۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
مولانا تقی عباس رضوی

حوزہ/ جشن مولود کعبہ منانے والوں کو اس جشن کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ اس جشن کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ہم پورے طور پر سیرتِ مولائے کائنات سے وابستہ ہوجائیں اور امیر المومنین ؑکے اسوۂ حسنہ کو پوری طرح اپنی عملی زندگی میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت (ع)فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر حجت الاسلام مولانا تقی عباس رضوی نے کہا کہ محبت علیؑ کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں، آپؑ کے بغیرسازِ حیات کے سارے تار بیکار ہیں۔ تیرہ رجب المرجب کا پر مسرت موقع اور  مولائے کائنات کا جشن ولادت آپ سبھی حضرات کو مبارک ہو۔

"جب کبھی ماہ ِ رجب صحن  حرم  سے گزرا مسکراتے ہوئے کعبہ کو علی ؑ یاد آئے"

جانشین رسولؐ، باب مدینۃ العلم حضرت علی المرتضیؑ حق و صداقت کی کھلی کتاب، ہیں آپؑ کی محبت،ایمان اور آپؑ سے بغض،کفراورآپؑ کی سیرت و تعلیمات سے انحراف منافقت ہے، جو عشقِ علی ؑمیں  دیانتدار نہیں وہ قوم و ملت کا بھی دیانتدار نہیں۔

"ہے دوستی علیؑ کی تمنائے کائنات بے لطف اُس بغیر ہے کیا موت کیا حیات"

مولانا موصوف نے کہا کہ جشن مولود کعبہ منانے والوں کو اس جشن کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ اس جشن کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ہم پورے طور پر سیرتِ مولائے کائنات سے وابستہ ہوجائیں اور امیر المومنین ؑکے اسوۂ حسنہ کو پوری طرح اپنی عملی زندگی میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔

سیرت و کردار کی تعمیر سے غافل انسان کا جشن و سرور، بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت کا ایک اہم پہلو اسلام دشمن عناصر اور قوم میں موجود منافقوں کے مقابلے فہم و ادراک اور بصیرت و شعور کا حصول ہے...جہاں فہم و ادراک اور بصیرت کا فقدان ہے وہاں فتنہ و فساد اور گمراہی کے اسباب مہیہ ہیں۔

بصیرت ہی نہ ہو تو روشنی سے کچھ نہیں ہوتا

انہوں نے کہا کہ بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت کا ہونا بھی ضروری ہے جیساکہ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ عالی نے اس دور پر آشوب میں یہ کہہ کر ہمیں اور ہمارے جوانوں کو متنبہ کیا ہے کہ ہمیں بصیرت کو اجاگرکرنے اور لوگوں کے شعور کو بیدارکرنے  کی ضرورت ہے  ۔اگر بصیرت نہ ہو تو ممکن ہے کہ انسان اچھی نیت رکھنے کے باوجود گمراہ ہو جائے اور غلط راستے پر چل پڑے۔جسکی زندہ مثال ہمارے سامنے صفین میں دشمنوں کا اپنایا گیا  حربہ ’’نیزہ پہ قرآن کا بلند کرنا ‘‘ موجودہے اور ان کی یہ سازشیں آج بھی جاری ہیں جب  ہمارا دشمن  شکست سے دوچار ہونے لگتا ہے تو مذہب  کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکےہماری صفوں پھوٹ ڈالتا ہے جس کا مشاہدہ  ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کررہے ہیں  لہذا ہمیں  خاص کر حوزات علمیہ کے مدیران ،اساتید اور طلاب و طالبات کا صاحبِ بصیرت،دوراندیش، اہلِ بینش اور وقت شناس ہونا ضروری ہے ۔۔۔کیونکہ یہ مقولہ مشہور ہے کہ  جس نے خود کی آگاہی کو پاکر خودی پالی سمجھو وہ “نور بصیرت” بھی پا گیا اور جس نے “نور بصیرت” پا لیا سمجھو اس نے دین و دنیا کو کما لیا۔کاش! یہ دولت ہمیں بھی نصیب ہوجاتی آج اقوام عالم میں ہم بے قیمت و بے وقعت نظر آرہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بصیرت کے نور سے محروم ہیں ۔ہماری تباہی و بربادی، ذلت و رسوائی اور عدم ترقی کا سبب ہماری سیاست اور قیادت کا بصیرت کی نورانیت سے محروم ہونا ہے۔موجودہ  کفر و نفاق اور فتنوں کے اس دور میں مولائے کائناتؑ  کی سیرت و کردار پر کار بند ہونا ضروری ہے۔

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے  ہیں : صداقت  و  سچائی  ایمان  کے  بنیادوں  میں  ایک  اہم  بنیاد  ہے

اور صداقت  و  سچائی پر  ہی تمام انسانی معاشرے کا امن  و سکون، راحت  و چین  اور اس  کی  تعمیر و ترقی کی  بنیاد کھڑی ہے ۔ایک  کامیاب،صحت مند اور خوشگوار انفرادی  اور معاشرتی  زندگی  گزار نے کے لئے صداقت و صراحت کا راستہ اختیارکرنا اور اس کی رعایت کرنا نہایت ضروری ہے۔ 

سيدالأوصياء، إمام الأتقياء، عمودالاسلام، مصباح الدجى، منارالهدى، سيدالمسلمين،إ مام المتقين، ركن الإيمان ہرمؤمن کی جان، محافظ رسالت، شیرِ خدا، حیدر کرارحضرت علی ابن ابیطالبؑ علیہ السلام کے حقِ محبت کے حوالے سے عائد ذمہ داریوں پر عمل درآمد ہونا تیرہ رجب کے بابرکت دن اور جشن مولود کعبہ کی رونق کو دوبالا کردیتا ہے۔اس موقع پر مجھے یورپین مفکر تھامس کارلایل کا مولائے علی ؑ کے متعلق کہے گئے فقرات یاد آرہے ہیں کہ: ”ہم علیؑ کواس سے زیادہ نہ جان سکے کہ ہم اُن کو دوست رکھتے ہیں اور اُن کو عشق کی حد تک چاہتے ہیں۔ وہ کس قدر جوانمرد، بہادر اور عظیم انسان تھے۔ اُن کے جسم کے ذرّے ذرّے سے مہربانی اور نیکی کے سرچشمے پھوٹتے تھے۔ اُن کے دل سے قوت و بہادری کے نورانی شعلے بلند ہوتے تھے۔ وہ دھاڑتے ہوئے شیر سے بھی زیادہ شجاع تھے لیکن اُن کی شجاعت میں مہربانی اور لطف و کرم کی آمیزش تھی۔

مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں نام علیؑ اور اولاد علی علیہم السلام پرساری رونقیں موجود ہیں  مگر !ہماری روح اور ہمارا وجود اس رونق و نورانیت  اورہماری روز مرہ کی زندگی ،ہمارے رفتار و گفتار اور ہمارے اعمال و کردار ،مولا علیؑ کی سیرت و کردار اور تعلیمات سے صحیح معنوں میں بے رونق و  بے فیض ہے۔

نور یقیں علی ؑسے ہمیں اقتباس ہے ایمان کی علیؑ کی ولا پر اساس ہے یوم التناد میں بھی علیؑ ہی کی آس ہے بے گاہ و گاہ ناد علیؑ اپنے پاس ہے۔

یقناً! جشن ِ مولود کعبہ کی بزم وِ لا پر خوشیاں منانادرود و سلام پڑھنا اور شکر الہٰی بجا لانا ہم مولائیوں کے لئے واجب کا درجہ رکھتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں  ٹوٹے ہوئے دلوں کو  جوڑنے اور گروہوں میں بٹی ہوئی اپنی برادری کو رشتہ اخوت و محبت میں پرودینا بھی اس جشن کے اہم مقاصد میں شامل ہے جسے ہمیں  ہرگزفراموش نہیں کرنا چاہئیے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =