منگل 10 فروری 2026 - 12:23
ایران مخالف پروپیگنڈا: مشرقِ وسطیٰ میں نفسیاتی جنگ کی نئی شکل

حوزہ/مشرقِ وسطیٰ صدیوں سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے، مگر اکیسویں صدی میں جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب ٹینک اور بم کے ساتھ ساتھ "بیانیے، افواہیں، میڈیا مہمات اور نفسیاتی دباؤ"؛ بھی جنگی ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایران کے خلاف جاری پروپیگنڈا اسی نئی نفسیاتی جنگ کی ایک نمایاں شکل ہے، جس کا مقصد صرف کسی ریاست کو عالمی سطح پر تنہا کرنا نہیں، بلکہ خطے کے عوام کے ذہنوں میں شکوک، خوف اور بداعتمادی پیدا کرنا بھی ہے۔

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| مشرقِ وسطیٰ صدیوں سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے، مگر اکیسویں صدی میں جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب ٹینک اور بم کے ساتھ ساتھ "بیانیے، افواہیں، میڈیا مہمات اور نفسیاتی دباؤ"؛ بھی جنگی ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایران کے خلاف جاری پروپیگنڈا اسی نئی نفسیاتی جنگ کی ایک نمایاں شکل ہے، جس کا مقصد صرف کسی ریاست کو عالمی سطح پر تنہا کرنا نہیں، بلکہ خطے کے عوام کے ذہنوں میں شکوک، خوف اور بداعتمادی پیدا کرنا بھی ہے۔

نفسیاتی جنگ کیا ہے؟

نفسیاتی جنگ دراصل دشمن کے "ذہن، جذبات اور سوچ" کو نشانہ بنانے کا نام ہے۔ اس میں خبر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان حدیں دھندلا جائیں۔ مخصوص الفاظ، تصاویر اور سرخیوں کے ذریعے عوامی رائے کو اس رخ پر موڑا جاتا ہے جو طاقتور فریق کے مفاد میں ہو۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا اس جنگ کا سب سے مؤثر میدان بن چکا ہے، جہاں چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔

ایران بطورِ ہدف کیوں؟

ایران خطے میں ایک ایسا ملک ہے جس نے دہائیوں تک عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی تنہائی کے باوجود اپنی خودمختاری اور پالیسیوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں اور بعض علاقائی ممالک کے لیے ایران ایک *"فکری اور سیاسی چیلنج*"بن کر ابھرا۔ ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کے لیے صرف عسکری دباؤ کافی نہ سمجھا گیا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ "میڈیا اور پروپیگنڈے کی منظم مہم" شروع کی گئی۔

میڈیا بیانیہ اور دوہرا معیار

ایران مخالف پروپیگنڈے کی ایک نمایاں خصوصیت "دوہرا معیار" ہے۔ اگر خطے میں کسی اور ملک کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں تو انہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، مگر ایران سے متعلق کسی بھی واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خبروں میں ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو خوف پیدا کریں:

“خطرہ”، “عدم استحکام”، “علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ” — یہ اصطلاحات رفتہ رفتہ عوام کے ذہن میں ایران کی ایک مخصوص شبیہ قائم کر دیتی ہیں۔

سوشل میڈیا: افواہ سازی کی فیکٹری

سوشل میڈیا نے نفسیاتی جنگ کو نئی رفتار دی ہے۔ جعلی اکاؤنٹس، بوٹس اور منظم نیٹ ورکس کے ذریعے ایسی خبریں پھیلائی جاتی ہیں جن کا مقصد عوام کو جذباتی طور پر مشتعل کرنا ہوتا ہے۔ کبھی ایران کے اندرونی حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، کبھی فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دی جاتی ہے، اور کبھی خطے کے دیگر ممالک کے خلاف نفرت کو بھڑکایا جاتا ہے۔ اس عمل میں سچائی اکثر سب سے پہلی قربانی بنتی ہے۔

فرقہ واریت کو ہتھیار بنانا

ایران مخالف پروپیگنڈے میں ایک خطرناک پہلو "فرقہ واریت" کا استعمال ہے۔ سیاسی اختلاف کو مذہبی رنگ دے کر عوام کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں اصل مسئلہ — یعنی عالمی طاقتوں کی مداخلت اور خطے کی خودمختاری — پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور عوام باہمی نزاع میں الجھ کر حقیقی دشمن کو پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں۔

نفسیاتی جنگ کے اثرات

اس پروپیگنڈے کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں مستقل خوف اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ریاستوں کے درمیان سفارتی مکالمہ کمزور پڑتا ہے، اور ہر اختلاف کو سازش کے تناظر میں دیکھا جانے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں امن کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔

شعور اور میڈیا لٹریسی کی ضرورت

اس صورتحال میں سب سے بڑی ضرورت "عوامی شعور" کی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خبر حقیقت نہیں ہوتی اور ہر ویڈیو غیرجانبدار نہیں ہوتی۔ میڈیا لٹریسی — یعنی خبروں کو تنقیدی نگاہ سے پڑھنے اور پرکھنے کی صلاحیت — آج کے دور میں ایک بنیادی سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ اگر عوام خود تحقیق کیے بغیر ہر بیانیے کو قبول کر لیں گے تو نفسیاتی جنگ کے ہتھیار مزید مضبوط ہو جائیں گے۔

اختتامیہ

ایران مخالف پروپیگنڈا دراصل مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایک وسیع تر نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، جس کا مقصد صرف کسی ایک ملک کو بدنام کرنا نہیں بلکہ پورے خطے کو فکری انتشار میں مبتلا رکھنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے شعور سے فیصلے کریں، خبروں کو پرکھیں، اور اختلاف کو نفرت میں بدلنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اپنائیں۔ کیونکہ جنگیں آخرکار میدانوں میں نہیں، "ذہنوں میں جیتی یا ہاری جاتی ہیں۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha