تحریر: محترمہ سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی| ماہِ مبارک رمضان، الله تعالیٰ کی طرف سے امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم دعوت ہے؛ ایسی دعوت جو انسان کو اس کی غفلت پر چونکاتی ہے، اس کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے اور اسے اس کے اصل مقصدِ حیات کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ رمضان محض روزہ رکھنے، سحر و افطار کرنے یا چند مخصوص عبادات انجام دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان، معاشرہ اور امت کی ہمہ جہت اصلاح کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو اگر صحیح معنوں میں سمجھ لیا جائے تو پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔
رمضان کی آمد دراصل ایک الٰہی اعلان ہے کہ اب غفلت کا وقت ختم ہوا، اب جاگنے کا وقت ہے۔ جو انسان گیارہ مہینے دنیا کی دوڑ میں اللہ کو بھول جاتا ہے، رمضان آکر اسے جھنجھوڑ کر کہتا ہے کہ تو صرف جسم نہیں، تو ایک امانت دار روح بھی ہے۔ یہ مہینہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ مسلمان صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ حق کی گواہی دینے اور عدل کے قیام کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
روزہ اسلام کی انقلابی عبادت ہے۔ یہ عبادت انسان کے اندر سب سے طاقتور دشمن، یعنی نفس، کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ جب انسان حلال چیزوں سے بھی اللہ کے حکم پر رک جاتا ہے تو وہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ خواہش کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہی ضبطِ نفس انسان کو ظلم، گناہ اور باطل کے سامنے جھکنے سے روکتا ہے۔ روزہ انسان کو کمزور نہیں بلکہ باطنی طور پر طاقتور بناتا ہے۔
رمضان کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ اسی مہینے میں قرآنِ مجید نازل ہوا۔ قرآن محض تلاوت یا ثواب کی کتاب نہیں، بلکہ یہ زندگی گزارنے، معاشرہ بنانے اور نظام بدلنے کی کتاب ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان قرآن سے جڑے تو قیادت ان کا مقدر بنی، اور جب قرآن سے دور ہوئے تو ذلت ان کا نصیب بن گئی۔ رمضان ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم قرآن کو دوبارہ اپنی زندگی کا مرکز بنائیں، اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس پر عمل کریں۔
رمضان ہمیں اخلاقی انقلاب کی طرف بھی بلاتا ہے۔ اگر روزے کے باوجود ہماری زبان جھوٹ بولتی رہے، غیبت جاری رہے، نگاہیں گناہ سے نہ بچیں اور ہاتھ ظلم سے نہ رکیں تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم نے روزے کی روح کو پایا بھی ہے یا نہیں۔ حقیقی رمضان وہ ہے جو انسان کو صادق، امانت دار، باحیا اور بہادر بنا دے۔
یہ مہینہ ہمیں امت کے درد سے جوڑتا ہے۔ بھوک ہمیں غریب کی بھوک یاد دلاتی ہے، پیاس ہمیں مظلوم کی پیاس کا احساس سکھاتی ہے، اور سادگی ہمیں فضول خرچی سے روکتی ہے۔ رمضان ہمیں بے حس نہیں بلکہ ذمہ دار اور درد مند مسلمان بنانا چاہتا ہے۔ جو شخص امتِ مسلمہ کے مسائل پر تڑپ محسوس نہیں کرتا، وہ رمضان کے پیغام کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا۔
رمضان فیصلہ کن مہینہ ہے۔ یہ ہمیں دو راستوں میں سے ایک چننے پر مجبور کرتا ہے: یا تو ہم اسے رسمی عبادت کا مہینہ بنا لیں، یا پھر اسے اپنی زندگی بدلنے کا نقطۂ آغاز بنا لیں۔ کامیاب رمضان وہ ہے جس کے بعد انسان نماز کا پابند ہو، حرام سے نفرت کرے، عدل اور حق کے لیے کھڑا ہو، اور قرآن کو اپنا رہبر مان لے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ استقبالِ رمضان کا مطلب چراغاں یا رسمی تیاری نہیں، بلکہ دلوں کی تیاری، نیتوں کی اصلاح اور کردار کی تعمیر ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو سنجیدگی سے لے لیا تو یہی ایک مہینہ ہماری پوری زندگی کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
الله تعالیٰ ہمیں ایسا رمضان نصیب فرمائے جو ہماری سوچ، ہمارے عمل اور ہماری سمت کو بدل دے، اور ہمیں ایک زندہ، باوقار اور باکردار امت کا فرد بنا دے۔
آمین یا ربّ العالمین









آپ کا تبصرہ