تحریر: محدثہ بتول بلتستانی
حوزہ نیوز ایجنسی| انسانی فطرت میں ازل سے ایک امید، ایک جستجو اور ایک گہرا انتظار موجود رہا ہے کہ کوئی ایسا رہبر آئے جو ظلم کے مقابل کھڑا ہو، عدل کو قائم کرے، مظلوموں کا سہارا بنے اور دنیا کو ایسے نظام میں تبدیل کر دے جہاں حق سربلند اور باطل سرنگوں ہو۔
اسی فطری آرزو کو مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں مختلف ناموں سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسے: مسیح، مہدی، منجی اور مصلحِ آخرالزمان۔ اسلام میں یہی امید امام مہدی علیہ السلام یا امام زمانہ (عج) کے عقیدے کی صورت میں جلوہ گر ہے۔
امام زمانہ (عج) کا عقیدہ محض ایک مذہبی تصور نہیں بلکہ ایک زندہ، بیدار اور عملی امید ہے، جو مومن کے دل میں ظلم کے خلاف جدوجہد، صبر کی تربیت اور عدل و انصاف سے محبت کو پروان چڑھاتی ہے۔
اس تحریر میں امام زمانہ (عج) کی شناخت، غیبت، صفات، ظہور اور زمانۂ غیبت میں مومن کی ذمہ داریوں کا اجمالی مگر جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
امام زمانہ (عج) کی شناخت
امام زمانہ علیہ السلام کا اسمِ گرامی محمد بن حسن العسکری ہے۔ آپ کو متعدد القاب سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں امام مہدی، قائم، حجۃ بن الحسن، صاحب الزمان، صاحب الامر، امام عصر اور امام زمانہ شامل ہیں۔
شیعہ عقیدے کے مطابق آپ اہلِ بیتِ اطہارؑ کے بارہویں اور آخری امام ہیں۔
آپ کی ولادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ھ کو سامرّاء میں ہوئی۔ آپ کے والد امام حسن عسکریؑ ہیں، جبکہ والدہ کا نام مختلف روایات میں نرگس، ملیکہ اور سوسن بیان ہوا ہے۔
آپ کا نسب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کے ذریعے جا ملتا ہے، اسی لیے آپ اہلِ بیتؑ کی آخری اور نہایت مقدس کڑی ہیں۔
امام زمانہ (عج) کی شناخت صرف تاریخی یا نسبی نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور اجتماعی بھی ہے۔ آپ اس دور کے منجی ہیں جب دنیا ظلم، فتنہ، بے یقینی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جائے گی، اور انسانیت عدل و انصاف کی متلاشی ہو گی۔
غیبتِ امام زمانہ (عج)
امام زمانہ (عج) کی حیاتِ مبارکہ کا ایک اہم پہلو غیبت ہے، جس کے دو ادوار ہیں:
1۔ غیبتِ صغریٰ
امام حسن عسکریؑ کی شہادت (۲۶۰ھ) کے بعد امامت کا منصب امام زمانہ (عج) کو عطا ہوا۔ اس دور میں آپ کا رابطہ مومنین سے چار مخصوص نائبین کے ذریعے ہوتا رہا:
عثمان بن سعید
محمد بن عثمان
حسین بن روح
علی بن محمد السمّری
یہ حضرات امام کے نمائندے تھے، جن کے ذریعے مومنین کے دینی و شرعی مسائل حل کیے جاتے تھے۔ اس دور میں امام کی موجودگی روحانی اور ہدایت بخش تھی، جس نے شیعہ معاشرے کو منظم رکھا۔
2۔ غیبتِ کبریٰ
۳۲۹ھ کے بعد غیبتِ کبریٰ کا آغاز ہوا، جس میں امام زمانہ (عج) کا براہِ راست رابطہ ختم ہو گیا، مگر آپ کی حیات اور امامت بدستور برقرار ہے۔
غیبتِ کبریٰ کے اہم اسباب:
امتحانِ ایمان:
تاکہ مومنین کا ایمان، صبر اور استقامت آزمائی جا سکے۔
امام کی حفاظت:
دشمنوں کے شر سے تحفظ
انتظار کی تربیت:
مؤمن کو بیداری، شعور اور عملی تیاری کی راہ سکھانا۔
انتظار کی معنویت
انتظار محض ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ ایک شعوری، بیدار اور فعال کیفیت ہے۔ انتظار انسان کو خودسازی، اصلاحِ معاشرہ، عدل پسندی اور ظلم سے نفرت سکھاتا ہے۔ حقیقی منتظر وہ ہے جو اپنے عمل سے امام کے ظہور کی راہ ہموار کرے۔
صفات و کمالاتِ امام زمانہ (عج)
امام زمانہ (عج) عصمت، علم، تقویٰ، عدل، روحانیت اور اخلاقی کمالات کے حامل ہیں۔
عصمت و علم
آپ گناہ سے محفوظ ہیں اور اللہ کی عطا کردہ بصیرت کے ذریعے انسانی فطرت، حالاتِ زمانہ اور مستقبل کے تقاضوں سے آگاہ ہیں۔
اخلاقی کمالات
رحمت، عدل، صبر، حلم، مظلوموں سے محبت اور انسانیت کی خیر خواہی آپ کی نمایاں صفات ہیں۔
احادیثِ مہدی (عج)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے مہدی (عج) کے بارے میں متعدد احادیث منقول ہیں، جن میں فرمایا گیا: “مہدی میری اولاد میں سے ہے…”
“وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم سے بھری ہوگی…”
یہ احادیث امام زمانہ (عج) کے کردار اور مشن کی تصدیق کرتی ہیں۔
ظہور کی نشانیاں
ظہور سے قبل دنیا میں فتنہ، ظلم، اخلاقی زوال، ناانصافی اور بے راہ روی عام ہو جائے گی، جو انسانیت کو منجی کی ضرورت کا احساس دلائے گی۔
منظوم عقیدت و انتظار
یا صاحب العصر، تیرا انتظار ہے
یا صاحب الزمان، تیرا انتظار ہے
دل کی دھڑکن میں تیرا نام بسا ہے
ظلم کی تاریکی میں تو نورِ خدا ہے
زہراؑ کی اولاد، شمعِ ہدایت
تیری آمد سے مٹے گی ہر سیاہ رات
ہم تیرے منتظر، ہم تیرے فداکار
ظہورِ مبارک ہو، اے قائمِ آلِ اطہارؑ









آپ کا تبصرہ