اتوار 8 فروری 2026 - 18:31
اسلام آباد مسجد حملہ: استعماری سازش اور دہشت گردی پر علماء کی خاموشی سوالیہ نشان قرار، مولانا صفدر حسین زیدی

حوزہ/ مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور صدر امام بارگاہ جونپور نے کہا کہ دنیا بھر، خصوصاً برصغیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ نیابتی جنگ (Proxy War) کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا اور مظلوم اقوام کو کمزور کرنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور صدر امام بارگاہ جونپور حجۃ الاسلام و المسلمین سید صفدر حسین زیدی نے اسلام آباد کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران شیعہ نمازیوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر، خصوصاً برصغیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ نیابتی جنگ (Proxy War) کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا اور مظلوم اقوام کو کمزور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی طاقتیں ایسے اقدامات کے ذریعے مختلف ممالک اور قوموں پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتی ہیں، جبکہ استعماری قوتوں کے باہمی گٹھ جوڑ سے دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں کے ذریعے اسلام کا تشخص مسخ کرنے اور شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مولانا صفدر حسین زیدی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے کھلے مظالم کے باوجود بعض علماء اور مفتیان کی خاموشی تشویش ناک ہے۔ ان کے بقول، اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے پر ہند و پاک کے مذہبی حلقوں کی خاموشی قاتل عناصر کے حوصلے بڑھانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب منبر و محراب حق گوئی کے بجائے مصلحت کا شکار ہو جائیں تو باطل قوتوں کو غلبہ حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتیں، کیونکہ امت مسلمہ میں مزاحمت کا جذبہ موجود ہے اور دینی قیادت و عوام ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق تجاویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ تکفیری نظریات کا علمی رد، بین المسلمین اتحاد کا فروغ، معاشی خود مختاری اور دشمن شناس بصیرت پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی پر بھی زور دیا۔

آخر میں کہا کہ خونِ ناحق کبھی رائیگاں نہیں جاتا اور جو علماء، دانشور یا مذہبی ذمہ داران مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند نہیں کرتے، تاریخ انہیں ظالم کے معاونین کے طور پر یاد رکھے گی۔ ان کے مطابق حقیقی سربلندی اللہ کی بندگی اور بے خوف ہو کر حق پر قائم رہنے میں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha