بدھ 4 فروری 2026 - 19:15
صدرِ انجمنِ شرعی شیعیانِ کشمیر کا سید المقاومہ کے والد محترم کے انتقال پر تعزیتی و خراجِ عقیدت کا پیغام

حوزہ/انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے صدر آغا سید حسن موسوی نے اپنے ایک بیان میں، سید المقاومہ شہید سید حسن نصراللّٰه کے والد محترم سید عبد الکریم نصراللّٰه کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خاندان نصراللّٰه سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے صدر آغا سید حسن موسوی نے اپنے ایک بیان میں، سید المقاومہ شہید سید حسن نصراللّٰه کے والد محترم سید عبد الکریم نصراللّٰه کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خاندان نصراللّٰه سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

آغا سید حسن موسوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نہایت رنج، قلبی کرب اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی کہ عظیم صابر، باوقار اور مجسمۂ ایثار شخصیت، جناب سید عبد الکریمؒ (والد محترم شہید عظیم سید حسن نصراللہؒ) اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ یہ صدمہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ ے لیے ایک گہرے دکھ اور ناقابل تلافی نقصان کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر کی جانب سے اور بالخصوص تمام مسلمانان کشمیر کی طرف سے، اس عظیم سانحے پر نہایت درد مندانہ، قلبی اور پُرخلوص تعزیت پیش کرتا ہوں۔ آج کشمیر کا ہر درد مند دل اس عظیم خاندان کے غم میں شریک ہے، اور کشمیر کے مومن دل اس باوقار باپ کے صبر، عظمت اور قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔

آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ جناب سید عبد الکریمؒ وہ عظیم المرتبت والد تھے جنہوں نے اپنی پاکیزہ آغوش تربیت سے امت مسلمہ کو ایک ایسا فرزند عطا کیا جو حق کی گرجدار آواز، مظلوموں کی امید اور باطل کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا۔ انہوں نے اپنے لخت جگر، شہید راہ حق سید حسن نصراللہؒ کو امت مسلمہ کی عزت، وقار اور بقا کے لیے قربان کر کے تاریخ اسلام میں ایثار و فداکاری کی ایسی لازوال مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مشعل راہ بنی رہے گی۔

صدرِ انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہؒ محض ایک شخصیت نہیں تھے، بلکہ ایک زندہ مکتب، ایک بیدار ضمیر اور ایک ناقابل شکست عزم تھے۔ ان کی پوری زندگی خدمت اسلام، دفاع امت محمدی ؐ، حمایت مظلومین اور استکبار کے مقابل بے خوف استقامت کی روشن داستان ہے۔ ان کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ سچے رہنما اپنے خون سے تاریخ رقم کرتے ہیں، اور ان کا لہو امتوں کو حیات نو عطا کرتا ہے۔ ان کی قربانی نے باطل کے ایوانوں کو لرزا کر رکھ دیا اور مظلوموں کے دلوں میں امید کی نئی روح پھونک دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جن والدین کی گود سے ایسے شہداء جنم لیتے ہیں، وہ خود بھی مجسمۂ جہاد، صبر و رضا کے پیکر اور خدا کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ سید عبد الکریمؒ نے اپنے فرزند کی قربانی دے کر امت مسلمہ پر ایسا عظیم احسان کیا جس کا قرض صدیوں میں بھی ادا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے عملی طور پر یہ پیغام دیا کہ دین، حق اور امت کی سربلندی کے لیے اولاد کی قربانی بھی معمولی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم بارگاہ رب العزت میں دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم سید عبد الکریمؒ کو اپنے عظیم شہید فرزند کے ساتھ اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے، ان کی اس بے مثال قربانی کو شرف قبولیت بخشے، پسماندگان کو صبر زینبیؑ عطا فرمائے، اور ہمیں بھی شہداء کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔بلاشبہ ایسے باپ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ایسے بیٹے تاریخ کا رخ موڑ دیا کرتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha