حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت ولی عصرؑ کے یومِ ولادتِ با سعادت کی مناسبت سے پانچس ماگام میں انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں کشمیر کے زیرِ اہتمام ایک پُر رونق جلوس میلاد برآمد کیا گیا، جس میں تنظیم کے شعبۂ تعلیم سے وابستہ مکاتب کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ عقیدت مندوں کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔


اس موقع پر علمائے دین نے انقلابِ امام مہدی کے خدوخال اور اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
علمائے دین نے ظہورِ امام زمانہ ؑ کو الله تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی مظلوم و محکوم قوموں کیلیے ایک بے بدل تحفۂ الٰہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب دنیا کی مظلوم و محکوم قومیں انتہائی بے کس وبے بس ہوں گی اور ظالم قوتیں مظلومین پر ظلم و استبداد کے ناقابلِ برداشت حربے آزمائیں گے تو الله تعالیٰ اُس منجی عالم کو ظہور فرمائے گا۔

جن علمائے دین نے ظہورِ امام زمانہ سے متعلق اظہار خیال کیا اُن میں حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی ، حجۃ الاسلام سید یوسف موسوی، حجۃ الاسلام سید محمد حسین صفوی، حجۃ الاسلام نثار حسین والو، حجۃ الاسلام غلام محمد گلزار، حجۃ الاسلام سید ارشد موسوی، حجۃ الاسلام سید اشرف حسین مدنی، حجۃ الاسلام سید حسین سٹھسو، حجۃ الاسلام مولوی امتیاز حسین، حجۃ الاسلام سید علی اور حجۃ الاسلام سید تصدق حسین نقوی شامل ہیں۔
اس موقع پر انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ تصور مہدی اگرچہ تمام اسلامی مسالک کا مشترکہ عقیدہ ہے اور ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو دنیا کے دیگر ادیان پر غالب فرمائے گا اور جو لوگ زمین پر مستضعف بنائے گئے انہیں روئے زمین کا وارث بنایا جائے گا۔ اس بشارت الٰہی کے تکمیل کار حضرت ولی عصرؑ ہیں۔
آغا سید حسن نے کہا کہ ظہورِ امام مہدیؑ کیلیے امت مسلمہ کی آمادگی ایک ناگزیر جذبۂ ایمانی ہے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے خطاب میں عالم اسلام کی موجودہ سنگین صورتحال بالخصوص فلسطین کے مظلوم عوام پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے بدترین ظلم و جبر کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی سرزمین آج انسانیت سوز مظالم کی دردناک تصویر پیش کر رہی ہے، جہاں معصوم بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کا بے دریغ قتل عام کیا جا رہا ہے، جبکہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
آغا صاحب نے واضح کیا کہ امریکہ نہ صرف ان جرائم میں اسرائیل کا مکمل حامی اور سرپرست ہے، بلکہ اس ظلم و بربریت کو سیاسی، عسکری اور سفارتی تحفظ فراہم کر کے انسانیت کے قتل میں برابر کا شریک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلسل سازشیں، اندرونی بدامنی پھیلانے کی کوششیں، معاشی پابندیاں، نفسیاتی جنگ اور میڈیا پروپیگنڈہ اسی استکباری منصوبے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ایران کو کمزور، غیر مستحکم اور محور مقاومت سے الگ کرنا ہے۔
آغا سید حسن موسوی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی غیر معمولی بصیرت، فولادی عزم، حکمت و شجاعت اور انقلابی قیادت نے ان تمام شیطانی منصوبوں کو ان کے انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی خاک میں ملا دیا۔

انہوں نے کہا کہ رہبر معظم نے نہ صرف دشمن کی جانب سے مسلط کی جانے والی داخلی بے چینی اور فتنہ انگیزی کو ناکام بنایا، بلکہ قوم کو وحدت، استقامت اور خود اعتمادی کے رشتے میں مضبوطی سے باندھ کر امریکہ و اسرائیل کی ہر سازش کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔
آغا سید حسن نے کہا کہ آج یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ رہبر معظم کی قیادت میں ایران استکباری دباؤ کے باوجود پہلے سے زیادہ مضبوط، باوقار اور مؤثر قوت بن کر ابھرا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل سیاسی، اخلاقی اور تزویراتی طور پر بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر مظلوم فلسطینی عوام، اسلامی جمہوریہ ایران، رہبر معظم انقلاب اور محور مقاومت کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور ہر سطح پر ظالم طاقتوں کے خلاف حق، عدل اور مظلومیت کی توانا آواز بلند کرتی رہے گی، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔









آپ کا تبصرہ