تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی بے شمار فضیلتوں میں سے ایک منفرد اور نمایاں فضیلت یہ ہے کہ آپؑ کی ولادت خانۂ کعبہ میں ہوئی۔ درحقیقت امام علیؑ کی کعبہ میں ولادت، کعبہ کے لئے باعثِ شرف و افتخار ہے کہ وہ عالمِ خلقت کے یکتا گوہر اور امیرِ ہستی کے لئے صدف بن گیا۔ یہ عظیم الٰہی معجزہ ماہِ خدا رجب المرجب کی 13 تاریخ کو رونما ہوا، اور اس دن مولائے کائنات کی ولادت سے چشمِ عالم روشن ہوئیں۔
لہٰذا اس مختصر تحریر میں مولا کی اس عظیم فضیلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنی جان کو معرفت اور محبتِ علوی کی خوشبو سے معطر کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
ولادت باسعادت سے پہلے کے واقعات
1۔ جحفہ کے راہب کی پیشنگوئی
ایک مرتبہ جناب ابو طالبؑ حجرِ اسماعیل میں خانۂ کعبہ کے پاس سو گئے۔ خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک دروازہ کھلا اور وہاں سے ایک نور ان کی طرف آیا اور انہیں گھیر لیا۔ جب بیدار ہوئے تو جحفہ کے راہب کے پاس گئے اور جو کچھ دیکھا تھا اسے بیان کیا۔
راہب نے جواب میں کہا:
“اے ابو طالب! تمہیں بشارت ہو کہ بہت جلد تمہیں ایک بلند مرتبہ اور سعادت مند فرزند عطا ہوگا۔” (بحارالانوار جلد15، صفحہ203)
2۔ راہب ابوالمویہب کی پیشنگوئی
جب حضرت ابو طالبؑ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفرِ شام پر گئے، تو راہب ابوالمویہب نے آنحضرت کو دیکھا اور آپ کی نبوت کی خبر دی۔ پھر اس نے پوچھا: کیا ابو طالب کے یہاں “علی” نام کا کوئی فرزند پیدا ہوا ہے؟
لوگوں نے کہا: نہیں۔
اس نے کہا: “علی” یا تو پیدا ہو چکا ہے یا اسی سال پیدا ہوگا، اور وہ سب سے پہلا شخص ہوگا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) پر ایمان لائے گا۔ ہم اسے پہچانتے ہیں اور ہمارے نزدیک اس کی وصایت اسی طرح ثابت ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی نبوت ثابت ہے۔ اس کا نام عالمِ بالا میں ‘علی’ ہے، اور ملائکہ اسے شجاع، خوش رو اور غالب کہہ کر پکارتے ہیں، اور آسمانوں میں وہ خورشیدِ تاباں سے بھی زیادہ پہچانا جاتا ہے۔” (بحاراالانوار، جلد35، صفحہ10)
3۔ راہب مثرم کی پیشنگوئی
حضرت ابو طالبؑ کے زمانے میں شام میں ایک راہب رہتا تھا جس کا نام مثرم تھا۔ اس نے 190 برس اللہ کی عبادت کی تھی اور کبھی کوئی حاجت طلب نہیں کی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے اللہ سے درخواست کی کہ اپنے اولیاء میں سے کسی کو اسے دکھا دے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابو طالبؑ کو اس کے پاس بھیج دیا۔
راہب کھڑا ہوا، حضرت ابو طالبؑ کے سر کا بوسہ لیا اور کہا:
“اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری درخواست قبول کی اور مجھے موت سے قبل اپنے ولی کی زیارت کرا دی۔” پھر کہا: “تمہیں بشارت ہو! خدائے علیِّ اعلیٰ نے مجھے الہام کیا ہے کہ تمہارے لئے ایک خوش خبری ہے۔”
حضرت ابو طالبؑ نے پوچھا: وہ بشارت کیا ہے؟ راہب نے کہا:
“تمہاری صلب سے ایک فرزند پیدا ہوگا جو ولیُّ اللہ ہے۔ وہ اللہ کا ولی، متقین کا امام اور ربّ العالمین کا وصی ہے۔ اگر تم اس فرزند سے ملاقات کرو تو میری طرف سے اسے سلام کہنا اور کہنا: مثرم تمہیں سلام کہتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور تم ان کے برحق جانشین ہو؛ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ نبوت اور تمہارے ساتھ وصایت کامل ہوتی ہے۔” (بحارالانوار، جلد35، صفحہ13)
منفرد ولادت
امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولادت خانۂ کعبہ میں، دنیا کی تمام ولادتوں میں ایک منفرد اور بے مثال واقعہ ہے، بلکہ اس ولادت کے ابتدائی مراحل بھی غیر معمولی انداز میں وقوع پذیر ہوئے۔ یہاں ہم اس عظیم ہستی کی ولادت سے پہلے کے چند مراحل کا مختصر بیان پیش کرتے ہیں۔
دست نجس ولی خدا کو چھو نہیں سکتا
شب جمعہ 13 رجب، 30 عام الفیل جب رات کا دو تہائی حصہ گزر چکا تھا، حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کو دردِ ولادت لاحق ہوا۔ حضرت ابوطالبؑ نے فرمایا: "میں کچھ جانکار خواتین کو لے آتا ہوں تاکہ اس وقت وہ تمہاری مدد کریں، جناب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا نے عرض کیا: جیسا آپ بہتر سمجھیں۔
اچانک گھر کے کونے سے ایک آواز سنائی دی جس نے کہا:
«اے ابوطالب صبر کرو! کیونکہ ولی خدا کو نجس ہاتھ نہیں چھو سکتا۔ (بحار الانوار، جلد 35، صفحہ 30)
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی کعبہ کے قریب آمد
صبح کے وقت حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کو دوبارہ درد محسوس ہوا۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام پریشان ہو کر گھر سے باہر جانے لگے تاکہ کوئی حل تلاش کریں۔ اسی وقت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وہاں تشریف لائے اور وجہ دریافت کی۔ آپ سے حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی مشکل بیان کی گئی۔
اسی وقت حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا نے ایک آواز سنی کہ "اے فاطمہ! تم پر لازم ہے کہ تم خدا کے گھر کی طرف جاؤ"؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت ابوطالب علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور دونوں فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کے پاس آئے اور انہیں ساتھ لے کر کعبہ کے قریب لے گئے۔ (بحار الانوار، جلد 35، صفحہ 30)
دیوار کعبہ کا شگاف ہونا اور بی بی کا خانہ کعبہ میں داخل ہونا
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا پشت کعبہ پر کھڑی دعا و مناجات میں مشغول تھیں کہ اچانک سب کی نگاہوں کے سامنے ایک عظیم معجزہ رونما ہوا۔ خدا کے گھر کی پتھر اور مٹی والی دیوار، آپ کے سامنے بغیر کسی نقصان کے پھٹ گئی، نہ دیوار کے پتھر گرے اور نہ ہی اس کی بنیاد کو کوئی نقصان پہنچا۔ پھر دیوار کے دونوں طرف فاصلہ پیدا ہوا تاکہ وہ اس شگاف سے کعبہ کے اندر داخل ہو سکیں۔ اسی لمحے انہیں خدا کی طرف سے کعبہ میں قدم رکھنے کا حکم ملا۔
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا 3 روز کعبہ کے اندر رہیں اور پردے خود بخود ہٹ گئے۔ وہ جنتی نعمات سے فیضیاب ہوئیں، غیبی پیغام سنے اور ملکوتی مناظر دیکھے۔ خداوند عالم نے کعبہ کے تالے کو اس قدر مضبوط کر دیا کہ کوئی انسان اسے نہ کھول سکے اور نہ ہی خدا کے راز سے آگاہ ہو سکے۔ (بحار الانوار، جلد 35، صفحہ 9)
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کا کعبہ میں داخل ہونا صرف خدا کی طرف سے ایک خاص دعوت تھی۔ بی بی 3 دن کعبہ میں مقیم رہیں، جنت کے پھلوں اور لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہوئیں، اور جب باہر آئیں تو یہ عظیم خبر لوگوں کے سامنے بیان کی: "میں خدا کے محترم گھر میں داخل ہوئی، اور اس عتیق گھر میں اپنے فرزند کو دنیا میں لائی۔ میں 3 دن کعبہ کے اندر رہی اور جنت کے پھلوں اور نعمتوں سے مستفید ہوئی۔" (بحار الانوار، جلد 35، صفحہ 13)
تراب پر ابو تراب کا قدم
ہجرت سے 23 سال قبل جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی عمر مبارک 30 برس تھی۔ امام علی بن ابی طالب علیہ السلام سینہ گیتی پر قدم رنجا ہوئے۔ مولود کعبہ نے پیدائش کے فوراً بعد سجدہ کیا اور اسی حالت میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: "گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) اللہ کے پیغمبر ہیں اور علی، محمد کے وصی ہیں، محمد کے ساتھ نبوت کا اختتام ہوتا ہے اور میرے ساتھ وصایت و جانشینی مکمل ہوتی ہے اور میں امیرالمؤمنین ہوں۔ (علی ولیدالکعبہ صفحہ 63)
وصی کی ولادت پر نبی کا فرمان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ولادت کے دن صبح، جب لوگ اس انوکھے واقعہ پر حیران تھے، اس عظمت کا اظہار فرمایا اور اس مبارک مولود کی فضیلت و برکت بیان کرتے ہوئے فرمایا: آج رات ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے بے شمار رحمت و نعمت کے دروازے کھولے گا۔
پھر آپ نے اس سال کو "سال خیر و برکت" کے نام سے موسوم فرمایا۔ (بحارالانوار جلد 35 صفحہ21)
ولی اللہ کی ولادت پر الٰہی مبارک باد
اللہ تعالیٰ نے پہلی بار جس مولود کی ولادت پر مبارکباد دی، وہ امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بارے میں فرماتے ہیں: "جب علیؑ پیدا ہوئے، تو جبرئیل میرے پاس آئے اور یہ پیغام لے کر آئے:
'اے محبوب الہیٰ! اللہ علی الاعلی نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور آپ کے بھائی علیؑ کی ولادت پر آپ کو مبارکباد دیتا ہے۔ اور فرماتا ہے: اب تمہاری نبوت اور وحی کا اعلان قریب ہے۔ میں نے تمہاری تمہارے بھائی، وزیر، داماد اور جانشین کے ذریعہ مدد کی۔ اس کے ذریعہ میں نے تمہاری کمر کو مضبوط کیا اور تمہارا ذکر سب کے سامنے کیا۔ اب اٹھو، اسے خوش آمدید کہو اور دائیں ہاتھ سے اپنے بازو میں بٹھاؤ، کیونکہ وہ یمین والوں میں سے ہے اور اس کے شیعہ روشن پیشانی والے ہیں۔'" (ینابیع المودة لذوی القربى، جلد 2 ، صفحہ 306 ، بحارالانوار جلد 5 صفحہ 673)
مولود کعبہ کی نام گذاری
اہل سنت کی بزرگ شخصیت حافظ گنجی شافعی جابر بن عبداللہ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول کے حوالے سے ایک خوبصورت روایت نقل کرتے ہیں، جس کا ایک حصہ یوں ہے۔ "اس رات جب (امیر المومنین امام) علی (علیہ السلام) پیدا ہوئے، زمین منور ہو گئی۔ پھر ابو طالب (علیہ السلام) گھر سے باہر آئے اور یہ فرماتے ہوئے لوگوں کو اطلاع دی: 'اے لوگو! خدای عزوجل کا ولیّ کعبہ میں پیدا ہوا۔' صبح ہونے پر وہ کعبہ (مسجد الحرام) میں داخل ہوئے اور یہ اشعار پڑھے:
یا رب هذا الغسق الدجی / و القمر المنبلج المضی
بین لنا من امرک الخفی / ماذا ترى فی اسم ذا الصبی
'اے تاریکی اور چمکتے ہوئے چاند کے خدا! اپنے خفیہ امور اور الطاف سے ہمیں روشن کر کہ ہم اس بچے کا نام کیا رکھیں۔'
اس موقع پر جناب ابو طالب (علیہ السلام) نے ایک آسمانی آواز (ہاتف) سنی جو کہہ رہی تھی:
یا أهل بیت المصطفى النبی / خصصتم بالولد الزکی
إن اسمه من شامخ العلی / علی اشتق من العلی
'اے اہل بیت مصطفی! خدا نے یہ پاک نومولود تمہارے لئے مخصوص کیا۔ اس کا نام بلند مرتبہ سے 'علی' رکھا گیا ہے، جو خداوند عالی کا مشتق ہے۔'
قندوزی حنفی نے اپنی کتاب ینابیع المودة میں نقل کیا ہے کہ:
ابو طالب (علیہ السلام) اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے، خدا کے حضور سجدہ کیا اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے لئے دس اونٹ عقیقہ کئے۔ ابو طالب علیہ السلام کے یہ اشعار اور آسمانی آواز ایک تختی پر لکھ دی گئی اور کعبہ میں آویزان کر دی گئی اور بنی ہاشم اس کی بنا پر قریش پر فخر کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ تختی حجاج اور ابن زبیر کی جنگ کے دوران غائب ہو گئی۔ (امالی شیخ طوسی صفحہ 80)
کتب انبیاء کی تلاوت
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: علی علیہ السلام نے، خدا کی وحدانیت کا اعلان کرنے کے بعد، میری طرف دیکھا اور کہا: "اے رسول خدا! کیا آپ مجھے پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں؟" میں نے کہا: "ہاں، پڑھو۔"
پھر علی علیہ السلام نے آدم علیہ السلام پر نازل ہونے والی صحیفے پڑھے، جو ان کے بیٹے شیث علیہ السلام نے لوگوں کو تعلیم دینے اور احکام الٰہی قائم رکھنے کے لئے پڑھے تھے۔ علی علیہ السلام نے پہلے حرف سے آخری حرف تک سب کچھ پڑھا۔ اگر شیث علیہ السلام وہاں ہوتے تو یقیناً کہتے کہ علی علیہ السلام نے ان صحیفوں کو ان سے بہتر پڑھی ہے۔
اس کے بعد علی علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی تورات پڑھی۔ اگر موسیٰ علیہ السلام وہاں ہوتے تو اقرار کرتے کہ علی علیہ السلام نے تورات ان سے بہتر پڑھی ہے۔
پھر انہوں نے داود علیہ السلام کی زبور پڑھی، اور اگر داود علیہ السلام موجود ہوتے تو وہ بھی یہی کہتے کہ علی نے زبور ان سے بہتر پڑھی ہے۔
آخر میں انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل پڑھی، اور اگر عیسیٰ علیہ السلام وہاں ہوتے تو وہ بھی یہی اقرار کرتے۔ (بحارالانوار جلد35، صفحہ 22 ، 37 از امالی شیخ طوسی صفحہ 80)
نزول قرآن سے قبل تلاوت قرآن
راوی کا بیان ہے کہ جب جناب ابوطالب علیہ السلام نے امیر المومنین علی علیہ السلام کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے؛ علی علیہ السلام نے فرمایا: "اے بابا! خدا کا سلام، رحمت اور برکتیں آپ پر ہوں۔"
پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اندر آئے۔ جب علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ حضور کے تبسم کا سبب بنے اور عرض کیا: "اے رسول خدا! خدا کا سلام، رحمت اور برکتیں آپ پر ہوں۔"
اس کے بعد، خدا کے اذن سے، علی علیہ السلام نے ہلکی سی کھانسی کی اور سورہ مومنون پڑھنا شروع کیا۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "بے شک مؤمنین تمہاری وجہ سے کامیاب ہوئے۔ قسم ہے خدا کی، تم ان کے امیر اور سردار ہو؛ تم انہیں اپنی علمی خوراک دیتے ہو اور وہ تمہارے علم سے رزق پاتے ہیں۔ قسم ہے خدا کی، تم ان کے رہنما اور ہدایت دینے والے ہو، اور لوگ تمہارے سبب ہدایت پاتے ہیں۔" (الانوار النعمانیة جلد1، صفحہ 27)









آپ کا تبصرہ