تحریر: مولانا صادق الوعد، قم
حوزہ نیوز ایجنسی| کائنات کے سب سے بڑے دانا اور بابِ شہرِ علم، حضرت علی علیہ السلام نے ایک مختصر مگر جامع جملے میں زندگی اور روحانیت کا وہ سنہری اصول بیان فرما دیا ہے جو آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی نفسیات، خود شناسی اور روحانی ترقی کے ماہرین کے لیے تحقیق کا ایک وسیع دروازہ کھولتا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: گناہ کو چھوڑ دینا، توبہ طلب کرنے سے زیادہ آسان ہے۔” (نہج البلاغہ، حکمت ۱۷۰)
یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ انسانی روح، نفسیات اور زندگی کے انتظامی امور سے گہرا تعلق رکھنے والا ایک تجربی قاعده کلی ہے۔ آج ہم اس حکمت کے سمندر میں غوطہ زن ہوں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ آسان ہونا محض ایک لفظی اور لسانی معاملہ ہے یا ایک ٹھوس تجربی، روحانی اور نفسیاتی حقیقت۔ خاص طور پر آج کے دور میں، جہاں گناہ کے تمام وسائل فراہم ہیں اور ہر طرف سے نفس کو ورغلانے کے سامان موجود ہیں، یہ علوی حکمت ہمارے لیے ایک شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔
ہم اکثر گناہ کو صرف چند لمحوں کا ایک عمل سمجھتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر گناہ ہماری روح اور نفسیات پر ایک طویل مدتی اثر چھوڑ جاتا ہے۔ گناہ ایک ایسے قرض کی مانند ہے جسے انسان اپنی روح پر لاد لیتا ہے، اور توبہ کرنا دراصل اسی بھاری قرض کی تکلیف دہ قسطیں ادا کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس قرض کی نوعیت کیا ہے:
ذہنی سکون کا زوال
گناہ کے بعد جو چیز سب سے پہلے ہم سے چھن جاتی ہے، وہ ہمارا ذہنی سکون اور قلبی حضور ہے۔ جب ایک گناہگار انسان نماز میں کھڑے ہو کر کہتا ہے :إِيَّاكَ نَعْبُدُ: (ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں)، تو اس کے ضمیر کی عدالت میں ایک سوال کھڑا ہو جاتا ہے: کیا واقعی ایسا ہے؟ جب کہ تم تو اپنی نفسانی خواہشات کے غلام بنے ہوئے ہو۔ یہ اندرونی کشمکش اس کی عبادت سے روح اور لذت کو نچوڑ لیتی ہے۔ ایک طالب علم جو کسی گناہ میں مبتلا ہے، جب کتاب کھولتا ہے تو اس کا ذہن بار بار اسی گناہ کی طرف بھٹکتا ہے۔ اس لئے گناہ کا مرتکب نه هونا دراصل اس قیمتی سرمائے، یعنی توجہ اور ذہنی سکون، کی حفاظت کرنا ہے۔ جبکہ توبہ کرنا اس ذہنی شور اور خلفشار کے درمیان سکون تلاش کرنے کی ایک مشکل اور صبر آزما جدوجہد ہے۔
اضطراب اور رسوائی کا خوف
گناہگار شخص اپنی توانائی کا ایک بہت بڑا حصہ اپنی غلطی کو چھپانے میں صرف کرتا ہے۔ اسے ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس کا راز فاش نہ ہو جائے، کہیں اس کی عزت خاک میں نہ مل جائے۔ وہ لوگوں سے چھپانے کے لیے ایک مصنوعی نقاب پہننے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی ایک مستقل ہائی الرٹ پر گزرتی ہے۔ فون کال بج جائے، یا دروازے پر کوئی دستک ہو اسے چونکا دیتی ہے۔ اس کے برعکس، جس نے اپنے دامن کو گناہ سے بچا کر رکھا، وہ سکون اور اطمینان کی بے خوف زندگی گزارتا ہے۔ اس سکون کو قائم رکھنا، ہر وقت کے خوف اور اضطراب کو سنبھالنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔
عزتِ نفس کا قتل
گناہ انسان کے نفس کو یہ پیغام دیتا ہے: تم کمزور ہو، تم قابلِ قدر نہیں ہو ، تم اچھائی کے لائق نہیں ہو۔ یہ خود ملامتی انسان کی عزتِ نفس کو تباہ کر دیتی ہے، جو کامیابی کے لیے بنیادی مقدمہ ہے۔ جب عزتِ نفس ختم ہو جاتی ہے تو انسان خود کو اللہ کی رحمت کا مستحق بھی نہیں سمجھتا، اور یہ مایوسی کا پہلا قدم ہے۔ اس حالت میں توبہ طلب کرنا ایک ایسی عمارت بنانے کی کوشش کی طرح ہے جس کی بنیادیں کھوکھلی اور لرز رہی ہوں۔ جدید سائنس بتاتی ہے کہ ہمارا دماغ تکرار سے سیکھتا ہے۔ جب انسان پہلی بار گناہ کی طرف جاتا ہے تو گویا وہ ایک گھنے جنگل میں اپنے لیے راستہ بنا رہا ہوتا ہے، یہ بہت مشکل بھی ہے اور انسان کے اندر سے مزاحمت بھی ہوتی ہے۔ لیکن بار بار کی تکرار کے بعد وہ کچا راستہ ایک پختہ شاہراہ میں بدل جاتا ہے۔ اب گناہ کا انتخاب ایک شعوری فیصلہ نہیں رہتا، بلکہ ایک عادت اور تقریباً ایک خودکار ردِعمل بن جاتا ہے۔
مثال کے طور پر جو شخص پہلی بار نمازِ فجر قضا کرتا ہے، اسے شدید ندامت ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ عمل دہرایا جاتا ہے تو گناہ کا احساس کم ہو جاتا ہے اور بیدار نہ ہونا معمول بن جاتا ہے۔ اب اگر وہ دوبارہ نمازی بننے (یعنی توبہ) کی کوشش کرے تو اسے نیند کی اس پختہ عادت سے جنگ کرنی پڑے گی۔ یہ جنگ اس ابتدائی مزاحمت سے کہیں زیادہ مشکل ہے جو پہلی بار نماز چھوڑتے وقت ہوئی تھی۔
اسی طرح جب ہم کوئی گناہ کرتے ہیں تو ہمارا ذہن اس نفسیاتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے جواز تراشنا شروع کر دیتا ہے۔ حسد کر رہا ہوتا ہے مگر اسے ، رشک کہہ کر ٹال دیتا ہے ۔ اگر کسی کے ساتھ برا ہو جائے تو کہتا ہے اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا اس نے میرا کہنا نہیں مانا ہے ۔ یہ جواز تراشی آہستہ آہستہ ہمارے اخلاقی حصار کو خراب کر دیتی ہے اور یوں گناہ کی برائی نظر آنا مکمل بند ہو جاتی ہے۔ لہٰذا، گناہ چھوڑنا یعنی اس پھسلن والی ڈھلوان پر قدم ہی نہ رکھنا هے۔ جبکہ توبہ طلب کرنا اس ڈھلوان سے اوپر چڑھنے کی کوشش کرنا ہے، وہ بھی اس حال میں کہ آپ تھکے ہوئے اور زخمی ہیں۔ کون سا راستہ آسان ہے؟
ایسا زخم جو توبہ بھی شاید نہ مٹا سکے
یہاں وہ نقطہ آتا ہے جہاں روایات گناہ کی مزید زیادہ گہری اور خوفناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ توبہ سے شاید سزا شاید معاف ہو جائے، لیکن گناہ کے کچھ اثرات پھر بھی باقی رہ جاتے ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ نمودار ہوتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے تو وہ نقطہ پھیلتا جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ پھر وہ کبھی فلاح نہیں پائے گا۔ (کلینی، اصولِ کافی ، کتاب ایمان و کفر ،ح، نمبر 20) یہ حدیث مبارکہ دراصل قرآن مجید کی آیت " كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ" کی بہترین تفسیر ہے۔ امامؑ واضح فرما رہے ہیں کہ دل پر زنگ لگنے کا عمل کیسے شروع ہوتا ہے اور کیسے مکمل ہوتا ہے۔ توبہ اس سیاہی کو دھونے کی کوشش ہے، لیکن ترک گناه اپنے دل کے آئینے کو شفاف اور بے داغ رکھنے کے مترادف ہے۔ ایک صاف آئینے کی حفاظت کرنا، ایک سیاہ اور دھندلے آئینے کو رگڑ رگڑ کر صاف کرنے کی کوشش سے ہزار گنا آسان ہے۔
ایک نہایت اہم نکتہ جس سے ہم غافل رہتے ہیں وہ یہ ہے کہ توبہ کرنا بھی خود ہماری قدرت میں نہیں ہوتا۔ توبہ ایک الٰہی توفیق کا نام ہے۔ کون اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ گناہ کرنے کے بعد ہمیں پشیمانی کی توفیق، آنسو بہانے کا موقع اور استغفار کے حالات نصیب ہوں گے؟ روایات میں ہے کہ گناہ، انسان سے توفیقات چھین لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایک گناہ انسان کو ایسی روحانی پستی میں گرا دے کہ اس سے توبہ کی توفیق ہی سلب ہو جائے اور اس کا دل پتھر کا ہو جائے۔ لہٰذا، مستقبل کی توبہ پر بھروسہ کرنا ایک ایسا جوا ہے جس میں شیطان ہمیں ہمیشہ جیتنے کا جھانسا دیتا ہے، جبکہ حقیقت میں ہار یقینی ہوتی ہے۔
گناہ کی مثال لکڑی کی دیوار میں ٹھونکی گئی کیل کی طرح ہے۔ توبہ اس کیل کو دیوار سے باہر نکال دیتی ہے۔ اللہ کی رحمت اور بخشش اس کیل کو نکال دیتی ہے، لیکن کیل کا سوراخ اور نشان پھر بھی دیوار پر باقی رہ جاتا ہے۔ یہ نشان روح کی کمزوری ہے، ایک ایسی دراڑ ہے جو مستقبل میں اسی جگہ سے دوبارہ ٹوٹنے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ گناہ چھوڑنا اپنی روح کی دیوار کو ان سوراخوں اور زخموں سے مکمل طور پر محفوظ رکھنا ہے۔ ایک بے داغ دیوار کی حفاظت کرنا، ایک چھلنی دیوار کی مرمت کرنے سے یقیناً آسان ہے۔
پرہیز یا علاج؟
امیر المؤمنین علیؑ ہمیں یہی پیغام دے رہے ہیں کہ عقلمند انسان علاج سے پہلے پرہیز کرتا ہے۔ ایک شخص وہ ہے جو روزانہ تھوڑی سی ورزش اور متوازن غذا سے خود کو صحت مند رکھتا ہے؛ یہ آسان، پُرسکون اور پائیدار راستہ ہے۔ گناہ سے اجتناب بھی اسی طرح ہے۔ جبکہ دوسرا شخص وہ ہے جو بے پروائی سے اپنی صحت برباد کرتا ہے اور پھر بیماری کی حالت میں مہنگے علاج، کڑوی دوائیوں اور تکلیف دہ آپریشنز سے گزرتا ہے، جس میں نہ صحت کی ضمانت ہے اور نہ سکون۔
آج کا معاشرہ ہمیں دوسری راہ کی طرف دھکیلتا ہے اور یہ کہتے ہوئے سنائی دیتا ہے: ابھی مزے کرو، بعد میں توبہ کر لینا۔ یہی شیطان کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ جبکہ علوی حکمت بتاتی ہے ، پرہیز کرو، تاکہ ہمیشہ کے سکون سے لطف اندوز ہو۔
آئیے، آج یہ فیصلہ کریں کہ ہم اپنی روح کے ساتھ وہ سلوک نہیں کریں گے جو ہم اپنے جسم کے ساتھ بھی کرنا پسند نہیں کرتے۔ ہم زخم کھانے اور پھر مرہم ڈھونڈنے کے بجائے، اپنے آپ کو زخم سے بچانے کا آسان، عقلمندانہ اور پُرسکون راستہ اختیار کریں گے۔ یہی حکیم بشریت حضرت علیؑ کی حکمت کا جوہر ہے اور یہی دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی کی ضمانت ہے۔









آپ کا تبصرہ