حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید لیاقت حسین موسوی مدیر جامعہ علمیہ امام رضا علیہ السّلام و مجلسِ منتظمہ مجلسِ علمائے امامیہ جموں و کشمیر کے رکن نے کہا کہ رہبرِ معظم سید علی خامنہایؑ عصرِ حاضر میں اسلامی قیادت کی ایک ایسی جامع اور متوازن شخصیت ہیں جن میں علم و تقویٰ، شجاعت و حکمت اور سیاست و معنویت ایک دوسرے میں پیوست نظر آتے ہیں۔ آپ کی قیادت محض ایک ریاستی منصب نہیں، بلکہ ایک فکری و تہذیبی ذمہ داری کا شعوری اظہار ہے، جو امتِ مسلمہ کو درپیش فکری، سیاسی اور اخلاقی چیلنجز کے مقابل ایک مضبوط سمت فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہایؑ کی شخصیت کی اساس ولایتِ فقیہ کے اس قرآنی و فقہی تصور پر استوار ہے جس میں قیادت، عوامی خواہشات کی اسیر نہیں، بلکہ الٰہی اقدار کی امین ہوتی ہے۔ آپ نے انقلابِ اسلامی ایران کے بعد نہایت نازک اور فیصلہ کن ادوار میں جس بصیرت کے ساتھ امت کی رہنمائی کی، وہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ قیادت کا اصل جوہر طاقت نہیں بلکہ حق کی پہچان اور اس پر ثابت قدمی ہے۔
انہوں نے رہبرِ معظم کی علمی بصیرت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ علمی میدان میں آپ کی گہری بصیرت—چاہے وہ قرآن فہمی ہو، فقہ و اصول ہوں، یا اسلامی تہذیب و تمدن کا مطالعہ—آپ کو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک مفکر اور مربی کے مقام پر فائز کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے بیانات وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک طویل المدت فکری نقشۂ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مدیر جامعہ علمیہ امام رضا کشمیر نے ولی امر مسلمین کا عالمی سطح پر مؤقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی استکبار کے مقابل آپ کا مؤقف کسی جذباتی مخالفت پر مبنی نہیں، بلکہ مظلوم اقوام کی حمایت، خودمختاری کے دفاع، اور انسانی وقار کے تحفظ کا اعلان ہے۔ فلسطین، یمن، لبنان اور دیگر مظلوم خطوں کے حوالے سے آپ کی آواز دراصل اسلامی ضمیر کی آواز ہے، جو طاقت کے نہیں بلکہ حق کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظمؑ کی سادگی، ذاتی زہد، اور عوام سے روحانی رشتہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ آپ کی قیادت محلات کی نہیں، محرابوں اور میدانوں کی قیادت ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور نسلوں کو متاثر کرتا ہے۔ سید علی خامنہایؑ کی شخصیت آج کے پُرآشوب دور میں ایمان، استقامت اور فکری خودمختاری کی علامت ہے۔ ایسے عظیم رہبر کو اگر خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچایا جائے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد یا خطے تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ عالمی سطح پر شدید اضطراب، عدمِ استحکام اور امنِ عالم کے لیے سنگین خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ