حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیماتِ قرآن و اہلِ بیت (ع) محراب پور سندھ پاکستان کے زیرِ انتظام خمسہ معرفتِ امامِ زمانہ (عج)" کا خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

پروگرام میں برادر منظر عباس حسینی نے منقبت خوانی کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر معرفت امام زمانہ کی عنوان پہ مختلف علمائے کرام نے خطاب کیا۔
مولانا امداد حسین شجاعی نے امام زمانہؑ کی غیبت میں ہماری ذمہ داریاں کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کے اس دور میں ہم مؤمنین پر کئی اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جن میں سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری امام زمانہؑ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ یہ دور مومن کے لیے نہایت سخت ترین حالات، امتحان اور آزمائش کا زمانہ ہے، جہاں ایمان کو پرکھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیبت کے دور کی اہم ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
معرفتِ امام زمانہؑ
امامؑ کی پہچان، ان کی امامت پر کامل یقین اور ان سے فکری و عملی وابستگی۔
امامت پر ایمان
امامؑ کو اللہ کی حجت ماننا اور ان کی ولایت کو دل و عمل سے قبول کرنا۔
دشمنانِ اہلِ بیتؑ سے بیزاری
حق کے مقابل ہر باطل نظریے اور دشمنِ اہلِ بیتؑ سے واضح لاتعلقی۔
رابطۂ قلبی امامؑ سے
دعا، انتظار، اطاعت اور یادِ امامؑ کے ذریعے قلبی تعلق کو مضبوط رکھنا۔
قرآن و سنت کے مطابق زندگی
اپنے اعمال، اخلاق اور معاشرت کو قرآن و سنتِ محمدؐ و آلِ محمدؑ کے مطابق ڈھالنا۔
تجدیدِ عہد
امام زمانہؑ سے وفاداری کے عہد کی مسلسل تجدید اور ان کے ظہور کی عملی تیاری۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی
عبادات کی پابندی اور بندوں کے حقوق کا خیال رکھنا، کیونکہ یہی حقیقی انتظار کی علامت ہے۔
بعد میں قبلہ مولانا محمد اسلم صادقی صاحب نے خطاب میں کہا کہ امامِ زمانہؑ پوری بشریت کے لیے امید ہیں۔ ہم سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اُن کے ظہور کی راہ ہموار کریں۔
انہوں نے کہا کہ روایات کے مطابق امامِ زمانہؑ کی ندا ظہور سے پہلے بلند ہوگی، جو تقریباً چھ ماہ قبل سنائی دے گی اور یہ آواز مومنین کے لیے واضح پیغام ہوگی۔ نداۓ امامِ زمانہؑ ضرور آئے گی اور وہی لوگ اس آواز کو پہچان سکیں گے۔ جن کے دل تقویٰ سے روشن ہوں گے۔
اس موقع پر مولانا حیدر علی عامر صاحب نے
امام زمانہ کی معرفت اور محبت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مؤمن کی اہم زمہ داری ہے کہ وہ امام زمانہ کی معرفت حاصل کرے۔ امام زمانہ کے لشکر میں شامل ہونے کی شرط صرف رتبہ یا حیثیت نہیں، بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔ مثال کے طور پر: کربلا میں وہب قلبی کی طرح، جو بے لوث محبّت اور اخلاص کے ساتھ امام کے لیے حاضر ہوا۔

دوستی اور اخلاص
انہوں نے مزید کہا کہ دوستِ امام زمانہ وہ ہے جو اخلاص، تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرے۔ مؤمن کی عزت لازمی ہے اور یہ عزت امام زمانہ سے جڑتی ہے۔
اہلبیت کی محبت
انہوں نے کہا کہ مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت رکھے۔امام محبان اہل بیت اور مریدوں کی عزت کریں، تاکہ معرفت امام اور محبت اہل بیت دونوں قائم رہیں۔
آخر میں دعائے امام زمانہ عجل فرج سے پروگرام کا اختتام کیا گیا۔










آپ کا تبصرہ