۱۷ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 7, 2021
امام علی

حوزہ/ شیعہ اور اہلسنت کے اکثر مؤرخین کے مطابق آپ ؑ کی ولادت با سعادت 13 رجب المرجب 30 عام الفیل بروز جمعہ(23 سال قبل از ہجرت) کعبہ کے اندر ہوئی ،رسول خدا(ص) نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو سب سے پہلے آپؑ ایمان لے آئے ، شیعوں کے مطابق آپ بحکم خدا رسول اللہ کے بلافصل خلیفہ اور جانشین ہیں۔

حضرت علی (ع) کا مختصر تعارف
حوزہ نیوز ایجنسی | امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام رسول اللہ(ص)  کے جانشین ، چچازاد بھائی،داماد اور شیعوں کے پہلے امام ہیں؛ آپ کے والد بزرگوار حضرت ابو طالب(ع) اور آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد(س)  ہیں ، شیعہ اور اہلسنت کے اکثر مؤرخین کے مطابق آپ ؑ کی ولادت با سعادت 13 رجب المرجب 30 عام الفیل بروز جمعہ(23 سال قبل از ہجرت) کعبہ کے اندر ہوئی ،رسول خدا(ص) نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو سب سے پہلے آپؑ ایمان لے آئے ، شیعوں کے مطابق آپ بحکم خدا رسول اللہ کے بلافصل خلیفہ اور جانشین ہیں۔
تاریخ اسلام میں ہے کہ حضرت علی علیہ السّلام کے امتیازی اوصاف وکمالات اور خدمات کی بنا پر رسول (ص) بہت زیادہ عزت کرتے تھے اور اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو بیان کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ ” علی (ع) مجھ سے ہیں اور میں علی (ع) سے ہوں‘‘ کبھی یہ کہا کہ ” میں علم کاشہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہے ‘‘ کبھی یہ کہا’’تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی(ع) ہے ‘‘کبھی یہ کہاکہ’’علی (ع) کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسيٰ (ع) سے تھی‘‘کبھی یہ کہاکہ ” علی (ع) مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتا ہے”
کبھی یہ کہ” وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں‘‘یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفس رسول کاخطاب ملا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو عليؑ کادروازہ کھلا رکھا گیا جب مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر (ص)نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیااور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے جمع غفیر میں علی علیہ السّلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں سرپرست اورحاکم ہوں اس اس کے علی علیہ السّلام سرپرست اور حاکم ہیں ۔یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ السّلام کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے علی علیہ السّلام کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے۔
نہج البلاغہ جو کہ حضرت علی (ع) کے خطبات،خطوط اور فرامین کا مجموعہ اور مقدس ترین کتاب ہے یہ ایسی با عظمت کتاب ہے جس کو دونوں فریق (سنی و شیعہ) کے علماء مقدس اور محترم سمجھتے ہیں، آپ نے اپنی شخصیت اور عظمت کو اس کتاب میں جس طرح تعارف کرایا ہے اسے اختصار کے ساتھ آپ قارئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔
آغوش رسول(ص) کے پروردہ
حضرت امام علی علیہ السلام وہ ذات پُربرکت ہیں جن کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ کی پرورش رسول خدا (ص) کی آغوش میں ہوئی ہے، رسول خدا (ص) کی آغوش میں پرورش پانے والے کامل اور اکمل انسان نہج البلاغہ میں یوں فرماتے ہیں:
’’وَقَدْ عَلِمْتُمْ مَوضَعِی مِن رَسُولِ الله بِالقَرَابَة القَرِيْبَةِ وَ المَنْزِلَةِ الخَصِيْصةَ وَضعنی ِفی حِجْرِہِ وَ اٴنَا وَلَدٌ يَضُمَّنِی إليٰ صَدْرِہِ، وَ يَكْنُفْنِی فِی فَرَاشِہِ ۔۔۔ وَ كَان يَمْضَغُ الشَّی ثُمَّ يُلْقِمُنِيْہِ‘‘۔
”امام علیہ السلام فرماتے ہیں (اے لوگو) تم رسول خدا کے ساتھ میری منزلت کو جانتے ہو،میں آپ کا قریبی رشتہ دار اور آپ کے خواص سے ہوں، رسول اللہ مجھے بچپن میں اپنی آغوش میں بٹھاتے تھے اور اپنے سینے سے لگایا کرتے تھے، مجھے اپنے ساتھ سلاتے تھے، میرا بدن آپ کے بدن سے مس ہوتا تھا میں آپ کی خوشبو سونگھتا تھا۔
حضرت علی (ع) وحی کے آغاز سے ہی پیغمبر(ص) کے ساتھ تھے
امام علی علیہ السلام وہ بلند مقام شخصیت ہیں جنورں نے نور وحی کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایا اس لئے تو رسول ختمی مرتبت نے فرمایا تھا، اے علی جو میں دیکھتا ہوں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں جو میں سنتا ہوں وہ آپ بھی سنتے ہیں۔
امام علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
’’وَ لَقَدْ كَانَ يُجَاوُرِ فِی كُلّ سَنَةٍ بِحْرَاءَ فَاٴرَاہُ وَلَا يَراہُ غَیرِی، وَلَمْ يَجْمَعْ بَيْتٌ وَاحِدٌ يَومَئِذٍ فِی إلاسُلَامِ غَيْرَ رَسُولَ الله (ص)، وَ خَدِيْجَةَ وَ اٴنَا ثَالِثُہُمَا“۔
’’امام فرماتے ہیں رسول خدا (ص) ہر سال کچھ عرصہ غار حرا میں جایا کرتے تھے، میں ان کو دیکھتا تھا ، اُس زمانہ میں واحد گھر جس میں رسول خدا (ص)اور جناب خدیجہ اور تیسر ا میں تھا کوئی اور گھر میں نہیں تھا‘‘۔
اس کے بعدارشاد فرماتے ہیں:
’’اٴرَيٰ نُورَ الْوَحْيِ وَ الرِّسَالَةَ، وَ اٴشُمُّ رِيْحَ النَّبُوَةِ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشِّيْطَانِ حِيْنَ نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْہِ، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا ہَذِہِ الرَّنَّةُ، فَقَالَ (ص) ہٰذَا الشِّيْطَانُ قَدْ اٴيِسْ مِنْ عِبَادَتِہِ، إنَّكَ تَسْمَعُ مَا اٴَسْمَعُ وَ تَريٰ مَا اٴَريٰ إلاَّ اٴنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍ وَ لَكِنَّكَ لَوَزِیرٌ وَ اٴنَّكَ لَعَليٰ خَيْرٍ“۔
’’میں نے نور وحی اور نور رسالت کو دیکھا،خوشبوئے نبوت کو سونگھتا تھا، میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کے رونے کی آواز کو سنا، اور میں نے رسول اکرم (ص) سے پوچھا: یا رسول اللہ یہ کس کے رونے کی آواز ہے تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا: یہ شیطان رو رہا ہے چونکہ وہ آج سے اپنی عبادت سے مایوس ہوگیا ہے، اس کے بعد رسول (ص)نے فرمایا: یا علی جو میں سنتا ہوں آپ بھی سنتے ہیں، اور جو میں دیکھتا ہوں ، آپ بھی دیکھتے ہیں مگر آپ نبی نہیں ہیں، بلکہ میرے وزیر اور جانشین ہیں، اور آپ خیر پر ہیں‘‘۔
ہم تمام امت اسلام کو چیلنج کرکے کہہ سکتے ہیں کہ آؤ ، رسول اسلام کے بعد کوئی ایسی شخصیت دکھاؤ جس کے بارے میں خود رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہو کہ آپ میرے جانشین اور وزیر ہیں، جو میں سنتا ہوں وہ آپ بھی سنتے ہیں جو میں دیکھتا ہوں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں، یہ فخر صرف اور صرف علی بن ابی طالب علیہ السلام کو حاصل ہے، لیکن دنیائے اسلام آج تک پریشان ہے کہ رسول اکرم (ص) کا حقیقی جانشین کون تھا، پس ہم یہ جملہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ علی علیہ السلام کل بھی مظلوم تھے اور آج بھی مظلوم ہیں۔
حضرت علی(ع) پہلا نماز گذار
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’اَللّٰہُمَّ اِنّی اٴوَّلَ مَنْ اٴَنَابَ وَ سَمِعَ وَ اٴجَابَ لَمْ يَسْبِقْنِی إلاَّ رَسول الله بالصَّلاة“۔
’’میں وہ سب سے پہلا شخص ہوں جس نے رسول اکرم (ص) کی طرف رجحان پیدا کیا اور اُن کی دعوت کو سنااور قبول کیا، میں سب سے پہلا نماز گزار ہوں، رسول(ص) کے علاوہ کوئی شخص ”مجھ سے پہلا نمازی نہیں ہے‘‘ نمازی نیںر ہے‘‘۔
حضرت علی (ع) جانثار رسول خدا(ص)
امام علی علیہ السلام خطبہ نمبر ۱۹۷ میں ارشاد فر ماتے ہیں:
’’وَ لَقَدْ عَلِمَ المُسْتَحْفِظُونَ مِنْ اٴصْحَابِ مُحَمَّدٍ(ص) اٴَنِّی لَمْ اَرُدُّ عَليٰ الله وَ لَا عَليٰ رَسُولِہِ سَاعَةً قَطُّ، وَ لَقَدْ وَاسَيْتُہُ بِنَفْسِی فِی المَوَاطِنِ الَّتِی تَنْكُصُ فِيْہَا الاٴبْطَالُ وَ تَتَاٴخَّرُ فِيْہَا الاٴقْدَامُ، نَجْدَةً اٴكْرَمَنِی الله بِہَا“۔
’’اصحاب محمد میں سے صاحبان اسرار جانتے ہیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا و رسول (ص) کی مخالفت نیںِ کی، بلکہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مشکل مقامات پر ان کی نصرت کی جہاں بڑے بڑے سورما بھاگ جاتے تھے، اور اُن کے قدم لڑکھڑا جاتے تھے، خدا نے اس شجاعت و دلیری کے ذریعہ میری لاج رکھی ”اور میں نے پیامبر کا دفاع کیا‘‘۔
حضرت علی (ع) کی علمی شخصیت
پیغمبر عظیم الشان اسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ ”میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ“ ، جن افراد کو شہرعلم تک پہنچنا ہے ان کو دو دفعہ علی (ع) کا محتاج ہونا ضروری ہے ایک دفعہ جاتے ہوئے اور دوسری مرتبہ واپس آتے ہوئے، امام علیہ السلام نہج البلاغہ میں اپنی علمی شخصیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
’’فَاٴسْاٴلُوْنِی قَبْلَ اٴنْ تَفْقِدُوْنِی فَوَ الَّذِی نَفْسِی بِيَدِہِ لَاتَسْاٴلُوْنِی عَنْ شَيٍ فِيْمَا بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ السَّاعَةِ وَ لَا عَنْ فِئۃٍ تَہْدِی مِاَئةً وَ تُضِلُّ مِاَئةً إلاَّ اٴَنْبَاتُكُمْ بِنَاعِقَہَا وَ قَائِدَہَا وَ سَائِقِہَا“۔
”مجھ سے بوچھ لو قبل اس کے کہ میں تمابرے درمیان نہ رہوں، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، ممکن نہیں ہے کہ تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمیں جواب نہ دے سکوں، میں آج سے قیامت تک کے واقعات کی خبر دے سکتا ہوں، ایک گروہ جو سو بندوں کو ہدایت کرتا ہے یا سو بندوں کو گمراہ کرتا ہے وہ بھی بتا سکتا ہوں، اُن کے ہانکنے والے ان کے رہبروں اور ان کے سربراہوں کے بارے میں مطلع کرسکتاہوں“۔
حضرت علیؑ اور شہادت طلبی
کبھی آپ نے میدان جنگ سے فرار نہ فرمایا، نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۲ میں فرماتے ہیں:
’’وَ مِنَ الْعَجَبِ بَعْثُہُمْ إليٰ اٴنْ اٴبْرَزَ لِلطَّعَانِ! وَ اٴنْ اٴَصْبِرْ لِلْجَلَادِ، ہَبَلَتْہُمْ الہَبُوْلُ، لَقَدْ كُنْتُ َو مَا اٴَہَدَّدَ بِالْحَرْبِ وَ لَا اٴَرْہَبُ بِالضَّرْبِ، وَ اِنِّی لَعَليٰ يَقِيْنٍ مِنْ رَبِّی وَ غَيْرَ شُبْہَةٍ مِنْ دِيْنِی“۔
”مجھے تعجب ہے اُن پر جو مجھ سے چاہتے ہیں کہ میں ان کے نیزوں کے سامنے حاضر ہوجاؤں، اور ان کی تلوار کے سامنے صبر کروں، سوگوار ان کے غم میں روئیں، میں نہ جنگ سے ڈرتا ہوں اور نہ تلوار سے خوف زدہ ہوں، میں خدا پر یقین رکھتا ہوں، اور شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں‘‘۔
حضرت علی (ع) کی عدالت
امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
’’وَ الله لَقَدْ رَاٴئتُ عَقِيْلاً وَ قَدْ اٴمْلَقَ حَتيّٰ اَسْتَمَاحَنِی مِن بُرِّكُمْ صَاعاً وَ رَائتُ صِبْيَانَہُ شُعْثَ الشُّعُوْرِ غَبِرَ الاٴلْوَانِ مِنْ فَقْرِہِمْ كَاٴنَّمَا سوِّدَتْ وُجُوْہُہُمْ بِالْعَظْمِ وَ عَاوَدَنِی مُوٴَكِّداً“۔
’’خدا کی قسم میں نے دیکھا کہ میرا بھائی عقیل تنگ دست ہے، اور اُس نے مجھ سے درخواست بھی کی کہ بیت المال سے کچھ وظیفہ بڑھادوں اور میں نے ان کے بچوں کو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے اُن کے حال اور رنگ متغیر ہوچکا تھا، عقیل نے بار بار اصرار بھی کیا۔۔۔ تاکہ میں عدالت سے ہاتھ اٹھالوں، لیکن میں نے لوہے کی گرم سلاخ کو عقیل کی طرف بڑھایا، عقیل چونکے، اے بھائی مجھے آگ سے جلانا چاہتے ہو تو میں نے کہا: اے عقیل تم دنیا کی آگ میں جلنا پسند نہیں کرتے لیکن مجھے جہنم کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہو جو زیادہ سخت ہے‘‘۔
حضرت علی (ع) کا زہد و تقويٰ
امام علی علیہ السلام کے زہد و تقويٰ کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کو خبر دی گئی کہ عثمان بن حنیف جو بصرہ کا گورنر تھا وہ کسی ایسی دعوت میں اور ایسی محفل میں شامل ہوا ہے جہاں سب اُمراء شریک تھے، اس میں غریب نہ تھے، تو امام علی علیہ السلام نے اس کے پاس ایک خط لکھا اور متنبہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’اَلاَ وَ إنَّ لِكُلِّ مَامُوْمٍ اِمَاماً يَقْتَدِی بِہِ۔۔۔ اِلاَّ وَ اِنَّ اِمَامَكُمْ قَدْ اِكْتَفيٰ مِنْ دُنْيَاہُ بِطِمْرَيْہِ وَمِنْ طَعْمِہِ بِقُرْصَيْہِ“۔
”اے حنیف کے بیٹے!“ آگاہ رہو کہ ہر ماموم کے لئے ایک امام ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور اس کے علم کے نور سے روشنی حاصل کرتا ہے، کیا تمہیں نہیں معلوم آپ کا امام دنیا سے دو پُرانے کپڑے پہن کر اور دو خشک روٹیاں کھا کر گزر بسر کرتا ہے، (اور تم ایسی دعوت میں شریک ہوتے ہو)۔
نیاز مندوں کے ساتھ ہمدردی
امام علی علیہ السلام محتاج اور نیازمند لوگوں کے ساتھ ہمدردی فرماتے تھے، چنانچہ آپ ہی کا فرمان ہے:
’’اٴَقْنَعَ مِنْ نَفْسِی بِاٴنْ يُقَالُ ہَذَا اٴمِيْرُ الْمُوْمِنِيْنَ وَ لَا اُشَارِكْہُم فِی مَكَارِہِ الدَّہْرِ“۔
”کیا میں اس بات پر اپنے نفس کو قانع کرلوں کہ مجھے امیر المومنینؑ کہا جائے، جبکہ ان کی مشکلات اور تلخیوں کے ساتھ شریک نہ ہوں، بلکہ میں مشکلات میں ان کے لئے نمونہ بنوں گا، میں ”علی“ لذیذ غذا کھانے کے لئے پیدا نہیں ہوا ہوں جیسا کہ حیوانات کا پورا ہم و غم چارہ اور گھاس ہوتا ہے۔
حضرت علی (ع)اور حق محوری
امام علیہ السلام حق پرست، حق جو، حق دوست اور حق گو تھے، جیسا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:”علی مع الحق، و الحق مع علی“علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع)کے ساتھ ہے۔
امام علیہ السلام کو پورا جہاد حق کے قیام کے لئے تھا، چنانچہ آپ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
”وَ الله لَہِيَ اٴحَبُّ إلَيَّ مِنْ إمْرَ تِكُمْ إلاَّ اٴَنْ اٴُقِيْمَ حَقّاً اٴوْ اٴَدْفَعَ بَاطِلاً“۔
”قسم بہ خدا! میرے اس جوتے کی قیمت تم پر حکومت کرنے سے زیادہ ہے مگر یہ کہ اس کے ذریعہ سے حق کو قائم کرسکوں اور باطل کو مٹا سکوں“۔
اس کے بعد اسی خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’فَلا نْقَبَنَّ الْبَاطِلَ حَتّيٰ يَخْرُجُ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِہِ“۔
’’میں باطل کو شگافتہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں“۔
قارئین کرام! ان جملوں کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی حق دوستی اور حق محوری روشن ہوجاتی ہے۔
حضرت علی اور وداع پیغمبر(ص)
امام علی علیہ السلام پیغمبر اسلام کے فدا کار سپاہی اور جانثار ساتھی تھے، اور آخری لمحات تک پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت ِاقدس میں رہے، یہاں تک کہ رسول اکرم (ص) کی رحلت کے وقت وداع کرنے والے بھی آپؑ ہی تھے، وداع پیغمبر(ص) کو نہج البلاغہ میں یوں بیان فرماتے ہیں:
’’وَ لَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ (ص) وَ إنَّ رَاسَہُ لَعَلٰی صَدْرِی، وَ لَقَدْ سَاٴَلَتْ نَفْسَہُ فِی كَفِّی فَاٴَمْرَرْتُہَا عَليٰ وَجْہِی وَ لَقَدْ وَلَّيْتُ غُسْلَہُ وَ الْمَلَائِكَةُ اٴَعْوَانِی، فَضَجَّتِ الدَّارُ وَ الاٴَفْنیةُ مَلاٌ يَہْبِطُ وَ مَلاٌ يَعْرُجُ وَ مَا فَارَقَتْ سَمْعِی ہَيْنَمَةُ مِنْہُمْ يَصَلُّوْنَ عَلَيْہِ“۔
’’جب رسول خدا (ص) کی روح قبض ہوئی ان کا سر میرے سینے پر تھا، میرے ہاتھوں پر انہوں نے جان دی، میں علیؑ نے پیغمبر(ص) کو غسل دیا جبکہ ملائکہ میری مدد کررہے تھے، فرشتوں کے رونے کی آواز در و دیوار سے آرہی تھی، ان ملائکہ کا ایک گروہ نازل ہوتا تھا ایک آسمان کی طرف جاتا تھا، اُن کی دھیمی آواز میں سن رہا تھا جس کے ساتھ وہ پیغمبر(ص) پر دورد پڑھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ پیغمبر اکرم (ص) کو سپرد خاک کردیا گیا، لہٰذا رسول اسلام (ص) کی زندگی اور موت کے بارے میں مجھ سے بڑھ کر کوئی شخص آنحضرت (ص) کے قریب نہ تھا“۔
قارئین کرام! پیغمبر اکرم (ص) کی پوری زندگی میں علی علیہ السلام آپ کے محافظ اور جانثار کے طور پر آپ کی حفاظت میں مشغول رہے ہر میدان میں آپ کی آواز پر لبیک کہتے رہے یا(ں تک رحلت کے موقع پر جب سب حضرات آپ کا جنازہ چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ میں چلے گئے لیکن وارث رسول غسل و کفن میں مصروف رہا، ان روشن دلیلوں کے باوجود جو آپ کے وارث رسول ہونے میں شک کرے وہ شخص اپنی قسمت پر گریہ کرے۔
شہادت:
ہےافسوس ہے کہ یہ امن ومساوات اور اسلامی تمدّن کا علمبردار دنیا طلب لوگوں کی عداوت سے نہ بچ سکا اور ۱۹ماہ رمضان۴۰ھ کو صبح کے وقت خدا کے گھر یعنی مسجد میں عین حالت نماز میں زہر آلودہ تلوار سے انکے سر اقدس کوزخمی کیا گیا آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آگیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا . اگر میں اچھا ہوگیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگانا ، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاوں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں ، اس لیے کہ یہ اسلامی تعلیمات  کے خلاف ہے ،دو روز تک علی علیہ السّلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور۲۱رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت واقع ہوئی امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام نے تجہیزو تکفین کی اور نجف کی سرزمین میں انسانیت کے عظیم تاجدار کو ہمیشہ کے لیے سپرد خاک کردیا ۔

ہم حوزہ نیوز ایجنسی کی جانب سے جشن مولود کعبہ، جانشین پیغمبر، فاتح خیبر و خندق، مولائے متقیان، مولی الموحدین، مولا امیرالمومنین حضرت علی بن ابیطاب علیہ الصلواۃ و السلام اور روز پدر کے اس پر مسرت موقع پر اپنے تمام قارئین، ناظرین اور چاہنے والوں کی خدمت میں دل کی گہرائی سے ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =