اتوار 8 فروری 2026 - 16:41
جمکران کی جائے نماز اور عالمی طاقت کو للکار

حوزہ/ مکتبِ اہل بیت (ع) کی فکری دنیا میں زمان و مکان محض طبیعی پیمانے پر نہیں، بلکہ روحانی حقائق کی تجلیاں ہیں۔ ہر لمحہ اور ہر مقام ایک تاریخ، ایک عقیدت اور ایک پیغام کا امین ہے۔ یہ کوئی اتفاقی امر نہیں کہ ہفتے کے تمام ایام کسی نہ کسی معصومؑ سے منسوب ہیں، اور خاص اوقات اور خاص مقامات پر عبادات اور زیارات کی فضیلت اظہر من الشمس ہے۔ ہر مقام ایک تاریخ، ایک عقیدت اور ایک پیغام کا حامل ہے۔

تحریر: مولانا صادق الوعد

حوزہ نیوز ایجنسی| جب لڑاکا طیاروں کی گھن گرج اور میزائلوں کا شور تھم جاتا ہے، تو ایک اور معرکہ بپا ہوتا ہے، ایک ایسا نبرد جو نگاہوں سے اوجھل ہے، مگر کہیں زیادہ فیصلہ کن هے، یہ شعور، نظریے کا معرکه ہے، جہاں جنگیں جغرافیائی سرحدوں پر نہیں، انسانی ارادوں کی دنیا میں لڑی جاتی ہیں، جہاں فتح و شکست کا دارومدار مادی اسلحے پر نہیں، بلکہ قوموں کے قلب و نگاہ کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم فکری محاذ پر پسپا ہو جائے تو دنیا کا جدید ترین اسلحہ بھی اس کے لیے بے جان لوہے کا ڈھیر بن جاتا ہے، کیونکہ اصل جنگ تو عزم اور عقیدے کی ہوتی ہے۔ اسی فکری معرکے میں اس وقت دو تہذیبیں صف آراء ہیں۔ ایک جانب مادی تہذیب ہے، جس کا کعبہ لیبارٹری ہے، جس کا صحیفہ ڈیٹا ہے، اور جس کا خدا وہ ہے جسے حواسِ خمسہ سے پرکھا جا سکے۔ اس کے نزدیک جو سیٹلائٹ کی آنکھ سے اوجھل ہے، وہ محض ایک فریب نظر ہے۔ اسی کے مقابل ایک الٰہی نظریہ ہے، جس کا اعلان ہے کہ علم و حکمت او ر طاقت کا سرچشمہ خدائے حکیم و دانا ہے، اس کا راستہ وحی و الہام سے روشن ہوتا ہے۔

مکتبِ اہل بیت (ع) کی فکری دنیا میں زمان و مکان محض طبیعی پیمانے پر نہیں، بلکہ روحانی حقائق کی تجلیاں ہیں۔ ہر لمحہ اور ہر مقام ایک تاریخ، ایک عقیدت اور ایک پیغام کا امین ہے۔ یہ کوئی اتفاقی امر نہیں کہ ہفتے کے تمام ایام کسی نہ کسی معصومؑ سے منسوب ہیں، اور خاص اوقات اور خاص مقامات پر عبادات اور زیارات کی فضیلت اظہر من الشمس ہے۔ ہر مقام ایک تاریخ، ایک عقیدت اور ایک پیغام کا حامل ہے۔

اس مکتب کی آئیڈیالوجی کا بنیادی ستون امامت ا ور مہدویت کا تصور ہے، جو کائنات کو خدا سے منقطع نہیں سمجھتا، بلکہ ہر دور میں زمین پر ایک حجتِ خدا موجود ہے جو نظامِ ہستی کا مرکز و محور ہے۔ اسی اصول کے تحت، قم کی مسجدجمکران محض سنگ و خشت کی ایک عمارت نہیں، بلکہ یہ کروڑوں منتظر دلوں میں دھڑکتے عقیدۂ مہدویت کا مجسم محور ہے۔ یہ وہ نقطۂ اتصال ہے جہاں عالم شہادت، عالم غیب سے ہم کلام ہوتا ہے؛ یہ اس غیبی حکومت کا علامتی دارالخلافہ اور سینکڑوں منتظران کے لیے امید و توسل کا وہ کعبہ ہے جس کے گرد ان کی روحیں طواف کرتی ہیں۔

جب سے عالمی استعمار نے مزاحمت کے چراغ کو بجھانے کی ٹھان لی ہے، رہبرِ معظم کی ہر جنبش، ہر سکون، اور یہاں تک کہ ان کی عبادات کے لمحات بھی دنیا کی مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں اور میڈیا کے لیے ایک اسٹریٹجک کا استعاره بن چکے ہیں۔ لہٰذا، آپ کا مسجد جمکران میں تشریف لیجانا اب ذاتی عبادت کے دائرے سے نکل کر، شیعہ تشخص کی عالمی نمائندگی، عقیدۂ مہدویت کو آفاقی سطح پر متعارف کروانے کا ذریعہ اور دشمن کے لیے ایک گہرے پیغام میں ڈھل چکا ہے۔ اب عالمی میڈیا بھی اس عمل کو محض ایک نماز کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے حجتِ خدا سے روحانی استمداد کے طور پر تجزیہ کرتا ہے۔ اس ایک عمل سے کئی محاذوں پر بیک وقت پیغام دیا جاتا ہے:

پہلا پیغام :

ایک ایسے دور میں جب مادی طاقت اور صہیونی لابی مہدویت کی مزاحمتی فکر کو کچلنے کے لیے اربوں ڈالر کا دھواں اڑا رہی ہے، رہبرِ معظم کا یہ سجدہ اعلان کرتا ہے کہ ہماری قوت کا سرچشمہ وائٹ ہاؤس کی راہداریوں میں نہیں، بلکہ حجتِ خدا کی بارگاہ میں ہے۔ یہ مادیت کے بت کدے کو اس ماورائی طاقت کا تعارف ہے جسے وہ نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ ناپ سکتے ہیں۔

دوسرا نفسیاتی برتری کا اعلان:

جب دشمن پابندیوں، دھمکیوں اور فوجی دباؤ سے یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اسلامی جمہوریہ کا محاصرہ کر لیا ہے، تو رہبرِ معظم کا انتہائی سکون سے اپنے رب اور اپنے امامؑ سے راز و نیاز، دشمن کے پورے نفسیاتی ڈھانچے کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ یہ عمل پکار پکار کر کہتا ہے: تمہارے مادی ہتھکنڈے ہمارے روحانی ایقان کی چٹان سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔خدا کی حکمت، سید علی کی دو رکعت نماز کے ذریعے ان کی اربوں ڈالر کی منصوبہ بندی کو ایک لمحے میں خاک میں ملا سکتی ہے۔

تیسرا اہم پیعام مہدویت کا عالمی تعارف:

آج مشرق سے لے کر مغرب تک کے تھنک ٹینکس میں مسجد جمکران کے اسٹریٹجک کردار پر بحث ہو رہی ہے۔ جو عقیدہ کل تک صرف علمی مباحث اور مجالس کی زینت تھا، آج وہ عالمی سیاست کا ایک زندہ اور دھڑکتا ہوا کردار بن چکا ہے۔ یہ خود مہدویت کی سب سے بڑی نظریاتی فتح ہے کہ دشمن بھی اس کی طاقت کا تجزیہ کرنے پر مجبور ہے۔

یہ حکمت عملی محض کوئی نظریاتی فلسفہ نہیں، بلکہ اس کی نبض مزاحمت کے ہر سپاہی کے دل میں دھڑکتی ہے۔ اس کی سب سے روشن مثال سید المقاومۃ، شہید سید حسن نصراللہ کا وہ واقعہ ہے جو اس روحانی حکمت کی عملی گہرائی کو بیان کرتا ہے: ایک وقت ایسا تھا جب ہم شدید ترین اسرائیلی دباؤ کا شکار تھے۔ جب تمام راستے مسدود نظر آنے لگے، تو ہم رہبرِ معظم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا: جب ملک کے امور چلاتے ہوئے گتھیاں الجھ جاتی ہیں اور کوئی مادی راستہ نظر نہیں آتا، تو میں اپنے رفقاء سے کہتا ہوں کہ تیار ہو جاؤ، ہمیں جمکران جانا ہے۔ آپ نے مزید فرمایا: وہاں، مسجد مقدس جمکران میں، امامِ زمانہ (ع) سے توسل کے بعد میں ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے کوئی دست غیبی رہنمائی کرتا ہے اور ایک فیصلہ دل میں اتر آتا ہے۔ میں اسی پر عمل کرتا ہوں اور خدا مشکل کو آسان فرما دیتا ہے۔ شہید سید حسن نصراللہ فرماتے تھے: رہبرِ معظم نے یہ بتا کر ہمیں سکھا دیا کہ جنگ کا حقیقی میدان کہاں ہے۔

یہ واقعہ محض ایک حکایت نہیں، بلکہ مزاحمت کا ایک مکمل دستور اور منشورِ جنگ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ مزاحمتی قیادت اپنی پیچیدہ ترین گتھیاں بند کمروں میں نہیں، بلکہ اپنے وقت کے امام کے حضور، جائے نماز کی خاک پر آنسوؤں سے سلجھاتی ہے۔ یہ وہ اسٹریٹجک روحانی گہرائی ہے جسے نہ کوئی سیٹلائٹ دیکھ سکتا ہے، نہ کوئی سپر کمپیوٹر اس کے رموز کو سمجھ سکتا ہے۔

جب دنیا اپنی مادی سطوت پر غرور کرتی ہے، تو ایک مرد خدا اپنی پیشانی خاک پر رکھ کر یہ یاد دلاتا ہے کہ ہماری امید ایک حجت خدا امامؑ سے وابستہ ہے، جس کا انتظار ہمیں کبھی شکست کی دہلیز تک پہنچنے نہیں دے گا۔ یہ سجدہ دراصل اسی انتظار، اسی امید اور اسی یقین کا عالمی سطح پر تجدیدِ عہد ہے۔ ایک ایسا خاموش عہد جس کی گونج مادی سلطنتوں کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha