حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے درسِ فقہ کے دوران ولادتِ باسعادت حضرت ولی عصر (عج) کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح کی مذہبی مناسبتوں کو صحیح انداز میں منانا ضروری ہے۔ اگرچہ ان ایام میں خوشی، مسرت اور نعت و اشعار کا اہتمام پسندیدہ ہے، لیکن اصل مقصد امام کے مقام و مرتبے کو سمجھنا اور ان سے حقیقی رابطہ قائم کرنا ہونا چاہیے۔ ہم امام کو سلام کرتے ہوئے یہ جملے ادا کرتے ہیں: السَّلامُ عَلَیْکَ حِینَ تَقُومُ السَّلامُ عَلَیْکَ حِینَ تَقْعُدُ السَّلامُ عَلَیْکَ حِینَ تَقْرَأُ وَ تُبَیِّنُ…»
انہوں نے اسلامی ثقافت اور تمدن میں ’’عقل‘‘ کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کلینی نے کتاب ’’الکافی‘‘ کے مقدمے میں عقل کو کسی بھی ملت کا ثقافتی محور قرار دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں فہم و شعور کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے حوزۂ علمیہ کی علمی ترقی میں دانشمندانہ قیادت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے حوزۂ نجف کی تاریخ کا حوالہ دیا اور کہا کہ نجف پہلے ایک علمی مرکز تھا، بعد میں شہر کی حیثیت اختیار کی۔ امام سجاد علیہ السلام کے شاگرد ابوحمزہ ثمالی کی علمی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ ابتدا ہی سے علم و تربیت کا مرکز رہا ہے۔
انہوں نے مرحوم بحرالعلوم کے واقعات بیان کرتے ہوئے سید مرتضیٰ اور سید رضیٰ جیسے بزرگوں کی مالی و علمی مدیریت کو حوزۂ نجف کی ترقی میں فیصلہ کن قرار دیا اور کہا کہ حوزۂ علمیہ کا کام صرف طلبہ کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ باصلاحیت افراد کی سرپرستی کرنا ہے، تاکہ شیخ انصاری اور صاحبِ جواہر جیسے عظیم علما تیار ہوں۔ یہی درست حکمتِ عملی سید مرتضیٰ اور سید رضیٰ نے اختیار کی تھی، جس کے نتیجے میں شیخ طوسی جیسی عظیم علمی شخصیت پروان چڑھی۔
مرجعِ تقلید نے اہل بیتِ عصمت و طہارت (علیہم السلام) سے توسل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام علوم محض درس و بحث سے حاصل نہیں ہوتے۔ معجزہ، امامت اور عصمت جیسی حقیقتیں عام تعلیمی راستوں سے حاصل نہیں کی جا سکتیں، بلکہ یہ خالصتاً الٰہی عطیات ہیں۔ امام کا علم بھی انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ربانی حقیقت ہے۔
آخر میں آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے علما اور دینی رہنماؤں کو نصیحت کی کہ وہ علمی تصنیفات کے ساتھ ساتھ اپنے عملی کردار پر بھی توجہ دیں، اور دعا کی کہ معاشرہ، ذمہ داران اور عوام ہمیشہ حضرت ولی عصر (عج) کی دعاؤں کے زیرِ سایہ رہیں۔









آپ کا تبصرہ