اتوار 8 فروری 2026 - 18:32
آبِ حیات کا چشمہ اور پیاسا معاشرہ

حوزہ/ کوہساروں میں گھری، آسمان سے باتیں کرتی چوٹیوں اور بہتے چشموں کی سرزمین، بلتستان! یہ خطہ محض جغرافیائی حسن ہی نہیں، بلکہ اپنی روحانی شناخت میں بھی منفرد ہے۔ یہ وہ وادی ہے جس کی فضا صدیوں سے "یا علی" اور یا حسین ع "کی صدا سے گونجتی رہی ہے۔ یہاں کے لوگوں کا خمیر محبتِ اہلِ بیت (ع) سے اٹھا ہے اور ان کی صبحیں اور شامیں مناجات اور دعاؤں کی تلاوت سے منور ہوتی ہیں۔ ماہِ شعبان اور ماه مبارک رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہر گھر سے، ہر مسجد سے امیرالمؤمنین (ع) کی عاشقانہ سرگوشیاں، یعنی مناجاتِ شعبانیہ اور دعائے سحر بلند ہوتی ہیں۔

تحریر : مولانا صادق الوعد قم ایران

حوزہ نیوز ایجنسی| کوہساروں میں گھری، آسمان سے باتیں کرتی چوٹیوں اور بہتے چشموں کی سرزمین، بلتستان! یہ خطہ محض جغرافیائی حسن ہی نہیں، بلکہ اپنی روحانی شناخت میں بھی منفرد ہے۔ یہ وہ وادی ہے جس کی فضا صدیوں سے "یا علی" اور یا حسین ع "کی صدا سے گونجتی رہی ہے۔ یہاں کے لوگوں کا خمیر محبتِ اہلِ بیت (ع) سے اٹھا ہے اور ان کی صبحیں اور شامیں مناجات اور دعاؤں کی تلاوت سے منور ہوتی ہیں۔ ماہِ شعبان اور ماه مبارک رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہر گھر سے، ہر مسجد سے امیرالمؤمنین (ع) کی عاشقانہ سرگوشیاں، یعنی مناجاتِ شعبانیہ اور دعائے سحربلند ہوتی ہیں؛ لیکن------

آئیں!

ایک لمحے کے لیے جذبات کے آئینے سے نظر ہٹا کر حقیقت کی سنگلاخ زمین پر قدم رکھیں۔ ہم، جو خود کو علی (ع) کا شیعہ کہتے ہیں، جو اُن کے الفاظ کو اپنی زبانوں پر جاری کرتے ہیں، کیا ہمارا معاشرہ اُن تعلیمات کا عکاس ہے؟ ہم مناجات میں پڑھتے ہیں: میرے اللہ! مجھے اپنی طرف کامل انقطاع عطا فرما (کَمَالَ الانْقِطَاعِ إِلَيْكَ)، مگر ہماری زندگیاں دنیاوی وابستگیوں، حسد اور مادی دوڑ میں الجھی ہوئی ہیں۔ ہم زبان سے اقرار کرتے ہیں: میں نے اپنی جوانی تجھ سے دوری کے نشے میں گنوا دی(أَبْلَيْتُ شَبَابِي فِي سَكْرَةِ التَّبَاعُدِ مِنْكَ)، مگر غفلت کا یہ نشہ ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔

سب سے بڑا اور دردناک تضاد یہ ہے کہ جس معاشرے کی بنیاد علم، منطق، ایثار اور اخوت پر ہونی چاہیے تھی، وہاں انانیت ، خود غرضی، لسانی و علاقائی عصبیت اور عدم برداشت کا دور دورہ ہے۔ ہماری محفلیں ذکرِ علی (ع) سے تو آباد ہیں، مگر ہمارے معاملات اور کردار سیرتِ علی (ع) سے خالی کیوں ہیں؟ آخر کہاں غلطی ہو رہی ہے؟ کیا یہ دعائیں، یہ مناجاتیں اپنا اثر کھو بیٹھی ہیں؟ یا ہم نے ان کے اثر کو اپنے وجود تک پہنچنے کا راستہ ہی بند کر دیا ہے؟ یہ مضمون اسی فکری بحران کا تجزیہ کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ہم ذکر کی رسم سے آگے بڑھ کر فکر کی روح تک پہنچ سکیں اور اپنی سر زمین کو حقیقی معنوں میں علوی اور حسینی معاشرے کا نمونہ بنا سکیں۔

کسی بھی بیماری کے علاج سے پہلے اس کی صحیح تشخیص ضروری ہے۔ ہمارے معاشرتی زوال اور دعاؤں کی بے اثری کے پیچھے چند گہری وجوہات کار فرما ہیں:

دوا کا نسخہ ہاتھ میں مگر لاعلم

ہم مناجاتِ شعبانیہ ہو یا دیگر دعائیں ایک متبرک ورد کے طور پر پڑھتے ہیں، ثواب کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، مگر اسے معرفت اور تبدیلی کا دستور العمل نہیں مانتے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی مریض دنیا کے بہترین ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ ہاتھ میں پکڑ کر روزانہ خوبصورت آواز میں پڑھے، مگر یہ نہ جانے کہ اس میں کون سی دوا کس مرض کے لیے ہے اور اسے استعمال کیسے کرنا ہے۔

ہم الفاظ تو دہرا رہے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپے ہوئے انقلابی تصورات ہماری سوچ کا حصہ نہیں بن رہے۔" کمال الانقطاع" ہمارے لیے محض ایک خوبصورت لفظی ترکیب ہے، یہ ہماری زندگی کا ہدف نہیں۔ خدا کے " حسنِ نظر" (حُسْنِ نَظَرِكَ) کا تصور ہمارے دل میں شکر گزاری اور مثبت سوچ پیدا کرنے کے بجائے صرف ایک جملہ بن کر رہ گیا ہے۔ جب تک ہم ان الفاظ کے سمندر میں غوطہ لگا کر معرفت کے موتی نہیں نکالیں گے، تب تک یہ محض ہونٹوں کی ایک بے روح ورزش ہی رہے گی۔

انفرادیت کا جال

ہماری دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے اہلِ بیت (ع) کی ان دعاؤں کو، جو ایک صالح معاشرے کی تشکیل کا منشور ہیں، اپنی ذاتی حاجات اور انفرادی مشکلات کے حل کی عرضیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر شخص دعا مانگتا ہے تو اپنی نوکری، اپنے کاروبار، اپنی صحت اور اپنے بچوں کے لیے۔ یہ دعا مانگنا غلط نہیں، مگر یہ دعا کا ایک محدود اور نچلا درجہ ہے۔

مناجاتِ شعبانیہ ہمیں خدا سے ایک اجتماعی رشتہ قائم کرنا سکھاتی ہے۔ یہ ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک عبد کی آواز ہے جو پوری انسانیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح کیسے کی جائے، نفس کی پاکیزگی کیسے حاصل کی جائے، اور خدا سے عشق کا رشتہ کیسے استوار کیا جائے۔ جب ہم نے اس اجتماعی پیغام کو نظر انداز کر کے اسے صرف میں اور میری ذات تک محدود کر دیا، تو اس نے معاشرے پر اثر ڈالنا چھوڑ دیا۔ ہم نے چشمه بیکراں سے صرف اپنی انفرادی بالٹی بھرنے کی کوشش کی اور پورے باغ کو سوکھا چھوڑ دیا۔

عمل سے کٹا معاشرہ

ہمارے ہاں دعا اور عمل کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہو چکی ہے۔ ہم مسجد میں کھڑے ہو کر خدا سے عشق اور محبت کے دعوے کرتے ہیں، مگر مسجد سے باہر نکلتے ہی ہمارے رویے، ہمارے لین دین اور ہمارے تعلقات ان دعوؤں کی نفی کر دیتے ہیں۔ ہم مناجات میں خدا کے عفو و درگزر کی پناہ مانگتے ہیں، مگر خود اپنے سگے اور دینی بھائی کو اس کی چھوٹی سی غلطی پر معاف کرنے کو تیار نہیں۔یہ مناجات ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہماری روحانی حالت دکھانے کے لیے دیا گیا تھا۔ مگر ہم نے اس آئینے پر غفلت کی دھول جما دی ہے۔ ہم اس میں اپنا چہرہ دیکھنے اور اسے سنوارنے کے بجائے، صرف آئینے کی خوبصورتی کی تعریف کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جب تک ہماری دعائیں ہمارے کردار میں تبدیل نہیں ہوں گی، تب تک وہ معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔

بقولِ اقبال:

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

مناجاتِ شعبانیہ کی روشنی میں فکری تعمیرِ نو

تشخیص کے بعد اب علاج اور راه حل کیا ہے؟۔ مناجاتِ شعبانیہ خود اپنے اندر ہمارے تمام معاشرتی امراض کا علاج رکھتی ہے، بشرطیکہ ہم اسے صحیح طریقے سے استعمال کریں۔ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بیماری انفرادی اور سماجی انانیت ہے ۔ ہر شخص اپنی ذات کے خول میں بند ہے۔ اس کا علاج “کمال الانقطاع” میں پوشیدہ ہے۔ اس کا مطلب دنیا کو چھوڑنا نہیں، بلکہ اپنی ذات کو خدا کے سامنے فنا کر دینا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر کام اپنی خواہش کے لیے نہیں، بلکہ خدا کی رضا کے لیے کرے۔ جب کوئی شخص اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کی ذات مٹ جاتی ہے اور وہ اجتماعی مفاد کے لیے سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ حسد، تکبر اور خود غرضی سے بلند ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تمام بیماریاں “نفس” سے پیدا ہوتی ہیں، اور اس نے اپنے نفس کو خدا کے سپرد کر دیا ہے۔ ہمیں اپنی محفلوں میں یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ “کمال الانقطاع” کا ہماری روزمرہ زندگی میں کیا مطلب ہے؟ معاشرتی زوال اکثر مایوسی اور منفی سوچ کو جنم دیتا ہے۔ ہر شخص شکوہ کناں ہے، ہر کوئی دوسرے پر الزام تراشی کر رہا ہے۔ مناجات ہمیں ایک انقلابی نقطہ نظر دیتی ہے: وَ أَنْتَ لَمْ تُوَلِّنِي إِلَّا الْجَمِيلَ فِي حَيَاتِي (تو نے میری زندگی میں میرے ساتھ حسن و خوبی کے سوا کوئی معاملہ نہیں کیا)۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات اور ناکامیوں کے باوجود اللہ کی نعمتوں اور اس کے حسنِ تدبیر کو دیکھنا سیکھیں۔ یہ مثبت سوچ اور شکر گزاری کا سبق ہے۔ جس دن ہمارے معاشرے نے شکوے اور شکایت کی زبان چھوڑ کر شکر اور حسنِ ظن کی زبان اپنا لی، اس دن ہماری اجتماعی نفسیات بدل جائے گی اور ہم مسائل کا حل تلاش کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ مناجات کا یہ جملہ: "وَ أَبْلَيْتُ شَبَابِي فِي سَكْرَةِ التَّبَاعُدِ مِنْكَ" (اور میں نے اپنی جوانی تجھ سے دوری کے نشے میں بوسیدہ کر دی) ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک جھنجھوڑ دینے والا پیغام ہے۔ آج کا نوجوان جس غفلت، لایعنیت اور وقت کے ضیاع کا شکار ہے، یہ جملہ اس کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ یہ مناجات صرف بوڑھوں کے لیے استغفار کا ذریعہ نہیں، بلکہ جوانوں کے لیے زندگی کا لائحہ عمل ہے۔ انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ جوانی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور اسے برباد نہیں کرنا چاہیے۔ یہ احتساب کا عمل ہی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔

عملی اقدامات

محض فکری گفتگو کافی نہیں۔ ہمیں اس فکر کو عمل میں ڈھالنے کے لیے چند ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

ہمیں روایتی مجالس کے ساتھ ساتھ ایسے علمی و فکری حلقے قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں مناجاتِ شعبانیہ اور دیگر دعاؤں کے مطالب اور مفاہیم پر غور و خوض کیا جائے۔ جہاں یہ سوالات اٹھائے جائیں کہ ان تعلیمات کو ہم اپنے معاشرے میں کیسے نافذ کر سکتے ہیں۔ علماء، ذاکرین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعا کے روحانی پہلو کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی اور عملی پہلو پر بھی زور دیں۔ لوگوں کو یہ بتائیں کہ دعا کی قبولیت کا معیار صرف حاجات کا پورا ہونا نہیں، بلکہ کردار کی بلندی ہے۔ دعا کے بعد اگر ہمارے اندر عاجزی، محبت اور ایثار پیدا نہیں ہوتا تو ہمیں اپنی دعا پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

مناجاتِ شعبانیہ کا پیغام کربلا کے پیغام سے جدا نہیں۔ امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب “کمال الانقطاع” کی عملی تصویر تھے۔ انہوں نے اپنی ذات کو خدا کی راہ میں فنا کر کے بتا دیا کہ حقیقی زندگی کیا ہے۔ ان کی دعا ان کا عمل تھی، اور ان کا عمل ان کی دعا کا مظہر تھا۔ ہمیں اپنی مجالس میں دعا اور کربلا کے اس گہرے تعلق کو اجاگر کرنا ہوگا تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ دعا گوشہ نشینی نہیں، بلکہ میدانِ عمل میں کردار کا نام ہے۔

حرف آخر

اے اہلِ بلتستان! اے علی (ع) کے چاہنے والو! ہمارے ہاتھوں میں اہلِ بیت (ع) کا عطا کردہ ایک ایسا خزانہ ہے جو ہماری تقدیر بدل سکتا ہے۔ مناجاتِ شعبانیہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ روح کی تعمیر اور معاشرے کی تشکیل کا ایک مکمل منصوبہ ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مناجات کو اپنی زبانوں سے اتار کر اپنے دلوں میں بسائیں، اپنی فکر کو اس کے سانچے میں ڈھالیں اور اپنے کردار کو اس کی تعلیمات سے مزین کریں۔ آئیے، عہد کریں کہ ہم اس شعبان میں مناجات کو صرف پڑھیں گے نہیں، بلکہ اسے سمجھیں گے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ آئیے، اپنی انانیت اور خود غرضی کو قربان کر کے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو علم، منطق، محبت اور ایثار پر قائم ہو۔یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے معاشرتی زوال کو عروج میں بدل سکتے ہیں اور اپنی سر زمین کو حقیقی معنوں میں وادئ اہلِ بیت کا عملی نمونہ بنا سکتے ہیں۔ ورنہ تاریخ ہم پر یہ الزام عائد کرے گی کہ ہمارے پاس آبِ حیات کا چشمہ تو موجود تھا، مگر ہم پیاسے چل بسے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha