حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائم آل محمد حضرت امام مہدیؑ کے یومِ ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے انجمنِ شرعی شیعیان کے زیرِ اہتمام حوزۂ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام سے ایک عظیم الشان جلوس میلاد تنظیم کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی کی قیادت میں برآمد ہو کر مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوا؛ جلوس میلاد میں مرد و خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

جلوس میلاد میں تنظیم سے منسلک حوزات علمیہ اور شاخہائے مکاتب میں زیر تعلیم ہزاروں طلبا و طالبات کے علاوہ وابستگان ولایت و امامت کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس سے قبل حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام میں محفل میلاد منعقد ہوئی، جہاں متعدد علمائے دین اور طلاب نے سلسلۂ امامت کی آخری کڑی حضرت حجتہ ابن الحسنؑ کی غیبت کبریٰ اور فلسفۂ ظہور و انتظار پر مفصل روشنی ڈالی۔
علمائے دین نے عقیدۂ تصور مہدیؑ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ولی العصرؑ کا ظہور اور عالمگیر انقلاب ایک ناقابل تردید قرآنی حقیقت ہے۔ امامؑ کا پردۂ غیب میں چلے جانا عین مصلحت الٰہی ہے اور دنیا میں ظلم و باطل کے خاتمے اور عدل و انصاف کے قیام کا وعدۂ الٰہی ظہور امام مہدیؑ سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ روئے زمین پر مستضعفین کی نصرت و سربلندی کے لیے انقلاب مہدیؑ کا برپا ہونا امت مسلمہ کے ایمان و یقین کا جزو لاینفک ہے۔
محفل سے اپنے صدارتی خطاب میں حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے انتہائی پرجوش اور ولولہ انگیز انداز میں کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای محض کسی ایک ملک کے سربراہ نہیں، بلکہ عصر حاضر میں امت مسلمہ کے اتحاد، جرأت اور فکری بیداری کی ایک توانا اور زندہ علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کی زندگی کا ہر ورق اسلام کی سربلندی، حق کی حمایت اور مظلومین جہاں کے دفاع سے عبارت ہے۔
آغا سید حسن نے مزید کہا کہ آج کے اس پرآشوب دور میں، جب عالمی طاقتیں اپنے ناپاک مفادات کے لیے کمزور اقوام کو روند رہی ہیں، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای وہ واحد جری قیادت ہیں جو استکبار عالمی کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑی ہیں۔ ان کی غیر معمولی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی نے مشرق وسطیٰ میں دشمن کے کئی خطرناک عزائم کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کی قیادت کا نچوڑ بصیرت، شجاعت اور توکل علی اللہ ہے۔ وہ ایک ایسی فروزاں شمع ہیں جو امت مسلمہ کو تاریک راہوں میں حق، عزت اور آزادی کی منزل دکھا رہی ہے۔ آغا سید حسن نے زور دے کر کہا کہ رہبر معظم کی پیروی دراصل ان اسلامی اصولوں اور الٰہی قوانین کی پیروی ہے۔جن کے ذریعے اسلام کو سربلندی اور مظلوم اقوام کو نجات نصیب ہوتی ہے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اس موقع پر شب برات جیسی عظیم اور مقدس رات کے دوران جامع مسجد سرینگر کی تالہ بندی پر شدید برہمی اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، بلکہ ایک افسوسناک، غیر جمہوری اور ناقابل قبول قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو بند کرنا، خصوصاً ایسی مقدس رات میں، مذہبی آزادیوں پر کھلا حملہ اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
محفل میلاد سے جن دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا ان میں حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی، حجۃ الاسلام سید محمد حسین گریند، حجۃ الاسلام سید یوسف موسوی، حجۃ الاسلام مولوی نثار حسین والو، حجۃ الاسلام شیخ غلام احمد، حجۃ الاسلام غلام محمد گلزار، حجۃ الاسلام سید ارشد حسین موسوی، حجۃ الاسلام مولوی تنویر حسین، حجۃ الاسلام سید علی، حجۃ الاسلام مولوی گوہر حسین، حجۃ الاسلام سید حسین موسوی اور حجۃ الاسلام امتیاز حسین نجار وغیرہ شامل ہیں۔
محفل میلاد کی نظامت کے فرائض حجۃ الاسلام سید تصدق حسین نقوی نے انجام دیے۔









آپ کا تبصرہ