اتوار 8 فروری 2026 - 22:21
انجمنِ امامیہ بلتستان کے تحت یادگار چوک سکردو پر پُرامن احتجاج: چالیس سال سے شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت ناکام ہو چکی ہے، مقررین

حوزہ/جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد میں پیش آنے والے دہشت گردی کے اندوہناک واقعے کے خلاف پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی گہرے رنج و غم کی فضا چھائی رہی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ امامیہ بلتستان کی اپیل پر 07 فروری بروز ہفتہ بعد از نمازِ ظہرین جامع مسجد سکردو سے یادگار چوک تک ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں بلتستان بھر اور سکردو شہر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

انجمنِ امامیہ بلتستان کے تحت یادگار چوک سکردو پر پُرامن احتجاج: چالیس سال سے شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت ناکام ہو چکی ہے، مقررین

اس موقع پر مظاہرین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

احتجاجی ریلی کی قیادت انجمنِ امامیہ بلتستان کے صدر آغا سید باقر الحسینی نے کی۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نائب امام جمعہ مرکزی جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے کہا کہ اسلام آباد پاکستان کا دل ہے، مگر افسوس کہ اسی مرکز میں ایسے تکفیری عناصر موجود ہیں جو نہ کسی ریاستی ادارے کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ایسے تکفیری نیٹ ورکس اور اداروں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا، ملک میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔

انجمنِ امامیہ بلتستان کے تحت یادگار چوک سکردو پر پُرامن احتجاج: چالیس سال سے شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت ناکام ہو چکی ہے، مقررین

علامہ حافظی نے کہا کہ شہداء پر صبر کرنا ہمارا عقیدہ ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی اور تحفظ بھی ہمیں اتنا ہی عزیز ہے، کیونکہ یہ وطن ہمارے بزرگوں کی قربانیوں سے وجود میں آیا ہے اور ہم اسے جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔

نائب صدر انجمنِ امامیہ بلتستان شیخ ذوالفقار علی انصاری نے خطاب میں کہا کہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ اسلام آباد میں ہونے والا حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کا فکری اور عملی رشتہ یزیدی سوچ سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا جس طرح یزید نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا، آج کے یزیدیوں نے امام حسینؑ کے ماننے والوں کو حالتِ نماز میں شہید کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ابنِ ملجم نے مسجدِ کوفہ میں حالتِ نماز میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو شہید کیا، آج اسی فکر کے پیروکاروں نے علیؑ کے چاہنے والوں کو نماز کے دوران نشانہ بنایا۔

انجمنِ امامیہ بلتستان کے صدر آغا سید باقر الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطنِ عزیز پاکستان میں 1980ء کے بعد سے دہشت گردی کا جو سلسلہ شروع ہوا، اسے چار دہائیاں گزر چکی ہیں اور اس پورے عرصے میں شیعیانِ حیدرِ کرّار کو مختلف طریقوں سے مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ مذہب کو دیوار سے لگانے کی کوششیں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ حکومت کبھی کسی ملک کا کبھی دوسرے ملک کا نام لیتی ہے، مگر موجودہ حکومت بھی دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

انجمنِ امامیہ بلتستان کے تحت یادگار چوک سکردو پر پُرامن احتجاج: چالیس سال سے شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت ناکام ہو چکی ہے، مقررین

آغا باقر الحسینی نے کہا کہ شیعہ نوجوانوں کے پاسپورٹس زینبیون کے نام پر بلاک کیے جاتے ہیں اور ان کے خلاف مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ چند پیسوں کے عوض افغان باشندوں کو پاکستانی شناختی کارڈ دیے گئے، مگر ان معاملات پر تحقیقات نہیں ہوتیں، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔
احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر آغا سید باقر الحسینی نے متعدد قراردادیں پیش کیں، جنہیں ہزاروں افراد کے جمِ غفیر نے نعرۂ تکبیر بلند کر کے منظور کیا۔

قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک بھر میں بالخصوص مساجد اور امام بارگاہوں کے لیے فوری طور پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں، تکفیری سوچ، نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ مواد کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے، تاکہ ایسے سانحات کا مستقل سدِباب ممکن ہو۔

انجمنِ امامیہ بلتستان کے تحت یادگار چوک سکردو پر پُرامن احتجاج: چالیس سال سے شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت ناکام ہو چکی ہے، مقررین

قرارداد میں اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کہیں تکفیری اور خوارجی عناصر کا رخ خطۂ امن گلگت بلتستان کی جانب موڑنے کی سازش نہ کی جائے، لہٰذا تمام سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔

احتجاجی مظاہرے میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ زخمیوں کے علاج و معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور شہداء و زخمیوں کے لواحقین کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر فوری طور پر مالی پیکج کا اعلان کیا جائے، نیز کم از کم ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔

انجمنِ امامیہ بلتستان کے تحت یادگار چوک سکردو پر پُرامن احتجاج: چالیس سال سے شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت ناکام ہو چکی ہے، مقررین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha