جمعرات 5 فروری 2026 - 12:23
عصرِ غیبت میں خواتین کی فردی اور اجتماعی ذمہ داریاں

حوزہ/ اس دور میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ افراد جو اپنے امام، پیشوا، آقا و مولا یا حجت خدا کے ظاہر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیا ان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ؟ یا نہیں ؟ اور اگر کچھ ذمہ داریاں ہیں تو کیا وہ صرف مردوں سے مخصوص ہیں یا اس دور میں خواتین کی بھی ذمہ داریاں ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں ایک انسان اور شیعہ ہونے کے حساب سے اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

تحریر: مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

مقدمہ:

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے غیبت کے دو دور ہیں جن کو غیبت صغری اور غیبت کبری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ غیبت صغری میں امام (عج) کے چار نائب تھے جوکہ نواب اربعہ کے نام سے مشہور ہیں، اختلاف روایات کی بناپر غیبت صغریٰ کا مجموعی زمانہ 69 یا 74 سال کا تھا۔ غیبت کبریٰ امام مہدی (عج) کی غائبانہ زندگی کا دوسرا دور ہے جو سنہ۳۲۹ ھ اور آپ کے چوتھے نائب علی بن محمد سمری کے انتقال سے شروع ہوا ہے، جوکہ آپ کے ظہور تک جاری رہے گا۔ جس زمانے میں ہم زندگی گزار رہے ہیں اسے عصر غیبت کبری کہا جاتا ہے۔عصر غیبت یعنی :ایسا زمانہ جس میں موجود حجت اور خلیفۂ خدا نظروں سے اوجھل ہیں اور دنیا والے ان کی آمد اور ظہور کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس دور میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ افراد جو اپنے امام، پیشوا، آقا و مولا یا حجت خدا کے ظاہر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیا ان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ؟ یا نہیں ؟ اور اگر کچھ ذمہ داریاں ہیں تو کیا وہ صرف مردوں سے مخصوص ہیں یا اس دور میں خواتین کی بھی ذمہ داریاں ہیں ؟
اس میں کوئی شک نہیں ایک انسان اور شیعہ ہونے کے حساب سے اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان میں کوئی فرق نہیں ہے، اسلام نے انسان کی ایک دوسرے پر برتری کا معیار میں تقوی و پرہیزگاری کو قرار دیا ہے، ارشاد رب العزت ہورہا ہے : إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُم ترجمہ: خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے ۔(سورہ حجرات آیت 13 ) لہٰذا جو تقویٰ کے جتنے بلند درجات پر فائز ہوگا وہ اتنا ہی اللہ کے نزدیک مقرب بندہ ہوگا۔
لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں دونوں صنف اپنی خلقت اور نشو و نما کے اعتبار سے ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں، اسی وجہ سے جہاں اسلام میں کچھ احکامات مشترک ہیں وہاں ایسے بھی احکامات ہیں جو کسی ایک صنف سے مخصوص ہیں، اسی طرح عصر غیبت امام زمانہ (عج) میں کچھ ایسی ذمہ داریاں جس میں مرد اور عورت مشترک ہیں اور کچھ ایسی ذمہ داریاں ہیں جو کسی ایک خاص صنف سے مخصوص ہیں، اس مقالے میں پہلے مختصراً ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا جائے گا جو مرد اور عورت کے درمیان مشترک ہیں، پھر تفصیلی طور پر عصر غیبت میں خواتین کی فردی اور اجتماعی ذمہ داریاں کو بیان کیا جائے گا۔

الف: عصرِ غیبت میں مومنین کی ذمہ داریاں

ذیل میں اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ان اہم ترین ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کریں گے جن میں مرد اور خواتین دونوں ہی مشترک ہیں۔

1- معرفت خدا، رسول خدا اور معرفت امام زمانہ (عج):

سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم جس دین کے پیروکار ہیں، اس دین کے بھیجنے اور لانے والے کی معرفت کے ساتھ ساتھ اس دین کے محافظ کی معرفت حاصل کریں۔
جیساکہ شیخ کلینی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ (ع)نے زرارہ کو یہ دعا تعلیم فرمائی کہ ہمارے شیعہ امام زمانہ(عج) کی غیبت اور اپنی آزمائش و امتحان کے سخت موقع پر اس دعا کوضرور پڑھیں، وہ دعا یہ ہے:
اَللّهُمَّ عَرِّفْنى نَفْسَكَ فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى نَفْسَكَ لَمْ اَعْرِف نَبِيَّكَ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى رَسُولَكَ فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى رَسُولَكَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَكَ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى حُجَّتَكَ فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دينى.( اصول کافی، ج ۱، ص ۳۳۷، اسکے علاوہ مفاتیح الجنان میں بھی یہ دعا موجود ہے۔)
ترجمہ: بارالٰہا؛ تو مجھے اپنی معرفت(شناخت) عطا کر اس لئے کہ اگر تونے مجھے اپنی معرفت عطا نہیں کی تو مجھے تیرے نبی کی معرفت حاصل نہ ہوگی۔ خدایا ! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت عطا کر اس لئے کہ اگر تونے مجھے اپنے رسول کی معرفت عطا نہیں کی تو مجھے تیرے حجت کی معرفت حاصل نہ ہوگی۔میرے اللہ: تومجھے اپنی حجت کی معرفت عطا کر کیونکہ اگر تونے مجھے اپنی حجت کی معرفت نہیں عطا کی تو میں اپنے دین ہی سے گمراہ ہوجاؤں گا۔
لہٰذا جیساکہ مولائے کائناتؑ نے بھی فرمایا ہے : دین کی ابتدا معرفت پروردگار سے ہے،ہمیں اللہ کی معرفت کے ساتھ رسولؐ اور جانشین رسولؑ کی معرفت حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ ماتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إمامَ زَمانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة. ترجمہ: جو شخص بھی اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتاہے ۔ ( اصول کافی، ج۱، ص ۳۷۷۔)۔

2- اطاعت و پیروی:

صرف معرفت کا حاصل کرلینا کافی نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کے فرامین اور ان کی ہدایات کے مطابق زندگی گزاری جائے۔کیوں کہ انتظار اُس ہستی کا کیا جا رہا ہے جو مستقبل قریب میں دین الٰہی کو دنیا میں عام کرے گا اور اس میں دینی احکامات کو نافذ کرے گا جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہو رہا ہے (سورہ فتح آیت ۲۸ وغیرہ) لہذا اس سنہرے دور کے لئے اگر ہم آمادہ ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دین کی تعلیم کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنا لازمی ہے۔

3- تعلیمات اہلبیت علیہم السلام کو لوگوں تک پہنچانا:

معرفت کو حاصل کرکے اس پر عمل پیرا ہونے کے بعد ضروری ہے کہ کہ ان کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچائیں، جیسا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے غیبت کے زمانے میں دینی فرامین کی وضاحت اور اسکی تبلیغ و تشہیر کی ذمہ داری علماء کرام پر رکھی ہے۔خود امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اپنی غیبت کے ابتدائی ایام میں پیروان راہ حق کی رہنمائی علما ءکی جانب فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ وہ با تقوا علمائے حق کی پیروی کریں اور اپنی زندگی کے مسائل میں ان کی جانب رجوع کریں۔ جیساکہ معلوم ہے کہ یہ ذمہ داری صرف علماء کی نہیں ہے، بلکہ ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے۔

4- عالم انسانیت کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ:

عقیدۂ مہدویت صرف مسلمانوں یا شیعوں سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ دنیا کہ تمام ادیان اور مکاتبِ فکر میں’’منجی‘‘ کا تصور پایا جاتا ہے، لہٰذا ضروری ہے تمام برادران ایمانی کے ساتھ ساتھ برادران وطن سے رواداری برتی جائے، تاکہ پوری بشریت ایک ساتھ مل کر عالمی سطح پر مہدوی سماج کی تشکیل کے لئے زمین ہموار کر سکے۔

5- دشمن کی شناخت:

انسانیت کا دشمن حقیقی شیطان ہے۔ (جیساکہ پروردگار عالم سورہ یاسین آیت 45 میں فرما رہا ہے)، جو کہ اول روز سے ہے اور قیامت تک رہے گا، لہٰذا ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ عصر غیبت میں دین، ایمان، اسلامی ثقافت، حیا اور اخلاق و کردار کو نشانہ بنانے والے دشمنان اسلام اور سامراجی طاقتوں کے منصوبوں سے ہوشیار رہیں اور ان کے شیطانی منصوبوں کے مقابلے میں ایک درست لایحہ عمل کے تحت واحد قیادت کے سائے میں آگے بڑھا جائے۔

ب: عصرِ غیبت میں خواتین کی فردی اور اجتماعی ذمہ داریاں

ذیل میں عصرِ غیبت میں خواتین کی ذمہ داریوں کو دو حصوں میں بیان کریں گے:

1۔ عصر غیبت میں خواتین کی فردی و خانوادگی ذمہ داریاں

جیساکہ حدیث کساء میں موجود افراد کے تعارف سے معلوم ہوتا ہےکہ کسی بھی خاندان کا اصل محور عورت ہوتی ہے، وہ خاندان کی بنیاد قائم کرتی ہے اور خاندان میں عورت کے جذباتی اور نفسیاتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاندان میں خواتین کے اثر و رسوخ کو ماں، بہن اور بیوی کے کردار میں مختلف پہلوؤں سے اور ظاہری انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان بنیادی کرداروں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جن کا ذکر قرآن میں بھی ہے، ہم ذیل میں عصر غیبت میں خواتین کی فردی اور خانوادگی ذمہ داریاں کا جائزہ لیں گے۔

الف- باطن کو بری خصلتوں سے پاک کرنا اور اپنے آپ کو اچھے اخلاق سے آراستہ کرنا:

خود کی اصلاح اور اور اچھے اخلاق سے آراستگی ان مسائل میں سے ایک ہے جس پر ہر زمانہ میں ہر مومن کو توجہ دینی چاہیے۔وہ خواتین جو حجت آخر کا انتظار کر رہی ہیں ، ان کو چاہیے اپنی عفت کی حفاظت کریں، یعنی اپنے نفس کو نفسانی خواہشات اور شہوتوں سے بچائیں اور اپنی روح کی بلندی کے لیے زمینہ فراہم کریں اور شیطانی فتنوں کی پیروی سے پرہیز کریں۔

ب- خواتین آنے والے نسل کی معلم:

اسلام نے ماں کو خصوصی اہمیت دی ہے اور قرآن پاک میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے ماں کو خصوصی مقام دیا ہے۔ کیونکہ ایک ماں اپنے عمل اور طرز عمل سے اپنے بچوں کو اللہ کی اطاعت اور امامؑ کی خدمت کا معیار سکھا سکتی ہے۔ جس طرح امام حسن مجتبی علیہ السلام اپنی والدہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو رات سے صبح تک دیکھتے ہیں جو رات سے صبح تک عبادت خدا میں مشغول رہتی ہیں اور اپنے پڑوسیوں کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔
وہ ماں جو خدا اور وقت کی امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے محبت کا مظہر ہے، اور ہر صبح کا آغاز دعائے عہد سے کرتی ہے ، رضائے الٰہی کے سوا کوئی قدم نہیں اٹھاتی، اپنے رات و دن کو اپنے وقت کے امامؑ اور خدا کے ذکر کے ساتھ اپنے شوہر بچوں کی خدمت میں گزارتی ہے، یقیناً اس کے اس عمل سے خاندان پر گہرے معنوی اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ بچپن میں بچے والدین سے متاثر ہوتے ہیں اور والدین کو رول ماڈل مانتے ہیں۔ اس لیے والدین کا ایک دوسرے کے ساتھ صحیح برتاؤ اور بالواسطہ تعلیم جو بچے رول ماڈلنگ کے ذریعے سیکھتے ہیں ان کے مستقبل پر زبردست اثرات مرتب کرتے ہیں۔اس لیے ماں کو بچہ کی تعلیم و تربیت میں اسلامی نظام تعلیم کو معیارِ تعلیم و تربیت قرار دینا چاہیے، تاکہ آنے والی نسل اسلام کے حتمی مقاصد کے ساتھ تعلیم یافتہ ہو اور گمراہ اور بے مقصد نسل نہ بن جائے۔

ج- شوہر اور خانوادہ کی حفاظت: مہدوی

معاشرے میں خواتین کا سب سے اہم مذہبی اور اخلاقی فریضہ ایک بیوی ہونے کی ذمہ داری قبول کرنا ،اور خانوادہ میں خاندان کے وارث(شوہر) کو اہمیت دینا اور گھر کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔خاص طور پر موجودہ دور میں جب زوال پذیر مغربی ثقافت نے ہمیشہ حقوق نسواں کا پرچار کرکے خواتین کے اس فطری اور اخلاقی فرض کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود پرعزم اور با اخلاق خواتین نے ہمیشہ اپنے شوہروں کے تئیں اپنی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری کے بارے میں بصیرت اور آگاہی کے ساتھ فخر کیا ہے۔ بے لوث خواتین جیسے "زہیر ابن قین بجلی کی اہلیہ دلہم بنت عمرو، جن کا گھر اور خاندانی ماحول میں بھی رہنمائی کا کردار ہے اور انہوں نے اپنی نجات کے ساتھ ساتھ دنیا کو انتظار کی پرورش کی سعادت بھی فراہم کی ہے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بیوی اور ماں کے کردار کو بے نظیر طریقہ سے دنیا کے سامنے پیش کیا اور اپنے بچوں حسنؑ و حسین ؑاور زینبؑ و ام کلثوم ؑ کی پرورش اپنے ایک چھوٹے سےگھر میں اس طرح کی کہ ان میں سے ہر ایک اپنی زندگی کے میدان میں تاریخ ساز اور انقلابی تھا۔ اسلام کی یہ مثالی خاتون اپنے شوہر کے لیے ایک خوشگوار اور پاکیزہ ماحول فراہم کرنے میں کامیاب رہی جس کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی میں گھر آتا ہوں اور میری نظر فاطمہ ؑپر پڑتی تو میں اپنے غم کو بھول جاتا ہوں۔ ہماری خواتین کو بھی اپنے گھریلو ماحول اسی طرح خوشگوار رکھنا چاہیے۔

2) عصرِ غیبت میں خواتین کی اجتماعی ذمہ داریاں

انفرادی فرائض کی انجام دہی کے بعد خواتین مختلف سماجی شعبوں میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جس طرح ابتدائے اسلام سے لے کر سماجی میدانوں میں خواتین کی سرگرمیاں اور ان کی رسولؑ و امامؑ کی حمایت عیاں ہے، اسی طرح عصر غیبت میں بھی خواتین جب تک تمام سماجی امور میں اپنا کردار بخوبی ادا کرتی رہیں گی، اس سے سماجی بنیادیں مضبوط ہوں گی اور عالم اسلام پر غلبہ پانے کی متکبرانہ سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے گا اور ظہور کے لیے بنیادیں فراہم کی جاسکیں گی۔

الف- سماجی بیداری:

اگر معاشرے میں امام زمانہ (عج ) کی موجودگی کے بارے میں سماجی بیداری پیدا نہ ہو، توجس طرح سماجی بیداری نہ ہونے کیوجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام کو اپنے زمانے میں جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، اور لوگوں نے ان کو تنہا چھوڑ دیا، اور ان کی مدد نہ کی ، اسی طرح سماجی بیداری کا نہ ہونا امام زمانہ (عج) کی عدم موجودگی اور ظہور میں تاخیر کا سبب بنی۔ لہذا امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لیے موثر کردار ادا کرنے کے لیے خواتین کو انتظار کرنے والوں کے عمومی فرائض سے آشنا ہونا چاہیے ، اور دیگر خواتین کو بھی انسان کامل حضرت امام عصر (ارواحنا لہ الفدا) کے بارے میں بتانا چاہیے تاکہ وہ بھی امام زمانہ علیہ السلام کے نقش قدم پر چل سکیں اور ایک مہدوی معاشرہ تشکیل دیں سکیں۔

ب- اسلامی اقدار کی حفاظت:

اسلامی معاشرے پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے دشمنوں کا ایک موثر طریقہ ثقافتی تسلط ہے، جس میں کامیابی کے لیے دشمن اپنے تمام ہتھیار استعمال کرتا ہے، مغربی ثقافتی یلغار کا ایک اہم ترین عنصر ادراک اور عقائد کی تبدیلی، اقدار اور رجحانات کی تبدیلی ہے، جس سے رویوں اور اعمال میں بھی تبدیلی آئے گی۔ اسلامی احکام کی ترویج میں خواتین کا کردار ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ان نازک حالات میں جہاں مردوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسی خواتین نے امامت کا ساتھ دیا اور دشمن کے پروپیگنڈے سے لوگوں کو آگاہ کیا اور جس طرح خواتین نے ہمیشہ اسلام اور اسلامی اقدار کے دفاع میں حصہ لیا اور اسلام کی بقا میں نمایاں کردار ادا کیا، اس پر آشوب زمانہ میں بھی خواتین کی ذمہ داری ہے کے وہ جناب زہرا علیہا السلام اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے اسلامی اقدار کی حفاظت کریں، اور دین اسلام کا دفاع کریں۔
ج- معاشرے میں معاشی انصاف کی بنیاد: ظہور کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لیے معاشرے میں معاشی انصاف کی بنیاد فراہم کی جانی چاہیے اور دوسری طرف لوگوں کے سماجی اور معاشی شعور کو بیدار کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ وہ ایک منصفانہ معیشت کی پیروی کریں اور امیر اپنے ماتحتوں کے معاشی حقوق کا احترام کریں اور خمس، زکوٰۃ اور دیگر حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں۔ خواتین اور مردوں کو چاہیے کہ وہ ان معاشی حقوق سے واقف ہوں جو اسلام نے انھیں دیے ہیں اور ان سے صحیح طریقے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

خلاصہ کلام:

امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی پہچان اور معرفت ہر مسلمان کا اہم ترین فریضہ ہے۔ کیونکہ یہ دنیا اور آخرت میں اس کے کام آتی ہے۔ دنیا میں امام کو صحیح طریقے سے پہچاننے میں ناکامی گمراہی اور جہالت کی موت کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے تمام مومنین کی ذمہ داری معرفت امامؑ کے ساتھ ان کی اطاعت اور ان کے علوم کو نشر کرنا اور آپسی یکجہتی اور بھائی چارگی سے دشمنوں کی سازش کو ناکام کرنا ہے۔ مردوں کی طرح خواتین کی بھی عصر غیبت میں فردی اور اجتماعی ذمہ داریاں ہیں، لہٰذا ضروری ہے کے وہ جناب زہرا علیہا السلام اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت کریں اور سماجی بیداری کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کی حفاظت کریں، اور دین اسلام کا دفاع کریں اور ایک مہدوی معاشرہ تشکیل دینے میں مردوں کی مدد کریں۔

خلاصہ مقالہ:

عصر غیبت امام زمانہ (عج) میں کچھ ایسی ذمہ داریاں جس میں مرد اور عورت مشترک ہیں اور کچھ ایسی ذمہ داریاں ہیں جو کسی ایک خاص صنف سے مخصوص ہیں، اس مقالے میں پہلے مختصراً ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو مرد اور عورت کے درمیان مشترک ہیں، پھر تفصیلی طور پر عصر غیبت میں خواتین کی فردی اور اجتماعی ذمہ داریاں کو بیان کیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha