ہفتہ 7 فروری 2026 - 11:39
مولانا غلام عسکری طاب ثراہ خطابت، تبلیغ، تعلیم، تنظیم اور تربیت کی ہمہ گیر جدوجہد

حوزہ/کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے تعارف کے لیے بلند القابات نہیں، درست اور ذمہ دار الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ ان کے ذکر میں احتیاط اس لیے لازم ہوتی ہے کہ کہیں حقیقت کے بجائے تاثر غالب نہ آ جائے۔ بانیٔ تنظیم مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ بھی انہی افراد میں سے تھے جن کی زندگی کو سمجھنے کے لیے محض ان کی تحریر و تقریر کافی نہیں، بلکہ ان کے طرزِ عمل، نظمِ فکر اور طریقِ کار پر نگاہ رکھنا ناگزیر ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے تعارف کے لیے بلند القابات نہیں، درست اور ذمہ دار الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ ان کے ذکر میں احتیاط اس لیے لازم ہوتی ہے کہ کہیں حقیقت کے بجائے تاثر غالب نہ آ جائے۔ بانیٔ تنظیم مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ بھی انہی افراد میں سے تھے جن کی زندگی کو سمجھنے کے لیے محض ان کی تحریر و تقریر کافی نہیں، بلکہ ان کے طرزِ عمل، نظمِ فکر اور طریقِ کار پر نگاہ رکھنا ناگزیر ہے۔

وہ عالم تھے، مگر علم ان کے نزدیک محض درس و تدریس کا عنوان نہ تھا؛ وہ ایسا علم تھا جو عمل میں ڈھل کر سماج کی اصلاح میں اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ ان کی دینداری گوشہ نشینی نہیں، ذمہ داری تھی—ایسی ذمہ داری جو وقت کے تقاضوں کو سمجھتی، مسائل کی جڑ تک پہنچتی اور پھر حکمت و تدبیر کے ساتھ حل کی صورت اختیار کرتی ہے۔

مولانا کی فکر میں روایت کا احترام بھی تھا اور زمانے کی ضرورتوں کی پہچان بھی۔ وہ جدت کے قائل تھے، مگر روایت سے کٹی ہوئی نہیں؛ نظم کے داعی تھے، مگر جبر کے بغیر؛ قیادت کرتے تھے، مگر تسلط کے احساس کے ساتھ نہیں۔ ان کے نزدیک تنظیم محض کسی ظاہری ڈھانچے کا نام نہ تھی، بلکہ افراد کو مقصد، ضابطے اور باہمی اعتماد کے مضبوط رشتے میں پرو دینے کا سلیقہ تھی—ایسا سلیقہ جو اداروں کو زندہ رکھتا اور افراد کو ذمہ دار بناتا ہے۔

قوم کا درد ان کے لیے کوئی نعرہ نہیں تھا، بلکہ روزمرہ کی فکری مشقت تھی۔ وہ مسائل پر گفتگو سے پہلے ان کی ساخت کو سمجھتے، افراد کے مزاج کو پرکھتے اور پھر ایسا راستہ اختیار کرتے جو اصلاح بھی کرے اور ٹوٹ پھوٹ سے بھی بچائے۔ اسی لیے ان کی تدبیر وقتی جوش پر نہیں، طویل المدت ذمہ داری پر قائم ہوتی تھی، اور یہی بات ان کی کاوشوں کو دیرپا اثر عطا کرتی تھی۔

مولانا سید غلام عسکری غیر معمولی ضرور تھے، مگر انسان ہی تھے—انسانی حدود کے ساتھ۔ ان کی عظمت کسی مصنوعی تقدس کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ سادگی، دیانت، نظم اور مسلسل محنت کی خاموش مگر مضبوط گواہی پر قائم ہے۔ یہی اعتدال ان کی شخصیت کو معتبر بناتا ہے، اور یہی وصف انہیں اپنے عہد کی باعمل، منظم اور درد مند قیادت میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

ان کی خطابت میں آواز کی صرف گھن گرج نہیں، دل کی سچائی بولتی تھی۔ سامع پر اثر انداز ہونے کے لیے وہ لفظوں کی نمائش نہیں کرتے تھے، بلکہ لفظ خود ان کے یقین کے تابع ہو جاتے تھے۔ ان کی تحریر میں بناوٹ یا اظہار کی نمائش کا شائبہ نہ تھا، بلکہ ہر سطر ذمہ داری کے احساس سے بندھی ہوئی محسوس ہوتی تھی—گویا قلم اظہار کا نہیں، امانت کا وسیلہ ہو۔ اور جب قیادت کا وقت آتا تو وہاں اقتدار کا رعب نہیں، اعتماد کی خاموش قوت کارفرما نظر آتی تھی، ایسی قوت جو حکم سے نہیں، مثال سے راستہ دکھاتی ہے۔

وہ خاموش رہتے تو بھی ان کی خاموشی خالی نہ ہوتی؛ اس میں تدبر تھا، انتظار تھا اور حالات کو سمجھنے کی سنجیدگی تھی۔ اور جب بولتے تو بات دلوں پر دستک نہیں دیتی، سیدھی اتر جاتی تھی—اس لیے کہ وہ زبان سے نہیں، کردار کے حال سے نکلتی تھی۔

مولانا کی اصل قوت علم اور عمل کو الگ الگ خانوں میں رکھنے میں نہیں تھی، بلکہ اس زندہ ربط میں تھی جو علم کو اخلاق کی بنیاد پر کھڑا کرتا اور عمل کو اخلاص کی روشنی عطا کرتا ہے۔ ان کے نزدیک علم وہی معتبر تھا جو کردار میں ڈھل جائے، اور عمل وہی بامعنی جو نیت کی پاکیزگی سے جڑا ہو۔ اسی ہم آہنگی نے ان کی ذات کو محض ایک مدرس یا منتظم تک محدود نہ رہنے دیا۔

اسی سبب جو شخص ان کے قریب آیا، اسے یہ احساس ہوا کہ وہ کسی رسمی ادارے کا حصہ نہیں بنا، بلکہ ایک ایسی تربیت گاہ سے وابستہ ہو گیا ہے جہاں تعلیم صرف نصاب تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے آداب، ذمہ داری کا احساس اور خدمت کا سلیقہ بھی سکھایا جاتا ہے۔ وہاں انسان بنتے تھے، صرف طالب علم نہیں—اور یہی مولانا سید غلام عسکری کی سب سے خاموش مگر سب سے گہری تاثیر تھی۔

تعلیم کے میدان میں مولانا غلام عسکری کی خدمات نہ صرف ہمہ گیر تھیں بلکہ اپنی نوعیت میں غیر معمولی بھی۔ انہوں نے تعلیم کو کسی مخصوص طبقے یا عمر تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے پوری قوم کی مشترکہ ضرورت سمجھا۔ تنظیم المکاتب کا قیام اسی وسیع النظر سوچ کا عملی اظہار تھا—ایک ایسا ادارہ جو محض تعلیم دینے کا مرکز نہیں، بلکہ نظم، تربیت اور ذمہ داری کا جامع نظام بن کر سامنے آیا۔

اس تنظیم کے تحت ایک منظم، مضبوط اور باقاعدہ نصابِ درسی ترتیب دیا گیا، جس میں تعلیم کو سنجیدگی، تسلسل اور مقصدیت کے ساتھ جوڑا گیا۔ بچوں کے لیے بنیاد، نوجوانوں کے لیے فہم، اور بزرگوں کے لیے دین کی پہچان—ہر عمر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تعلیم کا عملی بندوبست کیا گیا۔ یہ تمام سرگرمیاں محض رسمی نہ تھیں، بلکہ ان میں ضبط، نگرانی اور جواب دہی کا واضح احساس شامل تھا، تاکہ تعلیم صرف کہی نہ جائے بلکہ حقیقتاً منتقل ہو۔

مالی معاملات میں، خصوصاً رقوماتِ شرعیہ کے باب میں، مولانا غلام عسکری کی دیانت ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کے نزدیک دینی اداروں کی سب سے بڑی متاع اعتماد ہوتا ہے، اور اعتماد صرف شفافیت، احتیاط اور امانت سے قائم رہتا ہے۔ اسی لیے اداروں کے نظم و نسق میں مالی دیانت، حساب کی باقاعدہ نگرانی اور نظم و ضبط کو غیر معمولی اہمیت دی گئی، تاکہ کسی بھی سطح پر بدگمانی یا بے قاعدگی کی گنجائش باقی نہ رہے۔

خطابت اور ذاکری کے میدان میں بھی مولانا غلام عسکری کی خدمات نہایت گہری، سنجیدہ اور دیرپا اثرات کی حامل ثابت ہوئیں۔ ان کے نزدیک خطابت محض جذبات کے ابھار کا نام نہیں تھی، بلکہ فکر کی درست رہنمائی اور کردار کی تعمیر کا ایک ذمہ دار وسیلہ تھی؛ اسی لیے ان کی تقریر اسی منظم فکری و عملی نظام کا حصہ بن جاتی تھی جو تعلیم اور تنظیم کے میدان میں ان کی پہچان تھا۔

انہوں نے منبر کو وقتی تاثر یا جذباتی کیفیت پیدا کرنے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے اصلاحِ فکر و عمل کا معتبر اور بامقصد ذریعہ بنایا۔ ان کے نزدیک مجلس کا مقصد صرف آنکھوں کو نم کرنا نہیں تھا، بلکہ دلوں کو سمت دینا تھا؛ صرف تاثیر قائم کرنا نہیں، بلکہ ذمہ داری کا احساس جگانا تھا

ان کی رہنمائی میں خطابت اور ذاکری کا مزاج آہستہ آہستہ اس سمت میں ڈھلا جہاں تبلیغِ اخلاق اور سیرتِ معصومین علیہم السلام کا بیان محض روایت نہیں رہا، بلکہ عملی ہدایت بن گیا۔ منبر سے ادا ہونے والا ہر واقعہ، ہر مثال اور ہر حوالہ اس نیت کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا کہ سامع اپنی روزمرہ زندگی میں اس کا اثر محسوس کرے۔ یوں مجلس ختم ہونے کے بعد بات ختم نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ سوچ، رویّے اور عمل میں منتقل ہو کر دیر تک ساتھ چلتی تھی۔

ان کی کاوشوں کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے خطیب اور ذاکر دونوں کو یہ احساس دلایا کہ منبر امانت ہے، اور امانت کا تقاضا ہے کہ بات سچائی، سنجیدگی اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ کہی جائے۔ انہوں نے زبان کی بے احتیاطی، غیر ضروری مبالغے اور سطحی جذباتیت کے بجائے متوازن، مقصدی اور باوقار انداز کو فروغ دیا—ایسا انداز جس میں دل کی گرمی بھی ہو اور عقل کی روشنی بھی۔

اسی اصلاحی سوچ کے نتیجے میں سامع محض متاثر ہو کر نہیں اٹھتا تھا، بلکہ اپنے اندر ایک سوال، ایک عزم اور ایک سمت لے کر واپس جاتا تھا۔ وہ صرف رو کر ہلکا نہیں ہوتا تھا، بلکہ سوچ کر مضبوط ہوتا تھا۔ یہی وہ تبدیلی تھی جس نے خطابت اور ذاکری کو وقتی تاثر کے دائرے سے نکال کر ایک زندہ اور مؤثر تربیتی عمل میں بدل دیا—اور یہی مولانا غلام عسکری کی اس میدان میں سب سے بڑی اور یادگار خدمت ہے۔

یوں تعلیم، تنظیم، دیانت، تبلیغ اور خطابت—یہ سب مولانا غلام عسکری کی خدمات کے وہ نمایاں اور باہم مربوط پہلو ہیں جو مل کر ایک ایسے ہمہ گیر نظام کی تشکیل کرتے ہیں جس کی بنیاد علم و عمل اور تقوی پر بھی ہے اور اخلاقی ذمہ داری پر بھی۔

یہی ہم آہنگی ان کی کاوشوں کو وقتی جوش یا محدود اثر تک مقید نہیں رہنے دیتی، بلکہ انہیں ایک ایسا مستقل، قابلِ اعتماد اور قابلِ تقلید نمونہ بنا دیتی ہے جس میں قول و عمل کا فرق مٹ جاتا ہے اور خدمت ایک واضح سمت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ مولانا غلام عسکری کی خدمات کسی مخصوص دور تک محدود نہیں رہیں، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی معنویت اور افادیت مزید نمایاں ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha