پیر 9 فروری 2026 - 15:57
انقلابِ اسلامی ایران؛ خودداری، مزاحمت اور خود کفالت کی روشن علامت

حوزہ/۲۲ بہمن (11 فروری) ایران کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جس نے نہ صرف ایک ملک کی سیاسی سمت بدل دی بلکہ خطۂ مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام میں بیداری کی نئی لہر پیدا کی۔ ۱۱ فروری ۱۹۷۹ء (۲۲ بہمن ۱۳۵۷ھ ش) کو ایرانی قوم نے دہائیوں پر محیط شاہی آمریت، استبداد اور بیرونی تسلط کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ یہ دن ایرانی عوام کی اجتماعی قوتِ ارادی، دینی شناخت اور قومی خودداری کی علامت بن چکا ہے۔

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| ۲۲ بہمن (11 فروری) ایران کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جس نے نہ صرف ایک ملک کی سیاسی سمت بدل دی بلکہ خطۂ مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام میں بیداری کی نئی لہر پیدا کی۔ ۱۱ فروری ۱۹۷۹ء (۲۲ بہمن ۱۳۵۷ھ ش) کو ایرانی قوم نے دہائیوں پر محیط شاہی آمریت، استبداد اور بیرونی تسلط کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ یہ دن ایرانی عوام کی اجتماعی قوتِ ارادی، دینی شناخت اور قومی خودداری کی علامت بن چکا ہے۔

انقلابِ اسلامی ایران محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ یہ ایک تہذیبی، فکری اور اخلاقی انقلاب تھا۔ اس انقلاب کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوں اور نظامِ حکومت اخلاقی اقدار، عدلِ اجتماعی اور قومی خودمختاری پر قائم ہو۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر قوم اپنے ایمان، شناخت اور وحدت پر متحد ہو جائے تو بڑی سے بڑی طاقتوں کے دباؤ کو بھی شکست دے سکتی ہے۔

شاہی نظام سے عوامی اقتدار تک

پہلوی دورِ حکومت میں ایران شدید سیاسی جبر، معاشرتی ناانصافی اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کا شکار تھا۔ ملک کے قدرتی وسائل چند ہاتھوں تک محدود تھے، جبکہ عوام کی بڑی اکثریت غربت، بے روزگاری اور محرومی کا سامنا کر رہی تھی۔ ثقافتی طور پر مغربی تقلید کو فروغ دیا گیا اور دینی و قومی شناخت کو کمزور کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ ایسے ماحول میں انقلابِ اسلامی نے ایرانی معاشرے کو اپنی اصل کی طرف پلٹنے کا موقع دیا۔

انقلاب کے بعد ایران میں ایک نئے نظام کی تشکیل ہوئی جس میں عوامی رائے کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ ریفرنڈم کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی گئی اور آئین سازی کے عمل میں عوامی شرکت کو یقینی بنایا گیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایرانی قوم نے پہلی بار حقیقی معنوں میں اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل کیا۔

مزاحمت کی ثقافت اور قومی خودداری

انقلاب کے فوراً بعد ایران کو اندرونی و بیرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ معاشی پابندیاں، سیاسی دباؤ اور جنگ جیسے چیلنجز نے نوخیز نظام کو آزمائش میں ڈال دیا۔ تاہم ایرانی قوم نے ان حالات کو کمزوری نہیں بلکہ قوت میں بدلنے کی کوشش کی۔ دفاعِ مقدس کے دور میں عوامی اتحاد اور قربانی کی ثقافت نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ خودداری محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا نام ہے۔

پابندیوں کے دور میں ایران نے خود کفالت کی طرف قدم بڑھائے۔ زراعت، دفاعی صنعت، طب، نینو ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ قومی وسائل پر انحصار اور مقامی صلاحیتوں کی قدر دانی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ یہ تجربہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عملی مثال فراہم کرتا ہے کہ بیرونی دباؤ کے باوجود قومی ترقی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ثقافتی شناخت اور روحانی بیداری

انقلابِ اسلامی نے ایرانی معاشرے میں روحانی بیداری کو تقویت دی۔ مذہبی شعائر، اخلاقی اقدار اور سماجی انصاف کے تصورات کو عوامی زندگی میں نئی اہمیت ملی۔ تعلیم اور ثقافت کے میدان میں ایسی پالیسیاں اپنائی گئیں جن کا مقصد قومی تشخص کو مضبوط کرنا تھا۔ ایرانی نوجوانوں میں خود اعتمادی، علمی جستجو اور سماجی ذمہ داری کا شعور پیدا ہوا، جو کسی بھی قوم کی طویل المدتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

میڈیا اور ثقافتی اداروں کے ذریعے قومی تاریخ، زبان اور اقدار کو فروغ دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسی نسل پروان چڑھی جو اپنی شناخت پر فخر کرتی ہے اور عالمی منظرنامے میں اپنے مقام کے تعین کے لیے باوقار انداز میں سوچتی ہے۔

عالمی سطح پر اثرات

۲۲ بہمن کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی آئی۔ خودمختاری اور قومی مفادات کو اولیت دی گئی اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا گیا۔ اس رویّے نے بعض طاقتوں کے ساتھ کشیدگی کو جنم دیا، مگر اس کے ساتھ ہی ایران نے یہ پیغام دیا کہ قومی خودداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انقلابِ اسلامی کے اثرات خطے کے دیگر معاشروں میں بھی محسوس کیے گئے، جہاں عوامی بیداری اور خود اختیاری کے تصورات کو تقویت ملی۔ اگرچہ ہر معاشرہ اپنی مخصوص تاریخی اور ثقافتی صورتحال رکھتا ہے، مگر ایران کا تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ قومیں جب اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں تو تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہیں۔

درپیش چیلنجز اور مستقبل کی راہیں

ان تمام کامیابیوں کے باوجود ایران کو معاشی دباؤ، مہنگائی، روزگار کے مسائل اور عالمی سیاست کی پیچیدگیوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ نوجوان نسل کی توقعات میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ انقلاب کے بنیادی اصولوں—عدل، شفافیت، عوامی شراکت اور اخلاقی حکمرانی—کو عملی سطح پر مزید مضبوط کیا جائے۔

اصلاحات، احتساب اور میرٹ پر مبنی نظامِ حکومت وہ عوامل ہیں جو انقلاب کی روح کو تازہ رکھتے ہیں۔ قومی اتحاد، مکالمے کی روایت اور اختلافِ رائے کے احترام کے ذریعے ہی معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ماہ بہمن ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ انقلاب کوئی جامد واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جسے ہر نسل کو اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ آگے بڑھانا ہوتا ہے۔

نتیجہ: ۲۲ بہمن—یادِ ماضی، عزمِ مستقبل

۲۲ بہمن صرف ماضی کی فتح کا جشن نہیں بلکہ مستقبل کے لیے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ یہ دن ایرانی قوم کو یاد دلاتا ہے کہ اتحاد، ایمان اور خودداری وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی وسائل پر انحصار بڑھائے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور عالمی برادری کے ساتھ باوقار، اصولی اور متوازن تعلقات استوار کرے۔

اگر ایرانی قوم انقلاب کے بنیادی پیغام—آزادی، انصاف اور خودمختاری—کو زندہ رکھے تو ۲۲ بہمن نہ صرف ایک تاریخی یادگار رہے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے امید اور خود اعتمادی کی روشن علامت بھی بنے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha