حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، املو، مبارکپور۔اعظم گڑھ/ دنیا میں دین ِاسلام کی تبلیغ و ترویج اور مسلما ن قوم کی تعمیر و ترقی میں کتاب خوانی اور کتاب خانوںکا اہم کردار رہا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ قدیم میں عرب کے مسلمان تاجر وں کے قافلے جس ملک میں بھی جاتے تھے وہاں مساجد اور کتاب خانے تعمیر کرتے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں وہ قوم ترقی کرتی ہے جو کتابوں سے لگاؤ رکھتی ہے اور وہ قوم پستی و تنزلی میں گر جاتی ہے جو کتابوں سے دور ہوتی ہے۔تمام علماءوادباءو شعراء و مفکرین و محققین و دانشور حضرات کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کتاب خوانی سے ذہن کو روشنی عطا ہوتی ہے ۔کتاب خوانی سے خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔کتاب خوانی سے شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔کتاب خوانی سے فکر و شعور میں جلا پیدا ہوتی ہے۔کتاب خوانی سے علم و آگہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ایک انگریز دانشور تھومس فون کیمپن کا کہنا ہے کہ ’’جب میں عبادت کرتا ہوں تو میں خدا سے باتیں کرتا ہوں لیکن جب میں کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے‘‘۔غرض یہ کہ کتاب خوانی اور کتاب خانہ کی ضرورت و اہمیت ہردور میں مسلّم رہی ہے مگر اس دور میں زیادہ ہی ضروری ہے۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
ان خیالات کا اظہار معروف محقق و مصنف و مبلغ حجۃ الاسلام مولانا ابن حسن املوی واعظ بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املو مبارکپور ضلع اعظم گڑھ نے بتاریخ ۶؍فروری بروز جمعہ بوقت ۷؍بجے شب مدرسہ باب العلم مبارکپور میں المؤمّل کلچرل فاؤنڈیشن، سرفراز گنج، لکھنؤ کی جانب سے منعقد سمپوزیم Symposium (علمی و فنی کانفرنس) بعنوان ’’انتظار اور ہم ‘‘بسلسلہ ’’تقسیم انعامات کتاب خوانی مقابلہ‘‘ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔
مولانا نے مزید کہا کہ کتابوں کی دنیا میں جب ہم مختلف موضوعات پر لکھی ہوئی کتابوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو سب سے عظیم، محترم، مقدس، متبرک، جامع ترین اور بلا عیب و ریب والی لاجواب کتاب قرآن مجید نظر آتی ہے جسے ’’کتاب مبین ‘‘ کہا گیا ہے اور جس کا خود یہ اعلان ہے کہ :لارطب ولا یابس الا فی کتاب مبین (سورہ انعام آیت ۵۹)یعنی کوئی خشک و تر مسئلہ ایسا نہیں ہے جو اس روشن کتاب میں نہ ہو‘‘۔ اور بالفاظ قرآن مولا علی علیہ السلام کو ’’امام مبین ‘‘ کہا گیا ہے وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠(سور یٰسین آیت ۱۲)جب مولا علی ؑسے پوچھا گیا کہ مولا! آپ کی سب سے بڑی فضیلت کیا ہے؟ تو آپ نے خندق و خیبر وبدرو واحد و حنین وغیرہ میں ٖاپنی عظیم الشا ن فتح و شجاعت کا ذکر نہیں کیا۔کعبہ میں اپنی ولادت پر فخر نہیں کیا۔کعبہ میں دوش رسول پر سوار ہو کر بت شکنی کو یاد نہیں دلایا۔میدان غدیر میں ایک لاکھ چالیس ہزار حاجیوں کے مجمع میں رسول کے ذریعہ اپنے اعلان خلافت وولایت کا واقعہ نہیں بتایا بلکہ قرآن کی آیت پڑھی : قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَكُمۡۙ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ِلۡمُ الۡكِتٰبِ(سورہ رعد آیت ۴۳)یعنی مولا علی علیہ السلام نے اپنے آپ کو کلِ کتاب کا عالم ہونے پر فخرو ناز کیا ہے۔مختسر یہ کہ اگر کتاب کی ضرورت و اہمیت و افادیت نہ ہوتی تو خداوند عالم اپنے ہر نبی و رسول کے ساتھ کتاب اور صحیفے نازل نہ کرتا جن کے تمام علوم قرآن مجید میں جمع کر دئے گئے ہیں۔قرآن وہ الٰہی کتاب ہے جس کا پڑھنا، پڑھانا، سننا، سنانا، سیکھنا، سکھانا حتیٰ کہ دیکھنا بھی عبادت ہے۔
مولانا نےفرمایا کہ آج ضرورت ہے کہ ہر مسلمان کتاب خوانی کے ساتھ ساتھ کتا ب خانہ کا بھی ذوق شوق پیدا کریں۔کتابوں سے دلچسپی اور وابستگی کا مظاہرہ کریں اور اپنے اپنے گھروں کے اندر ایک کمرہ جو عبادت کے لئے تعمیر کریں اسی میں بقدر امکان و ضرورت و استطاعت کتاب خوانی کے لئے لائبریری بھی بنائیں۔فرانس کے کسی دانشور کا کہنا ہے کہ’’ ایک (گھر، یا) کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم بغیر جان و روح کے ‘‘۔اس سلسلہ میں قدیم یونان کے سب سے با اثر فلسفی، مفکر، سائنسدان ارسطو کو منطق کا بانی اور پہلا شخص سمجھا جاتا ہے جس نے گھر میں نجی لائبریری اور کتابوں کو منظم کیا ‘‘۔ارسطو سے پوچھا گیا کہ کسی شخص کو جاننے اور پرکھنے کے لئے آپ کیا پیمانہ استعمال کرتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ میں اس سے پوچھتا ہوں کہ تونے کتنی کتا بیں پڑھی ہیں اور کیا کیا پڑھا ہے‘‘۔
ایک امریکی دانشور کا کہنا ہے کہ’’ اگر کسی ملک کی ترقی کے بارے میں جاننا مقصود ہوتو وہاں پر موجود تعلیمی اداروں کو دیکھ لیا جائے اور اگر وہاں کے تعلیمی اداروں کا معیار و ترقی پرکھنا ہوتو وہاں کے کتاب خانوں کا معیار دیکھ لیں کتاب خانے جتنے فعال اور منظم ہوں گے وہاں کے تعلیمی ادارے بھی تعلیم تحقیق میں اسی قدر فعال اور منظم ہوں گےلازمی نتیجہ وہاں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کی خوشحالی کی صورت میں ظاہر ہوگا‘‘۔
مولا نا نے کہا کہ کتاب خانوں کی تاریخ چار ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جاتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ظہور اسلام سے قبل بھی کتاب خانوں کی شاندار تاریخ رہی ہے جن میں کتاب خانہ نینوا اور کتاب خانہ اسکندریہ کے نام زیادہ مشہور ہیں ۔کتاب خانہ اسکندریہ ہی کی بدولت یونانی لوگ علم کے آسمان پر درخشاں ستارے بن کر ابھرے ۔اور یہ بھی انتہائی المناک المیہ ہے کہ اسی کتاب خانہ کو جلانے کا الزام حضرت عمر پر عیسائی دنیا اب تک عائد کرتی ہے۔جب کہ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی کتاب ’’مضمون کتب خانہ اسکندریہ‘‘ میں اس طرح کے مسلمانوں پر عائد کردہ الزام کی تردید کی ہے۔
حجۃ الاسلام مولانا ناظم علی واعظ سربراہ جامعہ حیدریہ خیرآباد مئو نے یوں اظہار خیال فرمایا کہ کتاب خانہ محض کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اسلاف کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہےان کے علاوہ مولانا مظاہر حسین پرنسپل مدرسہ باب العلم مبارکپور، مولانا فیروز عباس مبارکپوری، متعدد علماء و مقررین نے بھی اپنے تاثرات وخیالات کا اظہار فرمایا۔حجۃ الاسلام مولانا احتشام الحسن سربراہ المؤمل کلچرل فاؤنڈ یشن لکھنؤ نے ادارہ المؤمل کی خدمات اور فعالیت پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ سمپوزیم کی شکل میں یہ دسواں پروگرام ہے جو مدرسہ باب العلم میں عظیم الشان پیمانہ پر منعقد ہو۔۔
شعراءمیں جناب عرفان رضا اعظمی، جناب پرویز حیدر اعظمی، جناب مسیب علی اعظمی نے منظوم کلام پیش کئے۔نظامت کے فرائض جناب مولانا سید منہال حیدر زیدی نے انجام دئے۔پروگرام کاآغاز مولانا مرتضیٰ مبارکپوری نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔
اس موقع پر کتاب خوانی مقابلہ میں کامیاب طلبہ و طالبات کو انعامات سے نوازا گیاتین لوگوں کو قرعہ کے ذریعہ بڑے انعامات دئیے گئے پہلا - واشینگ مشین، صائم مھدی ابن مختار حسین، دوسرامیکسر وصی محمدابن علی حسین، تیسرا انعام سکینہ یاسمین بنت قیصر رضا۔ نیز چودہ نفیس انعام بھی قرعہ کے ذریعہ دئیے گئے اور حائر امام حسین علیہ السلام کی خاص تربت بھی ۱۲ حاضرین لوگوں کو قرعہ کے ذریعہ انعام دیئےگئے
.پروگرام کے کنوینرس تھے مولانا نصیر المہدی، ڈاکٹر علی ریحا ن، تنویر حسن ایڈوکیٹ، ماسٹر نسیم ظفر اور نعیم عباس ۔ المؤمّل فاؤنڈیشن کے سربراہ حجۃ الاسلام مولانا احتشام الحسن نے جملہ علماء و شعراء ومقررین اور شرکاء حضرات کا پر خلوص شکریہ ادا کیا۔پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ قریب ۹؍بجے شب میں اختتام پذیر ہوا۔









آپ کا تبصرہ