تحریر: فـاطـــمـی فـدا
حوزہ نیوز ایجنسی|
انقلابِ اسلامی ایران بیسویں صدی کے ان عظیم اور تاریخ ساز انقلابات میں سے ایک ہے جس نے نہ صرف ایران کے سیاسی نظام کو یکسر بدل دیا، بلکہ عالمِ اسلام اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ یہ انقلاب ۲۲ بہمن ۱۳۵۷ھ ش (۱۱ فروری ۱۹۷۹ء) کو کامیابی سے ہمکنار ہوا، اور آج ایران میں اس انقلاب کی ۴۷ویں سالگرہ پورے جوش، شعور اور انقلابی جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
۲۲ بہمن اور دہۂ فجر
ایران میں ہر سال ۲۲ بہمن کو انقلابِ اسلامی کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ یہ دن دہۂ فجر کا آخری دن ہوتا ہے، جو ۱۲ بہمن سے ۲۲ بہمن تک جاری رہتا ہے۔ ۱۲ بہمن ۱۳۵۷ھ ش کو امام خمینیؒ چودہ سالہ جلاوطنی کے بعد ایران واپس تشریف لائے، اور بالآخر ۲۲ بہمن کو شاہی فوج کی غیرجانبداری کے اعلان کے بعد پہلوی آمریت کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ اسی تاریخی دن ایران میں اسلامی انقلاب نے عملی کامیابی حاصل کی۔
ہر سال اس موقع پر ایران کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں عظیم الشان ریلیاں، عوامی اجتماعات اور انقلابی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جن میں لاکھوں افراد بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ یہ دن ایران میں سرکاری تعطیل ہوتا ہے اور اسے ایک قومی، فکری اور سیاسی جشن کی حیثیت حاصل ہے۔
انقلاب کی کامیابی: ایک غیرمعمولی اور نادر واقعہ
۲۲ بہمن کو انقلاب کی کامیابی ایسے وقت میں حاصل ہوئی جب عالمی استکباری طاقتیں پوری قوت کے ساتھ شاہی نظام کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس کے باوجود اس انقلاب کی کامیابی بہت سے مبصرین اور مفکرین کے نزدیک ایک غیرمعمولی اور حیرت انگیز واقعہ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ نہ صرف ایک مضبوط بادشاہت کا خاتمہ ہوا بلکہ اس کی جگہ ایک اسلامی، عوامی اور نظریاتی نظام قائم ہوا۔
امام خمینیؒ اور قیادت کا تاریخی کردار
اس عظیم انقلاب کی قیادت آیت اللہ سید روح اللہ موسوی خمینیؒ نے کی۔ آپ ایک عظیم دینی رہنما، فقیہ، مفکر اور بے باک انقلابی قائد تھے۔ آپ نے شاہی حکومت کی اسلام دشمن پالیسیوں، بیرونی طاقتوں پر انحصار، بدعنوانی، ظلم اور استبداد کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ خصوصاً کاپیٹولیشن (غیر ملکیوں کو قانونی استثنا) کے خلاف آپ کی تاریخی مزاحمت نے عوامی شعور کو بیدار کیا، جس کے نتیجے میں آپ کو جلاوطن کر دیا گیا۔
امام خمینیؒ نے اسلام، تشیع، عدلِ اجتماعی، آزادی، خودمختاری اور استکبار دشمنی کو انقلاب کی بنیاد بنایا۔ آپ کا واضح نظریہ تھا کہ حکومت، فقہ کی عملی اور زندہ صورت ہے۔
عوامی شرکت اور انقلابی شعور
انقلابِ اسلامی ایران میں معاشرے کے تمام طبقات نے بھرپور کردار ادا کیا—علما، طلبہ، مزدور، کسان، خواتین، دانشور اور دیہی آبادی سب اس جدوجہد میں شریک رہے۔ انقلابی نعروں میں دین، شہادت، حجاب، ظلم کے خلاف قیام اور استکبار دشمنی نمایاں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی محققین کے نزدیک یہ انقلاب خالصتاً اسلامی اور نظریاتی نوعیت کا حامل تھا۔
انقلاب کے اثرات اور نظریاتی پہلو
انقلاب کے بعد ایران میں ولایتِ فقیہ کے نظریے پر مبنی نظام قائم ہوا اور ایک نیا آئین تشکیل پایا جو اسلامی اصولوں پر استوار تھا۔ اس انقلاب نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام میں اسلامی بیداری اور مزاحمتی تحریکوں کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
فرانسیسی مفکر میشل فوکو نے بھی اس انقلاب کو دیگر انقلابات سے ممتاز قرار دیا اور اسے ایک روحانی، فکری اور معنوی انقلاب کہا۔
نتیجہ اور عصرِ حاضر میں انقلاب کی معنویت
انقلابِ اسلامی ایران محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت فکری، دینی اور سماجی انقلاب ہے۔ اس نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ وہی انقلابات کامیاب اور پائیدار ہوتے ہیں جو حق پر مبنی ہوں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، دشمن شناس ہوں، اور استکبار کے سامنے کسی سمجھوتے کو قبول نہ کرتے ہوں۔
آج ایران میں انقلابِ اسلامی ایران کی ۴۷ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کو اپنی فکری روشنی سے منور کر رہی ہے۔ آج ایران کی ہر گلی، ہر شہر اور ہر کوچے میں انقلاب کی صدائیں گونج رہی ہیں، اور مردہ باد امریکہ اور مردہ باد اسرائیل کے نعرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران ایک باشعور، بیدار اور دشمن شناس قوم ہے۔









آپ کا تبصرہ