حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں منعقدہ ایک محفل سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین سید رحیم توکل نے کہا ہے کہ زہد و عبادت اگر بصیرت اور ولایت سے وابستہ نہ ہو تو وہ انسان کو اہلِ بیت علیہم السلام کے راستے سے دور کر دیتی ہے۔
انہوں نے امام خمینیؒ اور شہداء کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسان اور معاشرے کی پائیداری کے لیے دو بنیادی اصول، یعنی تقوا اور احسان نہایت اہم ہیں۔ جو افراد چاہتے ہیں کہ وہ اور ان کی نسل امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے سچے سپاہی بنیں، انہیں چاہیے کہ حضرت ولی عصرؑ سے اپنی وابستگی کو مضبوط کریں۔
حجت الاسلام توکل نے حضرت فاطمہ معصومہؑ اور شہدائے کربلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی ظاہری زندگی مختصر تھی، لیکن ان کی برکات آج تک جاری ہیں۔ یہی راز شہداء کی زندگی اور شہادت میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
انہوں نے نہج البلاغہ کے خطبہ 193 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کامل انسان کی صفات بیان کرنے سے قبل دو باتوں پر زور دیا: تقوا اور احسان۔ تقوا کا مطلب صرف گناہ سے بچنا نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان، دل اور خاندان کی حفاظت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ کے دو اصحاب، حمّام اور ربیع بن خثیم کی زندگی اس کی واضح مثال ہے۔ حمّام نے تقوا و احسان کے ذریعے کمال حاصل کیا، جبکہ ربیع بن خثیم عبادت کے باوجود ولایت سے دوری کے باعث گمراہی کا شکار ہو گیا۔
سید رحیم توکل نے جدید دور کے چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موبائل، انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کو متاثر کرتا ہے، جس سے بچاؤ تقوا کا تقاضا ہے۔
انہوں نے احسان کو زندگی کا مرکزی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کو اپنے منصب اور ذمہ داری کے مطابق خدمت کو شعار بنانا چاہیے۔ قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ تقوا اور اہلِ احسان کے ساتھ ہوتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر خاندان، نسل اور معاشرہ پائیدار اور با برکت بنانا ہے تو تقوا اور احسان کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔









آپ کا تبصرہ