حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کشمیر کے چیئرمین حجت الاسلام آغا سید عابد حسین حسینی نے انقلابِ اسلامی ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر، اس تاریخ ساز دن پر پورے عالم اسلام کو بالعموم اور ایرانی قوم کو بالخصوص مبارک باد پیش کی ہے۔
انہوں نے ایران کی طبی ترقی کو "انقلابِ اسلامی کا معجزہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی ملکی اور اسلامی اقدار پر مبنی خود انحصاری اور سائنسی تحقیق کے فروغ کا نتیجہ ہے۔ ایران ہر شعبہ میں خودکفالتی پر فائز ہے، جبکہ صحت عامہ کے فروغ نے ایران کو عالمی سطح پر طب کے میدان میں پندرھواں اور فارمیسی میں ساتواں مقام عطا کیا ہے۔
انہوں نے کہا یہ بات قابل ذکر ہے کہ انقلاب سے قبل سن 1979ء میں اور اس سے پہلے ایران میں صحت کی بنیادی سہولیات کی شدید کمی تھی اور تقریباً 5000 غیر ملکی ڈاکٹر ملک میں خدمات انجام دے رہے تھے؛ لیکن انقلاب کے بعد: آج ایران طبی علوم کے شعبے میں دنیا کے 195 ممالک میں پندرہویں اور فارمیسی کے شعبے میں ساتویں نمبر پر فائز ہے، جو ایک تاریخی کامیابی ہے۔
سید عابد حسین حسینی نے طبی ریسرچ اور صحت عامہ کے اس وسیع اور پیچیدہ شعبے میں ایک شاخص بطور نمونہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انقلابِ اسلامی کے بعد نوزائیدہ اموات میں ڈرامائی کمی ہوئی۔ انقلاب کے ابتدائی سالوں میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 94.6 فی ہزار زندہ پیدائش تھی، جو آج کم ہو کر محض 9.81 فی ہزار رہ گئی ہے۔ یہ تقریباً 90 فیصد سے زائد کی کمی ہے، جو صحت عامہ کے نظام میں انقلاب کی واضح علامت ہے۔
انہوں نے ایران کی خودکفالت کے بارے میں کہا کہ ایران نے ادویات سازی، طبی آلات کی تیاری اور پیچیدہ طبی اقدامات (جیسے اعضاء کی پیوندکاری اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی) کے شعبوں میں قابل ذکر خودکفالت حاصل کی ہے۔
آغا سید عابد نے مزید کہا کہ ایران کی طبی کامیابیاں نہ صرف ایران کی حدود تک محدود ہیں، بلکہ خطے اور دنیا بھر میں طبی تعاون اور تحقیق میں معاونت کے ذریعے اثر انداز ہو رہی ہیں۔
حجت الاسلام آغا سید عابد حسین حسینی نے مزید کہا کہ "انقلابِ اسلامی ایران کی سنتالیسویں سالگرہ عالم اسلام کو مبارک ہو۔ یہ وہ انقلاب ہے جس نے نہ صرف ایران کی سیاسی اور معاشی تقدیر بدلی، بلکہ علم و تحقیق، خاص طور پر طب کے شعبے میں ایک نئی روح پھونک دی۔ جو ملک کبھی طبی لحاظ سے دوسروں کا محتاج تھا، آج وہی ملک دنیا کو طبی علوم میں رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ نوزائیدہ اموات میں تاریخی کمی اس بات کی غماز ہے کہ جب حکومت کی ترجیحات عوام کی صحت اور بہبود ہوں تو کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ترقی اسلامی اقدار، مقامی صلاحیتوں پر اعتماد اور سائنس و ٹیکنالوجی پر اصرار کا نتیجہ ہے۔"
انہوں نے کہا کہ 1979ء کے انقلاب اسلامی کے بعد سے، ایران نے صحت عامہ کے شعبے پر خاص توجہ مرکوز کی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے، ویکسینیشن مہمات کو عام کرنے، اور طب و نرسنگ کے تعلیمی اداروں میں توسیع کے نتیجے میں ملک نے صحت کے تمام اہم اشاریوں میں غیر معمولی بہتری دیکھی ہے۔ ایران کی طبی کامیابیاں نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہی جا رہی ہیں۔ یہ ترقی انقلاب اسلامی کے بنیادی مقاصد یعنی خودکفالی، انسانی عزت اور سائنسی ترقی کے عزم کا ایک روشن ثبوت ہے۔ مستقبل میں بھی ایران طب کے شعبے میں تحقیق اور تخلیق کے ذریعے نئے میدانوں میں سرگرم عمل رہنے کا عزم رکھتا ہے۔









آپ کا تبصرہ