حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس علمائے مکتبِ اہلِ بیت پاکستان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں جامعۃ الرضا کے مقام پر "دفاعِ ولایت و مرجعیت کانفرنس" کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے علمائے کرام، دینی شخصیات اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، صدر مجلس علمائے مکتبِ اہلِ بیت علامہ سید حسنین عباس گردیزی، علامہ سید علی محمد نقوی، علامہ سید جابر حسین شیرازی، علامہ اصغر عسکری سمیت دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔
شرکائے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اپنے حالیہ بیان میں خطے کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ پورے خطے کی جنگ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی آٹھ سالہ جنگ اسلحہ سے زیادہ ایمان کی قوت کے ذریعے لڑی۔ امام خمینیؒ کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمان، استقامت اور قربانی کا جذبہ ظلم کے مقابلے میں کامیابی کی بنیاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مکتبِ شہادت سے وابستگی رکھنے والوں کو شکست نہیں دی جا سکتی اور رہبریِ دینی مظلوموں کے لیے امید اور استقامت کی علامت ہے۔تاریخ تشیع میں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے بڑا کوئی فقیہ نہیںگزرا ۔ صدیوں دور دیکھنے والا ایسا بابصیرت رہنما تاریخ میں نہیں ملتا ۔ آپ مظلوموں کی امید ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں انصاف کے قیام اور ظلم کے خاتمے کے لیے ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے کہ طاغوتی قوتوں کے مقابلے میں حق و عدالت کے ساتھ کھڑا ہو وہ رہبری کے ساتھ کھڑا ہو ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دفاع کریں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ظلم کے مقابلے میں عدل کا پرچم اٹھایا ہوا ہے یہ ہمارے رہبر ہیں ہماری جان ہیں ہم جان دے سکتے ہیں ان کے لئے کوئی بھول جائے کہ کوئی ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، یہ دفاع ہر لحاظ سے بیداری کا ثبوت بھی ہے ظلم سے نفرت کا ثبوت بھی ہے اور دنیا کے فرعوں سے بے زاری کا بھی ثبوت ہے جو یہ کہتے کہ ہیں کاش ہم کربلا میں ہوتے تو ان کے لئے کہتا ہوں کہ آج کاش کہنے کا وقت نہیں ہے آج میدان میں حاضر ہونے کا وقت ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں امام خمینیؒ کے بیان کردہ پانچ بنیادی اصولوں کا ذکر کیا، جن میں مظلوم اقوام کی مقامی قیادت کو فروغ دینا، احترام و برابری کے اصول پر تعلقات قائم کرنا، انہیں خود کفیل بنانا، ان کی عزتِ نفس کا تحفظ اور ان پر فیصلے مسلط نہ کرنا شامل ہیں۔
صدر مجلس علمائے مکتبِ اہلِ بیت علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سننِ الٰہی انسان پر حاکم ہیں اور آزمائش زندگی کا لازمی حصہ ہے۔انہوں نے قرآن کریم کی روشنی میں کہا کہ ہر انسان کو امتحانات سے گزرنا ہوتا ہے اور مشکلات کے ذریعے انسان کی تربیت اور تطہیر ہوتی ہے۔
انہوں نے امام خمینیؒ کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جلاوطنی، قید، دھمکیوں اور پروپیگنڈے کے باوجود حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکا۔ ان کے مطابق مرجعیت اور قیادت کا اصل مقصد قوم کو مشکلات سے نکال کر منزل کی جانب رہنمائی فراہم کرنا امام خمینی نے مرجیعت اور رہبری کرتے ہوئے تاریخی انقلاب برپا کیا۔ آج نظام کو ہر طرف سے وقت کے فرعون گھیرے ہوئے ہیں اور مرجعیت کو دھمکیاں اور مملکت اسلامی جمہوریہ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں ایسے میں ہر ذی شعور اور با ضمیر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقت کے فرعونوں اور استعمار کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور حقیقی اسلامی قیادت اور مرجعیت کا دفاع کرے۔

کانفرنس سے سید علی محمد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ایام میں امریکہ کے صدر اور صہیونی دہشت گرد حکومت کے اربابِ اقتدار کی جانب سے رہبرِ معظم انقلاب کے بارے میں توہین آمیز کلمات ادا کیے گئے ہیں۔ بظاہر نہ امریکی قیادت اور نہ صہیونی حکام کو شیعہ اسلامی ثقافت اور دینی غیرت کا ادراک ہے اور نہ ہی انہیں اس امر کی صحیح سمجھ ہے کہ مسلمان اپنے دینی مراجع اور قیادت کے خلاف جارحیت و اہانت کے مقابل کس انداز میں دفاع کرتے ہیں۔
مکتبِ تشیع میں علماء اور اعلام اور مراجعِ عظام کا مقام نہایت رفیع اور مقدس ہے۔ کسی بھی ملک کا سربراہ یا ترجمان جب اس منصب کے بارے میں زبان کھولتا ہے تو اسے الفاظ کے انتخاب اور ان کے نتائج کی سنگینی کا ادراک ہونا چاہیے۔ جب ایک مرجعِ تقلید اور دینی رہبر کو دھمکی دی جاتی ہے تو یہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک دینی و اعتقادی نظام کو مخاطب کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ عالمِ اسلام کے مختلف خطوں، بالخصوص پاکستان سمیت متعدد ممالک میں، اس طرزِ عمل کے خلاف شدید ردِّ عمل سامنے آیا اور ان دھمکیوں کی سخت مذمت کی گئی۔
کانفرنس کے اختتام پر علامہ اصغر عسکری نے اعلامیہ پیش کیا جس میں کہا گیا کہ مرجعیت، فتویٰ اور حکمِ شرعی کو تاریخِ اسلام اور خصوصاً تاریخِ تشیع میں بنیادی اور مقدس حیثیت حاصل ہے۔ واقعۂ عاشوراء کو دینی غیرت اور حق کے دفاع کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عصر حاضر میں مراجعِ عظام اور علماء کے بیانات دین اور امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
اعلامیہ میں اسلامی قیادت اور ولایت کے خلاف دھمکی آمیز رویوں کی مذمت کرتے ہوئے اتحاد اور بیداری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کانفرنس سے علامہ سید علی محمد نقوی، علامہ سید جابر حسین شیرازی اور علامہ اصغر عسکری سمیت دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں ضلع اسلام آباد اور راولپنڈی سے بڑی تعداد میں علمائے کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ