تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی | یہ جملہ اگر کسی اور دن، کسی اور موقع پر کانوں میں پڑتا تو شاید دل کو اتنا دھچکا نہ لگتا کہ ہمارے ملک میں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں غیر توحیدی ادیانوں سے متعلق بھگوان ہیں کسی نہ کسی کی ولادت کی تاریخ کو روز ہی کلینڈر نشاندہی کرتا ہے۔ مگر جب یہ جملہ 13 رجب کو، مسجد کے دروازے کے قریب، عین وقتِ نماز، شور و ہنگامے، پٹاخوں کی گونج اور بند راستوں کے بیچ سنائی دے—تو یہ صرف الفاظ نہیں رہتے، یہ ایمان کی نبض پر رکھا ہوا خنجر بن جاتے ہیں۔
دل میں تیر بن کر پیوست ہو جاتے ہیں ممبئی کی ایک باریک سی گلی میں اس دن جو منظر تھا، وہ کسی عروس البلاد شہر کا نہیں بلکہ ایک تہذیب کے بحران کا آئینہ تھا۔

مسجدِ ایرانیان کے دروازے سے متصل اسٹیج لگا تھا۔ لال رنگ کے کپڑوں میں ملبوس نوجوان، تیز موسیقی، پٹاخوں کی آوازیں، ٹریفک جام، اور نمازیوں کے لیے تنگ راستہ۔ مسجد کی اذان گویا شور میں دب گئی۔ نماز کا وقت آیا اور گزر گیا، مگر ہنگامہ نہ رکا۔ گویا عبادت کو جشن کے قدموں تلے کچل دیا گیا ہو۔ اور اسی ہجوم میں دو نوجوانوں کی بات سنائی دی—ایک نے پوچھا: “کیا ہے؟” دوسرا بولا: “آج بھگوان کی برتھ ڈے ہے بھائی!”
اس لمحے دل پر جو گزری، وہ بیان سے باہر ہے۔ کیا ہم واقعی یہاں آ پہنچے ہیں؟ کیا علیؑ—وہ علیؑ جو مولود کعبہ ہے جنہوں نے کعبہ میں آنکھ کھولی اور محراب مسجد میں فزت برب الکعبہ کے ساتھ اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے 21 رمضان کو بے نظیر شہادت پائی۔
کیا انہیں بھی ہم نے اس لغزش کے سپرد کر دیا ہے کہ عبودیت کی راہوں کو اپنے لہو کے چراغ سے روشن کرنے والے علی ع کو “بھگوان” کہا جائے؟ جس علیؑ نے توحید کی خاطر ہر شرک و الحاد کے بت کو توڑا ہر باطل کے ہاتھ کو موڑا کیا آج ان کی ولادت کا جشن توحید کو دھندلا دینے کا سبب بن رہا ہے؟
یہ محض ایک لفظی غلطی نہیں۔ یہ فکری انحراف ہے۔ یہ تہذیبی شکست ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم نے علیؑ کو پڑھا نہیں، سمجھا نہیں، حیات علی ع کو جیا نہیں بس ولادت کا جشن منایا ہے۔ اور وہ بھی اس انداز میں کہ عبادت پیچھے رہ گئی، شور آگے آ گیا؛ مسجد پیچھے رہ گئی، اسٹیج آگے آ گیا؛ ذکرِ خدا پٹاخوں کی گونج میں دب گیا۔
13 رجب کوئی معمولی تاریخ نہیں۔ یہ وہ دن ہے جس دن تاریخ نے اپنی آنکھوں سے توحید کو مسکراتے دیکھا۔ یہ وہ دن ہے جس دن کعبہ نے شق ہو کر اس ہستی کو آغوش میں لیا جس کی پوری زندگی “لا الٰہ الا اللہ” کی تفسیر ہے۔ علیؑ کی ولادت پر ضرور جشن ہونا چاہیئےمگر وہ جشن جو نماز کو مضبوط کرے، اخلاق کو سنوارے، عدل کو زندہ کرے، اور بندگی کو گہرا کرے۔ وہ جشن نہیں جو نماز کے راستے بند کرے، اذان کو دبائے، اور عبدیت کو دیومالائی لفظوں میں گم کر دے صدائے ولایت کو پٹاخوں کی صداوں میں گم کردے۔
افسوس اس وقت اور بڑھ گیا جب معلوم ہوا کہ یہ نوجوان کسی دوسرے مذہب سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ایک مردِ مومن نے بتایا: “یہ ہمارے ہی ہیں، شیعہ ہیں۔” تب سوال اور بھی تلخ ہو گیا: اگر ہم ہی اپنی شناخت کو مسخ کر دیں، تو تاریخ ہمیں کس نام سے پکارے گی؟ اگر ہم ہی علیؑ کو “بھگوان” کہنے لگیں، تو توحید کی امانت کون سنبھالے گا؟
شیعت کا مطلب نعروں کا انبار نہیں۔ شیعت پٹاخوں کی تڑتڑاہٹ نہیں۔ شیعت اسٹیج، لائٹس اور شور کا نام نہیں۔ شیعت علیؑ کے نقشِ قدم پر چلنے کا نام ہے—وہ نقش جو محرابِ عبادت سے میدانِ عدل تک جاتا ہے۔ شیعت وہ فکر ہے جو نماز کو زندگی کا محور بناتی ہے، جو انسان کو خدا کے سامنے جھکنا سکھاتی ہے، اور جو ہر طرح کی غلو آمیز تعبیر سے بچاتی ہے۔
آج ہمیں خود سے یہ کڑا سوال پوچھنا ہوگا: ہم علیؑ کا جشن منا رہے ہیں یا علیؑ کے نام پر اپنی نادانی کا جشن؟ ہم ولادت منا رہے ہیں یا اپنی فکری غربت کا اظہار؟ ہم علی ع کے مقصد حیات سے نا آشنا لوگ بڑی بڑی جھالروں اور مہنگے قمقموں کی سجاوٹ کے ذریعہ تاریخ کو روشن کر رہے ہیں یا آنے والی نسلوں کے لیے ابہام چھوڑ رہے ہیں؟
یہ حقیقت تلخ ہے مگر کہنا ضروری ہے: بے ڈھنگا جشن، بے سمت جذبات، اور بے بنیاد الفاظ—یہ سب مل کر عقیدے کو کمزور کرتے ہیں۔ جب مذہبی جذبات شعور سے خالی ہو جائیں تو وہ عبادت سے دور ہو جاتے ہیں بلکک تماشا بن جاتے ہیں۔ اور تماشا ایمان کو مضبوط نہیں کرتا، کھوکھلا کرتا ہے۔
علیؑ کی زندگی کا ہر لمحہ عبدیت کی گواہی ہے۔ وہ خدا کے بندے تھے، اور بندگی پر فخر کرتے تھے۔ علی ع کے خطبات، علی ع کی دعائیں علی ع کی راتیں—سب اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ علی ع کو خدا کے سامنے سب سے ناچیز و عاجز سمجھتے تھے۔ پھر ہم کس جرات سے ان کی ولادت کو ایسے انداز و الفاظ میں بیان کرسکتے ہیں جو عبدیت کے بجائے الوہیت کا شائبہ دیں؟ اس مقام پر ائمہ جمعہ حضرات علماء، دانشوروں، خطباء اور بزرگوں کی ذمہ داری دوچنداں ہو جاتی ہے۔ یاد رہے منبر اگر مصلحت کی چادر لپیٹ کر خاموش رہا تو گلیاں شور سے بھر جائیں گی۔ اگر درس گاہیں فکر نہ دیں تو اسٹیج نعرے دے گا۔ اگر بزرگوں نے رہنمائی نہ کی تو نوجوان جذبات کے سیلاب میں بہہ جائیں گے۔ یہ وقت خاموشی کا نہیں، حکمت کے ساتھ بولنے کا ہے۔
ہمیں جشن کو عبادت سے جوڑنا ہوگا۔ ہمیں خوشی کو اہلبیت اطہار علیہم السلام کے بتائے اصولوں کے ساتھ باندھنا ہوگا۔ ہمیں جشن ولادتِ امام علیؑ کو توحید کے درس کے ساتھ منانا ہوگا۔ ہمیں نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ علیؑ کا جشن، علیؑ کی سیرت اپنانے میں ہےعدل قائم کرنے میں، مظلوم کا ساتھ دینے میں، اور خدا کے سامنے جھکنے میں ہے۔نہ صرف اچھل اچھل کر یا علی ع کہنے اور علی ع کے نام کا دھمال کرنے اور ادھم چوکڑی کرنے میں.
اگر آج ہم نے اصلاح نہ کی تو کل تاریخ ہم سے پوچھے گی: جب علیؑ کے نام پر توحید مجروح ہو رہی تھی، تم کہاں تھے؟ جب نمازیوں کے راستے میں علی ع علی ع کا نعرہ لگاتے ہوئے ہجوم مسجد کے دروازہ تک آنے کے بعد مانع بنا ہوا اپنی جگہ کھڑا تھا اور نمازیوں کی آمد و رفت متاثر ہو رہی تھی اس وقت تم کیوں خاموش رہے؟ جب فخر عبودیت و بندگی کو “بھگوان” کہا جا رہا تھا، تم نے کس خوف سے آواز نہ اٹھائی؟
یہ تحریر کسی فرد کے خلاف نہیں، ایک رویے کے خلاف ہے۔ یہ الزام نہیں، درد ہے۔ یہ آنسوؤں میں ڈوبا ہوا سوال ہےہم کہاں جا رہے ہیں؟۔۔۔
کیا یہ جشن ولادت امام علی ع ہے یا قوم کی بے حسی کا جنازہ ؟۔۔۔
آئیے عہد کریں کہ ہم علیؑ کی ولادت کو اس شان سے منائیں گے جو علیؑ کے شایانِ شان ہے۔ جس میں محض شور شرابےکے بجائے شعور ہوگا۔ اسٹیج کے مسخرے پن کے بجائے، سجدوں سے محبت کا سبق ہوگا پٹاخے کی صداوں کی جگہ تسبیح کے دانوں کے ہمراہ اللہ کی کبریائی اسکی حمد و تنزیہہ ہوگی۔
خدا نخواستہ ہم کسی خوشی منانے یا جشن و سرور کی محفلوں کے خلاف کوئی بات نہیں کہہ رہے وہ شیعہ ہی کیا جو علی ع کا نام سن کر وجد میں نہ آئے کہنا یہ ہے کہ خوشی ضرور ہو، مگر وہ خوشی ہو جو علی ع کو خوش کر دے نماز کے سائے میں ہو دوسروں کی زحمت کا سبب نہ ہو نعرہ ضرور ہو، مگر وہ نعرہ توحید کے دائرے میں ہو؛ اجتماع ضرور ہو، مگر وہ اجتماع مسجد کی حرمت کے ساتھ ہو.
ورنہ رات کے 12 بجے تک پٹاخوں پر پٹاخے داغنے اور پھر کچھ وقفے کے بعد صبح چار بجے تک ہلڑ ہنگامے سے کیاحاصل؟ جب ہم علی ع کے راستے پر چلیں گے تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ ہم واقعی علیؑ کے شیعہ ہیں—اور تب ہی 13 رجب کی تاریخ ہماری زندگئ میں روشنی بن کر جگمائے گی محض شور بن کر نہیں اس مقام پر؛
علماء، خطباء، دانشوروں اور ذمہ دارانِ ملت سے بھی دست بستہ عرض ہے
اب خاموشی جرم ہے۔ اب مصلحت کے پردے میں چھپ جانا خیانت ہے۔ اگر آج علیؑ کے نام پر عبدیت مسخ ہو رہی ہے، اگر آج علیؑ کی ولادت توحید کے بجائے ہنگامے کی نذر ہو رہی ہے، اگر آج مسجد کے دروازے خالی اور اسی کے بغل میں اسٹیج پر ہنگامہ ہے—تو اس کے ذمہ دار صرف نوجوان نہیں، ہم سب ہیں۔ منبر پر صرف فضائل اہلبیت اطہار ع کے ساتھ حدود شریعت بھی واضح ہونا ضروری ہے فضائل علی ع کے ساتھ ان رذائل پر بھی روشنی ضروری ہے جو ہمیں علیؑ سے دور کر دیں علی ع کے نام پر جشن و سرور کی محفلیں ضرور سجیں لیکن ایسی توہم پرستی کا ذکر نہ ہو کہ بندگی اوجھل ہو جائے۔علی ع کے پاس خود اتنے فضائل ہیں کہ ہمیں گڑھنے کی ضرورت نہیں علی ع کی سب سے بڑی فضیلت ہی یہی ہے کہ علی ع عبد خدا ہیں۔

لہذا تمام ذاکرین و خطباء سے دست بستہ گزارش ہے جذبات کو بھڑکانے سے پہلے شعور کی شمع جلائیے۔ جشن ضرور منائیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ نماز، اذان اور مسجد کی حرمت پر آنچ نہ آئے۔
اے دانشوران قوم و ملت! تحریر اور تقریر کے ذریعے اس فکری انحراف کا سد باب نہ کیا گیا تو بڑی دیر ہو جائے گی گر آپ نہ بولے تو تاریخ بولے گی اور اس کا فیصلہ سخت ہوگا۔
اے بزرگان دین و ملت کانوں میں کی جانی والی خاموش نصیحتوں کو آواز دیجیے۔ نئی نسل کو صرف نعرے نہیں، سوچنا بھی سکھائیے۔
یہ وقت بیان بازی کا نہیں، رہنمائی کا ہے۔ یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، عقیدے کی حفاظت کا ہے۔ اگر آج ہم نے علیؑ کو توحید کے ساتھ نہ جوڑا، تو کل ہماری نسلیں 13 رجب کو صرف ایک تہوار سمجھیں گی—ایک دن، ایک اسٹیج، ایک شور اسی میں تیرہ رجب جیسی تاریخ گم ہو جائے گی۔
خدا کے لیے جاگیے! علیؑ کے نام پر جانے انجانے علی ع کے مقصد کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف بر سر پیکار ہوئیے ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ ایک دن 13 رجب آیا، علیؑ کی ولادت تھی اور ولایت کا تابوت لئے کچھ جوان علی ع علی ع کا نعرہ لگاتے گزر رہے تھے اور وہ لوگ خاموش تھے جو بول سکتے ہیں کچھ کر سکتے تھے۔جبکہ دوسرے مذہب کے ساتھ کچھ اپنے بھی اس شور شرابے کو دیکھ کر کہہ رہے تھے " آج بھگوان کی برتھ ڈے ہے بھائی









آپ کا تبصرہ