منگل 10 فروری 2026 - 12:23
خودکش حملے؛ اصل مجرم کون؟ نوجوان کیوں قربان کیے جاتے ہیں؟

حوزہ/خودکش حملہ کسی ایک فرد کی اچانک دیوانگی یا وقتی جنون کا نتیجہ نہیں ہوتا؛ یہ دراصل ایک منظم اور منصوبہ بند فکری قتل ہے، ایسا قتل جس میں پہلے انسان کی سوچ، سمجھ اور سوال کرنے کی صلاحیت کو آہستہ آہستہ مفلوج کیا جاتا ہے اور جب عقل دفن ہو جاتی ہے تو جسم کو بھی قربان کر دیا جاتا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| خودکش حملہ کسی ایک فرد کی اچانک دیوانگی یا وقتی جنون کا نتیجہ نہیں ہوتا؛ یہ دراصل ایک منظم اور منصوبہ بند فکری قتل ہے، ایسا قتل جس میں پہلے انسان کی سوچ، سمجھ اور سوال کرنے کی صلاحیت کو آہستہ آہستہ مفلوج کیا جاتا ہے اور جب عقل دفن ہو جاتی ہے تو جسم کو بھی قربان کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان کے ذہن میں یہ بات راسخ کر دی جاتی ہے کہ اس کی موت دین کی بقا کی ضمانت ہے کہ اگر وہ خود کو مٹا دے تو گویا اسلام سرخرو ہو جائے گا۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے: نوجوان خود مرتا ہے، ایک گھر اجڑتا ہے، ایک ماں ساری عمر کے لیے زخموں کے ساتھ جینے پر مجبور ہو جاتی ہے، اور دینِ اسلام دنیا کی نگاہ میں بدنام اور مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ یوں یہ عمل نہ قربانی بنتا ہے اور نہ خدمتِ دین، بلکہ ایک ایسی سازش کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس میں انسان بھی لٹتا ہے اور اسلام کی ساکھ بھی اور المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا، یہ خودکش صرف اپنی جان نہیں لیتا بلکہ اپنے ساتھ درجنوں، بلکہ کبھی سیکڑوں بے گناہ انسانوں کو بھی موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ لوگ جو نہ کسی جنگ کا حصہ ہوتے ہیں، نہ کسی جرم کے مرتکب—نمازی، راہ گیر، سیاح، مزدور، بچے اور بوڑھے—سب ایک ہی لمحے میں مٹا دیے جاتے ہیں۔ ایک گمراہ نوجوان کی تباہی کے ساتھ درجنوں گھروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں، سینکڑوں دل ہمیشہ کے لیے خوف اور غم کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، اور پورا معاشرہ عدمِ تحفظ اور وحشت کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔

اس طرح یہ محض ایک فرد کی موت نہیں رہتی بلکہ انسانیت کے اجتماعی قتل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وہ سچ ہے جسے چھپا کر اس جرم کو دین کے نام پر سجایا جاتا ہے، حالانکہ اس میں نہ جہاد ہے، نہ شہادت، نہ اسلام کی کوئی خدمت—صرف بربادی ہے، انسانوں کی بھی اور دین کے وقار کی بھی۔

اس گھناؤنے گناہ کی اصل ذمہ دار وہ فکری گمراہی ہے جو دینِ اسلام کو رحمت، ہدایت اور زندگی کے پیغام کے بجائے نفرت، انتقام اور خونریزی کی لغت میں ڈھال دیتی ہے؛ جو اختلافِ رائے کو کفر کا لیبل لگا دیتی ہے اور قتلِ انسان کو ثواب اور قربتِ الٰہی کا ذریعہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو انسان کے دل سے خوفِ خدا نکال کر تعصب اور غصے کو بٹھا دیتی ہے، اور پھر اسے یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ جتنا زیادہ خون بہائے گا، اتنا ہی دین کا وفادار سمجھا جائے گا۔

قرآنِ کریم اس طرزِ فکر کو پوری صراحت کے ساتھ رد کرتا ہے اور کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑتا:وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء: 29) — اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔

یہ حکم نہ وقتی ہے، نہ کسی خاص حالت کے ساتھ مشروط؛ یہ ایک قطعی اور ابدی اصول ہے۔ جس دین کی بنیاد ہی رحمت پر ہو، وہاں خودکشی ہو یا کسی بے گناہ کا قتل، دونوں کے لیے کوئی دینی جواز نہیں نکلتا۔ اس آیت کے ہوتے ہوئے جو فکر قتل کو عبادت بنائے، وہ دراصل قرآن کی نہیں، قرآن کے خلاف بغاوت کی فکر ہے۔

یہ نوجوان دراصل اپنے فیصلے کے خود مختار نہیں رہتے؛ انہیں سوچے سمجھے طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے—علم، حکمت اور بصیرت کے ذریعے نہیں، بلکہ غصے، محرومی اور احساسِ مظلومیت کو ہوا دے کر۔ ان کے سامنے دین کو اس کی پوری روشنی اور توازن کے ساتھ نہیں رکھا جاتا، بلکہ چند کٹے ہوئے آدھے ادھورے جملے دکھا کر یہی باور کرایا جاتا ہے کہ یہی پورا اسلام ہے۔ انہیں قرآن پڑھنے اور سمجھنے کا موقع نہیں دیا جاتا، اور سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے صبر، حلم، عفو اور انسان دوستی کے پہلو ان سے چھپا دیے جاتے ہیں۔ اس کے بدلے انہیں محض جوش، شدت تکفیریت اور نفرت کی زبان سکھائی جاتی ہے۔

حالانکہ جس نبیؐ کی نسبت پر یہ سب کچھ کیا جاتا ہے، اسی نبیؐ نے اس راستے کو صراحت کے ساتھ بند کر دیا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:“جو شخص خود کو قتل کرے، وہ جہنم میں اسی عذاب کے ساتھ مبتلا رہے گا” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث اس بات کا واضح اعلان ہے کہ خودکشی کسی حال میں دینی عمل نہیں بن سکتی۔ اس انجام کو جانتے ہوئے بھی نوجوان کو اس طرف دھکیلنا، اسے سچائی سے محروم رکھنا اور جذبات کی آگ میں جھونک دینا، دراصل دین کے نام پر دین ہی کے خلاف کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔

پسِ پردہ مجرم، ریاستی تاریخ اور جاری فتنہ

یہ تحریر کسی اچانک ابھرتے جذبے یا عارضی کیفیت کی پیداوار نہیں، بلکہ ان گہرے زخموں کی صدا ہے جو برسوں سے امت کے جسم پر لگتے آ رہے ہیں۔ یہ اُن آنکھوں کی خاموش فریاد ہے جو بار بار لاشوں کے مناظر دیکھتے دیکھتے بے نور ہو گئیں، اور اُن دلوں کی چیخ ہے جو ہر خودکش دھماکے کے بعد ایک نئے جنازے کے ساتھ دفن ہوتے چلے گئے۔ تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے: جب دین کو سیاست کے ہاتھوں گروی رکھ دیا جائے، اور ایمان کو طاقت کے کھیل کا ایندھن بنا دیا جائے، تو سب سے پہلے نوجوان کی سوچ مسخ ہوتی ہے اور پھر انسانی جان کی حرمت پامال ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے خودکش حملوں کا اندھا فتنہ جنم لیتا ہے—نہ مسجد کی گود سے، نہ قرآن کی آغوش سے، بلکہ بگڑی ہوئی تعبیرات اور پسِ پردہ مفادات کے تاریک گوشوں سے۔

حقیقت یہ ہے کہ اصل مجرم وہ پسِ پردہ کردار ہیں جو خود ہر خطرے سے محفوظ، آرام دہ اور پُرتعیش گھروں میں بیٹھ کر دوسروں کے نوجوان بچوں کو آگ میں جھونک دیتے ہیں۔ وہ نہ خود مرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، نہ کبھی اپنے بچوں کو اس راستے پر بھیجتے ہیں۔ سرمایہ، اسلحہ، نفرت انگیز ابلاغ اور نام نہاد فتووں کی فیکٹری کہیں اور چلتی ہے، مگر لاشیں ہماری گلیوں، مسجدوں اور بستیوں سے اٹھتی ہیں۔ یہی سب سے بڑا اور سنگین جرم ہے کہ فائدہ اٹھانے والے پردے میں رہیں، اور قیمت معصوم نوجوان، بے گناہ نمازی اور عام انسان اپنے خون سے ادا کریں۔

پاکستان کے تناظر میں یہ حقیقت اب پردے میں رکھنے کے قابل نہیں رہی کہ یہ آگ خود رو نہیں لگی، بلکہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بھڑکائی گئی۔ ضیاءالحق کے تاریک دور میں، جب اس ملک کو نام نہاد اسلامائزیشن کی تجربہ گاہ میں بدلا گیا، امریکی مفادات کے لیے روس کو زیر کرنے کی خاطر تکفیری فکر کو شعوری طور پر بعض مدارس اور مراکز میں داخل کیا گیا۔ دین کو جہاد کے نام پر مسخ کیا گیا، اور نوجوانوں کو عالمی سیاست کی بساط پر ایندھن بنا کر جھونک دیا گیا۔ یہ عمل نہ ماضی کا قصہ ہے اور نہ ختم ہو چکا؛ اس کے اثرات آج بھی ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

اس فکری انحراف کی نمایاں مثال لال مسجد کا وہ دھارا ہے جہاں برسوں تک ریاست، معاشرہ اور مخالف مسلک—سب کو ایک ہی لاٹھی سے کفر اور جنگ کے دائرے میں گھسیٹنے کی زبان رائج رہی۔ وہاں محراب و منبر سے ایسی سوچ پروان چڑھی جس میں اختلافِ رائے جرم و کفر بنا، اور انسان کی جان بے وقعت ٹھہری۔ اسی طرز پر پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود وہ مدارس و مراکز—جو بار بار نام بدلتے ہیں مگر مزاج نہیں—جہاں تکفیر، نفرت انگیز نصاب اور تشدد کی تقدیس کو مذہبی لبادہ پہنایا گیا، وہ سب اس خونریزی کے براہِ راست شریکِ جرم ہیں۔

اس کے ساتھ سعودی ریال کی فراوانی، امریکی حکمتِ عملی، اور دین فروش ملاؤں کے فتوے مل کر ایسی دہشت گرد نرسریاں تیار کرتے رہے جنہوں نے صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ پورے عالمِ اسلام کو آگ میں جھونک دیا۔ یہ وہ نرسریاں ہیں جہاں سے نکلنے والی لاشیں ہماری مسجدوں، بازاروں اور گلیوں میں گرتی رہیں، اور دنیا کے سامنے اسلام کو خون اور بارود کے مترادف بنا کر پیش کیا گیا۔

یہ بات کسی ایک مسلک پر الزام نہیں، نہ کسی مخصوص فقہی روایت سے دشمنی؛ یہ ایک واضح، سخت اور ناگزیر گرفت ہے اس انتہاپسند تعبیر پر جس نے دین کو طاقت کی سیاست کا ہتھیار بنایا، اور نوجوانوں کو خودکش بم میں بدل دیا۔ اگر اس سچ کو کھل کر نہ کہا گیا، تو لاشیں گرتی رہیں گی، اور اصل مجرم ہمیشہ پردے کے پیچھے محفوظ رہیں گے۔

یہاں ایک بنیادی تاریخی حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس دہشت گردی کی فکری جڑیں محض جدید عالمی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک سیاہ باب سے جا ملتی ہیں۔ وہی ذہنیت جس نے بنی امیہ کے دور میں اقتدار کے لیے دین کو استعمال کیا، ظلم کو نظم اور جبر کو سیاست کا نام دیا، اور حق کے مقابلے میں طاقت کو معیار بنایا—آج نئے چہروں اور نئے سرپرستوں کے ساتھ زندہ ہے۔ آج کی تکفیری دہشت گردی دراصل اسی اموی طرزِ فکر کی باقیاتِ سیئات ہے، جسے موجودہ دور کے دین و ایمان فروش مُلا اپنے فتووں، منبروں اور نصاب کے ذریعے آگے بڑھا رہے ہیں۔ کل دربار تھے، آج اقتدار اور سرمایہ ہے؛ مگر درمیان میں ہمیشہ وہی کرائے کے واعظ، وہی ضمیر فروش خطیب، اور وہی فتوہ فروش کردار موجود رہے ہیں جو ہر دور میں خون کی فصل کاشت کرنے کے لیے تیار ملتے ہیں۔

اسی تکفیری اور وہابیت زدہ فکر کے ذریعے امریکہ نے محض کسی وقتی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کی اس ناپاک نرسری کو پروان چڑھایا۔ روس کو افغانستان سے نکالنا اس منصوبے کا صرف پہلا مرحلہ تھا۔ جب یہ مقصد پورا ہو گیا اور روس وہاں سے پسپا ہو گیا، تو اس فکری اسلحے کو ختم کرنے کے بجائے نئے اہداف کے لیے محفوظ رکھا گیا۔

روس کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد امریکہ نے اسی تیار شدہ دہشت گرد مشینری کو شیعہ–سنی اختلافات اور مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان قتل و غارت، خانہ جنگی اور عدمِ استحکام کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ یوں وہ عناصر جو کل کسی بیرونی طاقت کے خلاف استعمال ہو رہے تھے، آج مسلمانوں ہی کے خون سے اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو ہتھیار کل کسی اور کے خلاف استعمال ہوا تھا، وہ آج ہمارے اپنے معاشروں، مسجدوں اور بستیوں کو جلا رہا ہے—اور یہ سلسلہ بدقسمتی سے آج تک جاری ہے، جبکہ اصل منصوبہ ساز بدستور محفوظ ہیں۔

بعد ازاں اسی باقی رہ جانے والی دہشت گرد مشینری کو ایران میں انقلابِ جمہوری اسلامی کے اثرات روکنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ اب نشانہ روس نہیں تھا، بلکہ اسلامی بیداری تھی۔ اس مقصد کے لیے شیعہ–سنی اختلافات کو ہوا دی گئی، پرانے زخموں کو کرید کر انہیں ناسور بنایا گیا، اور تکفیری زبان کو منبر و مدرسہ دونوں میں عام کیا گیا۔ یوں امت کو بیداری کے بجائے آپس کی نفرت میں الجھا دیا گیا۔

اس منصوبے کا سب سے المناک پہلو یہ تھا کہ ان پالے ہوئے دہشت گردوں کے ذریعے اہلِ تشیع کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان میں بھی عام لوگ نہیں، بلکہ پڑھے لکھے، باصلاحیت، فعال افراد—اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، تاجر، وکلا اور سماجی رہنما—چن چن کر قتل کیے گئے، تاکہ ایک پوری برادری کو فکری، تعلیمی اور سماجی طور پر مفلوج کر دیا جائے۔ یہ کوئی اتفاقی تشدد نہیں تھا، بلکہ ایک مسلسل اور منظم سلسلہ تھا جس کا مقصد خوف پھیلانا اور بیداری کو کچلنا تھا۔

یہاں پوری دیانت کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس تنقید کا مقصد تمام مدارس یا دینی اداروں کو ہدف بنانا نہیں۔ برصغیر کے ہزاروں مدارس نے دین، علم، اخلاق اور سماجی خدمت میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، اور آج بھی بے شمار علماء اس تکفیری فتنہ کے خلاف کھڑے ہیں۔ اصل گرفت مدرسہ بطور ادارہ پر نہیں، بلکہ اس مخصوص فکری آلودگی پر ہے جو بعض مراکز اور بعض منبروں میں داخل ہوئی—جہاں تعلیم کے بجائے نفرت، فقہ کے بجائے تکفیر، اور دعوت کے بجائے تشدد کو فروغ دیا گیا۔ صالح مدارس اس فتنہ کا حصہ نہیں، بلکہ اس کا حل ہیں۔

افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ دور ابھی ختم نہیں ہوا۔ وہی فکری نرسریاں، وہی نفرت انگیز تعبیر، اور وہی خون آلود نتائج آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ جب تک اس تکفیری سوچ کو اس کے اصل سرپرستوں، نظریاتی وارثوں اور عالمی مفادات سمیت بے نقاب نہیں کیا جاتا، تب تک نہ دہشت گردی رکے گی اور نہ امت کو سکون نصیب ہوگا۔ یہ جنگ کسی مسلک کی نہیں، بلکہ انسانیت اور اسلام کے اصل چہرے کی بقا کی جنگ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha