الٰہی کے بارے میں اس قسم کی کوئی بات نہیں کی جاسکتی حتی کہ سوچی بھی نہیں جا سکتی۔ اس لئے ہم آج علی ؑ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کی باتیں بیان کریں گے یعنی آیات قرآنی کا تذکرہ کریں گے۔

سورہ رعد آیت ۷ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ” انما انت منذر و لکل قوم ھاد “ بیشک میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لیے ایک ھادی (رہبر) ہے۔ مستدرک الصحیحین جلد ۳ صفحہ ۹۲۱ کے مطابق حضرت عباد بن عبداللہ اسدی ‘ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؑ نے مذکورہ آیہ مجیدہ کی تفسیر میں فرمایا ”رسول خدا ص منذر یعنی ڈرانے والے ہیں اور میں ہادی ہوں“۔ اسی طرح تفسیر ِ طبری جلد ۳۱ صفحہ ۲۷ پر حضرت ابن ِ عباس کا بیان ہے کہ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو رسول اکرم ص نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور فرمایا ”میں منذر ہوں اور ہر قوم کے لیے ایک رہنماء کی ضرورت ہے۔ پھر اپنا ہاتھ حضرت علی علیہ السلام کے سینے پر رکھ کر فرمایا اے علی ؑ تم ہادی ہو اور میرے لوگ تمہارے ذریعے سے ہدایت پائیں گے“۔ مذکورہ روایت کو سیوطی نے بھی درِ منثور میں اسی آیت مجیدہ کے ذیل میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کو ابن مردویہ‘ ابو نعیم‘ ابن عساکر اور ابن نجار نے بھی نقل کیا ہے۔

سورہ سجدہ آیت ۸۱ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’ افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون “ بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نا فرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے“۔ تفسیر طبری جلد ۱۲ صفحہ ۸۶ کے مطابق عطاء بن یسار کہتے ہیں مذکورہ آیت مدینہ میں حضرت علی ؑ اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کے درمیان کچھ سختی اور گرمی پیدا ہوئی۔ ولید بولا میری زبان رواں تر اور میرا نیزہ تیز تر ہے اور میں دشمن کی صفوں کو الٹنے میں تجھ سے کہیں زیادہ مہارت رکھتا ہوں۔ حیدر کرار ؑ نے فرمایا خاموش ہوجا۔ تُو فاسق ہے۔ پس اس بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ ”بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتا پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دئیے ان کے لیے (بہشت کے) باغات ہیں۔ یہ سامان ِ ضیافت ان کار گذاریوں کا بدلہ ہے جو وہ دنیا میں کر چکے تھے اور جن لوگوں نے بدکاری کی ان کا ٹھکانا تو بس جہنم ہے کہ وہ جب اس میں سے نکل جانے کا ارادہ کریں گے تو پھر اسی میں دھکیل دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس آگ کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ مذکورہ اس مضمون کو زمخشری ‘ سیوطی ‘ واحدی ‘ خطیب بغدادی اور محب طبری نے بھی نقل کیا ہے۔

سورہ ہود آیت ۷۱ میں خالق کائنات کا ارشاد گرامی ہے ” افمن کان علی بینۃ من ربہ و یتلوہ شاھد منہ “ کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی میں سے ایک گواہ ہو۔ سیوطی مذکورہ آیہ مجیدہ کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں ابن حاتم ‘ ابن مردویہ اور ابو نعیم نے کتاب المعرفہ میں حضرت علی ابن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ”قریش میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں کہ جس کے بارے میں کچھ آیات نازل نہ ہوئی ہوں۔ ایک آدمی نے عرض کی کہ آپ کی شان میں کون سی آیت نازل ہوئی ہے؟ آپ ؑ نے فرمایا کیا تم نے سورہ ہود کی یہ آیت نہیں پڑھی جس میں ارشاد ہے ”کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی میں سے ایک گواہ ہو۔ (اس کی تفسیر یہ ہے کہ) ” رسول خدا ص اپنے رب کی روشن دلیل اور میں ان کا گواہ ہوں“۔ واضح رہے یہ روایت ابن مردویہ اور ابن عساکر کے حوالے سے کنزالعمال میں بھی نقل ہوئی ہے۔ سیوطی پھر لکھتے ہیں ”ابن مردویہ اور ابن عساکر نے اس آیہ مجیدہ کت تفسیر کے سلسلے میں حضرت علی ؑ نے روایت کی ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا ”رب کی روشن دلیل سے مراد رسول اللہ ص اور ان کے گواہ سے مراد میں ہوں“۔

سورہ تحریم آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ذیشان ہے ” فان اللہ ھو مولٰہ و جبریل و صالح المومنین “ پس خدا اور جبرائیل اور تمام اہل ایمان میں سے نیک شخص ان کے مددگار ہیں۔ مردویہ ‘ اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ” میں نے خود رسول اکرم ص کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”صالح المومنین “ سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں “۔ واضح رہے کہ مذکورہ مضمون کو متقی ہندی ‘ ابن حجر ہیثمی اور ابن حجر عسقلانی نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ (کنز العمال جلد ۱ صفحہ ۳۲۔ الصواعق المحرقہ صفحہ ۴۴۱۔ فتح الباری جلد ۳۱ صفحہ ۷۲)

ہیثمی مجمع الزوائد جلد ۹ صفحہ ۴۹۱ میں رقمطراز ہیں ”حبیب بن یسار سے مروی ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد صحابی رسول ص جناب زید بن ارقم ؓ نے مسجد کوفہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا ”جانتے ہو تم نے کس قدر بھیانک کام انجام دیا ؟ میں نے خود آنحضرت ص کو یہ فرماتے ہوئے سنا ”بار الٰہا ان دونوں بچوں (حسنین شریفین) اور صالح المومنین (حضرت علی ؑ) کو تیرے سپرد کرتا ہوں“ ایک آدمی نے عبیداللہ ابن زیاد کو یہ خبر دی کہ زید بن ارقم ایسے کہہ رہے تھے تو اس نے کہا ” اس بوڑھے فرتوت کی عقل زائل ہوگئی ہے“۔

سورہ بقرہ آیت ۴۷۲ میں خداوند عالم کا ارشاد ہوتا ہے ” الذین ینفقون اموالہم بالیل والنھار سرا و علانیۃ فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “ جو لوگ رات اور دن میں‘ چھپا کے یا دکھا کے‘ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس اجر (ثواب) ہے اور (قیامت میں) نہ ان پر کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ آزردہ خاطر ہوں گے۔ ابن اثیر جزری نے اسد الغابہ جلد ۲ صفحہ ۵۲ میں دو طریق سے روایت کی ہے کہ جناب ابن عباس ؓ نے مذکورہ آیہ مجیدہ کے بارے میں کہا کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ ایک دفعہ ان کے پاس چار درہم تھے جن میں سے آپ ؑ نے ایک درہم کو رات میں‘ ایک درہم کو دن میں‘ ایک درہم کو خفیہ طور پر اور ایک درہم کو اعلانیہ طور پر راہِ خدا میں خرچ کیا (تو یہ آیہ مجیدہ نازل ہوئی)۔ اس روایت کو زمخشری نے کشاف‘ سیوطی نے تفسیر در منثور اور ہیثمی نے مجمع الزوائد میں بھی نقل کیا ہے۔

مذکورہ بالا آیات کا ذکر ”مشتے نمونے از خروارے“ کی مثل ہے۔ تمام مکاتب فکر کے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم میں حضرت علی علیہ السلام کی شان میں تین سو آیات نازل ہوئی ہیں جن کا تفصیلی ذکر کئی کتب کا احاطہ کرے گا۔ نبی اکرم ص کا فرمان بھی سب کے سامنے ہیں کہ قرآن علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی ؑ قرآن کے ساتھ ہے اور یہ دونوں کبھی آپس میں جدا نہیں ہوں گے۔ حضرت علی ؑ کی پیروی اور اطاعت پوری امت پر اس لئے بھی واجب ہے کہ اس کا حکم قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے براہ راست فرمایا ہے جبکہ سیکڑوں احادیث نبوی اور متعدد بار سیرت نبوی کے ذریعے بھی رسول اللہ ص کا حکم ہم تک پہنچا ہے۔ رسول اللہ ص کے حکم کی اطاعت بھی ہم پر اسی طرح واجب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ماننا واجب ہے۔ لہذا اللہ اور رسول ؐ کے احکامات کے تحت حضرت علی ؑ کی اطاعت ہم پر واجب ہے۔

امیر المومنین حضرت علی ؑ کے یوم شہادت کے موقع پر آئیے اپنے افکار و اعمال کی روشنی میں جائزہ لیں کہ ہم اپنی زندگی میں حضرت علی ؑ کی کتنی اطاعت کر رہے ہیں۔ ہمیں احتسابی نظر ڈالنی چاہیے کہ ہم حضرت علی ؑ سے دوستی کا تعلق نبھاتے ہوئے آپ ؑ کے دوستوں سے دوستی اور آپ ؑ کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہیں؟ آئیے جائزہ لیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha