پیر 2 فروری 2026 - 17:59
آغا سید حسن موسوی: سپاہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینا، ایرانی اندرونی معاملات میں ناجائز مداخلت اور قومی سیکورٹی فورسز کے خلاف کھلی سازش

حوزہ/انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے صدر حجت الاسلام آغا سید حسن موسوی نے یورپی اتحاد کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے محافظ دستے (سپاہ پاسدارانِ انقلاب) کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری، قومی وقار اور آئینی حق دفاع پر کھلا، ظالمانہ اور سیاسی حملہ قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے صدر حجت الاسلام آغا سید حسن موسوی نے یورپی اتحاد کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے محافظ دستے (سپاہ پاسدارانِ انقلاب) کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری، قومی وقار اور آئینی حق دفاع پر کھلا، ظالمانہ اور سیاسی حملہ قرار دیا ہے۔

آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کے اندرونی معاملات میں ناجائز مداخلت اور ایک ایسے قومی محافظ ادارے کے خلاف سازش ہے جو ایرانی عوام، سرزمین ایران اور اسلامی انقلاب کے اقدار کا محافظ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام انصاف یا عالمی قانون کے تحت نہیں بلکہ استکباری دباؤ اور سیاسی تعصب کے تحت کیا گیا ہے۔

انہوں نے مغربی طاقتوں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ اصل دہشت گرد وہ ہیں جو فلسطین اور غزہ میں نہتے شہریوں مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں کا وحشیانہ قتل عام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسانیت سوز جرائم صہیونی ریاست کی جانب سے مسلسل انجام دیے جا رہے ہیں، جنہیں امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، مگر عالمی طاقتیں مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ ایران کے جائز دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صدر انجمن شرعی شیعیان نے کہا کہ “یہ فیصلہ یورپی اتحاد کے تعصب اور منافقت کا کھلا ثبوت ہے۔ دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ فلسطینی عوام کے خون سے ہاتھ رنگنے والے اصل دہشت گرد ہیں، نہ کہ وہ محافظ دستے جو اپنے وطن، اپنی قوم اور مظلوموں کے حقوق کا دفاع کر رہے ہیں۔”

آغا سید حسن موسوی نے اس امر پر زور دیا کہ ایران کو اپنی قومی خودمختاری، دفاع اور عزت نفس کا مکمل اور ناقابل تردید حق حاصل ہے، اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا سیاسی سازش سے نہ ایرانی قوم کے حوصلے کمزور ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے محافظ دستوں کے عزم میں کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محافظ قوت پہلے کی طرح آئندہ بھی عدل، مزاحمت اور ظلم کے خلاف استقامت کے راستے پر ثابت قدم رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha