حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے معروف ماہرِ نفسیات حجت الاسلام حجت اللہ صفری نے غصے اور سکون کے موضوع پر ایک سوال و جواب میں اہم نکات بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بنیادی باتوں کو مدنظر رکھ رکھنا ضروری ہے۔
افراد کی فطری ساخت مختلف ہوتی ہے
حجت الاسلام صفری کے مطابق، انسانوں کے برداشت، صبر اور غصے کی شدت بچپن ہی سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک ہی خاندان کے بچوں میں بھی یہ فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض بچے فطری طور پر پُرسکون ہوتے ہیں، جبکہ کچھ زیادہ متحرک اور جلد غصے میں آ جاتے ہیں۔
یہ فرق بالکل فطری ہے اور انسانی شخصیت کا حصہ ہے۔
اسی لیے اگر کوئی شخص کم غصہ کرتا ہے یا زیادہ تر حالات میں پُرسکون رہتا ہے، تو یہ بیماری نہیں۔ اسی طرح جلد غصہ کرنے والا شخص بھی لازماً بیمار نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ کب پیدا ہوتا ہے؟
ماہرِ نفسیات کے مطابق مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی شخص کو اپنے دفاع، عزت یا حق کے تحفظ کے لیے غصہ دکھانا چاہیے، مگر وہ بالکل خاموش رہے۔
اس حوالے سے دو صورتیں قابلِ توجہ ہیں:
1۔ غیر صحت مند دباؤ (غصے کو دبانا)
کچھ لوگ بظاہر پُرسکون نظر آتے ہیں، لیکن اندر ہی اندر اپنے غصے کو دباتے رہتے ہیں۔ وہ تکلیف دہ یا ناانصافی والے حالات میں اپنے جذبات ظاہر نہیں کرتے، بلکہ سب کچھ دل میں جمع کرتے رہتے ہیں۔
یہ دباؤ وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور کسی موقع پر اچانک شدید غصے یا غیر معمولی رویے کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نفسیاتی طور پر نقصان دہ ہے۔
2۔ صحت مند سکون
دوسری طرف کچھ لوگ واقعی فطری طور پر پُرسکون ہوتے ہیں۔ وہ مسائل کو جذباتی ردِعمل کے بجائے عقل، حکمت اور تحمل سے حل کرتے ہیں۔
یہ سکون بے حسی نہیں بلکہ جذبات پر بہتر کنٹرول کی علامت ہوتا ہے۔ ایسے افراد ذہنی طور پر صحت مند سمجھے جاتے ہیں۔
بے حسی کب خطرناک بن جاتی ہے؟
حجت الاسلام صفری نے کہا کہ اگر کوئی شخص ظلم، زیادتی یا توہین کے وقت بھی بالکل خاموش رہے اور اپنے حق کا دفاع نہ کرے، تو یہ غیر معمولی اور تشویشناک بات ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر، جہاں غیرت، خودداری یا عزتِ نفس کا تقاضا ہو، وہاں مکمل خاموشی یا لاتعلقی درست نہیں۔
البتہ اگر کوئی شخص غصے کے بجائے دانشمندانہ اور پرامن طریقہ اختیار کرے، تو یہ اس کی ذہنی پختگی کی علامت ہے۔ مسئلہ تب ہے جب وہ ہر طرح کے ردِعمل سے ہی گریز کرے۔
نتیجہ
ماہرِ نفسیات کے مطابق:
غصہ اپنی معتدل صورت میں ایک فطری اور ضروری جذبہ ہے۔ بعض مواقع پر اس کا اظہار انسان کے لیے مفید بھی ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں غصے کا بالکل نہ ہونا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
تاہم ہر انسان کی فطرت اور برداشت مختلف ہوتی ہے، اس لیے سب سے ایک جیسا رویہ توقع کرنا درست نہیں۔









آپ کا تبصرہ