حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نورخواہ اُوڑی (کشمیر) میں حوزۂ علمیہ امام ہادی علیہ السلام کے زیرِ اہتمام ایک پُراثر اور پُرامن احتجاجی جلوس منعقد کیا گیا، جس میں حوزہ کے اساتذہ، طلاب اور مومنینِ کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس کا مقصد اسلام آباد، پاکستان میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرنا تھا۔
جلوس سے خطاب کرتے ہوئے حوزۂ علمیہ امام ہادی علیہ السلام نورخواہ اُوڑی کشمیر کے مدیرِ اعلیٰ حجۃ الاسلام والمسلمین سید دست علی نقوی نے امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مظلوم قوم کو ہمیشہ ایک مضبوط اور باوقار قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہم اس بزدلانہ دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے، کیونکہ یہ عناصر مسلسل معصوم انسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سید دست علی نقوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف منظم قتل و غارت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، مگر اس کے باوجود حالات کو پُرامن ظاہر کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول ایک سانحہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا پیش آ جاتا ہے، جو نہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے اور نہ ہی انسانیت کے اصولوں کے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کسی بے گناہ انسان تو کیا، کسی جانور کے ناحق قتل کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام ہر انسان کو جینے کا حق دیتا ہے، مگر افسوس کہ کچھ عناصر عبادت گاہوں میں نمازیوں، معصوم بچوں اور سجدہ ریز افراد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
احتجاجی جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف شدید نعرے لگائے اور شہداء کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔









آپ کا تبصرہ