تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| زمانہ گواہ ہے کہ جب طاقت قانون کا لبادہ اوڑھ لے تو امن کے نام پر جنگ کی بو آنے لگتی ہے اور جب حق خاموشی اختیار کرے تو باطل کو زبان، جواز اور منبر سب میسر آ جاتے ہیں۔ تاریخ کی یہی ستم ظریفی آج ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے۔ آبنائے ہرمز کے نیلگوں پانیوں پر ہونے والی بحری مشقیں کسی اشتعال، ہیجان یا طاقت کے خمار کا اظہار نہیں، بلکہ اس ازلی حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ خودمختاری محض نقشے پر کھینچی ہوئی لکیر نہیں ہوتی—وہ قوموں کے شعور، عزم اور دفاعی آمادگی سے محفوظ رہتی ہے۔
جو طاقت یہ دعویٰ کرے کہ وہ ہزاروں میل دور آ کر اپنے بحری جہاز اور طیارے “محفوظ” بنا رہی ہے، وہ دراصل بین الاقوامی قوانین کی دہلیز پر دستک نہیں دیتی، بلکہ انہیں روند ڈالتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی ریاست کی علاقائی سالمیت اور سیاسی خودمختاری میں مداخلت صریح خلافِ قانون ہے (اقوامِ متحدہ چارٹر، آرٹیکل 2، شق 4)۔ اس کے برعکس جو ملک اپنے ساحلوں، سمندری گزرگاہوں اور قومی حدود کے اندر رہتے ہوئے دفاعی تیاری کرتا ہے، وہ جارح نہیں بلکہ ذمہ دار ریاست کہلاتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جسے تاریخ نے بارہا واضح کیا ہے، مگر طاقت کے نشے میں مست اسے ماننے سے انکاری رہتے ہیں۔
آج اس تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں، بلکہ دو فکری رویّوں کی کشمکش ہے۔ ایک طرف وہ ریاست ہے جس کی خارجہ پالیسی دباؤ، پابندیوں، عسکری دھمکیوں اور “پری ایمپٹو اسٹرائیک” کے نظریے پر استوار رہی ہے؛ اور دوسری طرف وہ ملک ہے جو بارہا یہ اعلان کرتا آیا ہے کہ وہ نہ تو جنگ کا آغاز کرے گا اور نہ ہی اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرے گا۔ ایران کی بحری مشقیں اسی اصولی موقف کا عملی اظہار ہیں کہ دفاع حق ہے، اور اس حق سے دستبرداری قوموں کو تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیتی ہے۔
ہم نے یہ بھی دیکھا کہ دھونس، سازش اور خوف پر مبنی سیاست وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن کبھی جنم نہیں دیتی۔ قرآن مجید اس اصول کو یوں بیان کرتا ہے:﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾“اور ان (دشمنوں) کے مقابلے کے لیے جہاں تک ہو سکے قوت تیار رکھو” (سورۂ انفال: 60)۔
یہ آیت جارحیت کی دعوت نہیں، بلکہ دفاع، توازنِ قوت اور امن کے تحفظ کی حکمت سکھاتی ہے۔ امن اس دل سے جنم لیتا ہے جو اپنے حق سے واقف ہو اور اپنی حد پہچانتا ہو، نہ اس دل سے جو خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کر دیا جائے۔
دفاع اگر اصول، قانون اور اخلاق کے دائرے میں ہو تو وہ اعلانِ جنگ نہیں—اعلانِ وقار بن جاتا ہے۔ یہی وقار آج خطے کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ جارحیت کا جواب وقتی جذبات سے نہیں، بلکہ دیانت، حکمت اور قوت کے متوازن استعمال سے دیا جائے گا۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جو قومیں اپنی سلامتی کی حفاظت خود نہیں کرتیں، ان کے لیے عالمی ضمیر کبھی بیدار نہیں ہوتا؛ اور جو اپنی خودمختاری کے لیے کھڑی ہو جائیں، انہیں آخرکار تسلیم کیا جاتا ہے—خواہ یہ تسلیم دیر سے ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ جات:
اقوامِ متحدہ چارٹر، آرٹیکل 2 (4) — ریاستی خودمختاری اور طاقت کے استعمال کی ممانعت
قرآنِ مجید، سورۂ انفال، آیت 60 — دفاعی تیاری کا اصول
بین الاقوامی قانونِ سمندر (UNCLOS) — علاقائی پانیوں اور سمندری گزرگاہوں کے حقوق









آپ کا تبصرہ