اتوار 8 فروری 2026 - 22:22
انقلابِ اسلامی کا بے مثال رہنما اور عظیم لیڈر

حوزہ/تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انقلابات عموماً اُس وقت جنم لیتے ہیں جب ظلم، ناانصافی اور استحصال حد سے بڑھ جاتا ہے اور عوام ان مظالم سے تنگ آ کر تبدیلی کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ انقلاب محض حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ فکر، شعور اور ہمہ گیر نظامِ حیات کی اصلاح و تبدیلی کا مظہر ہوتا ہے۔

تحریر: کائنات کاظمی و حجاب زہراء

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انقلابات عموماً اُس وقت جنم لیتے ہیں جب ظلم، ناانصافی اور استحصال حد سے بڑھ جاتا ہے اور عوام ان مظالم سے تنگ آ کر تبدیلی کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ انقلاب محض حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ فکر، شعور اور ہمہ گیر نظامِ حیات کی اصلاح و تبدیلی کا مظہر ہوتا ہے۔

بیسویں صدی کے انقلابات میں انقلابِ اسلامی ایران ایک منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ نہ کسی فوجی بغاوت کا نتیجہ تھا اور نہ خانہ جنگی کا، بلکہ یہ ایک خالص روحانی اور عوامی تحریک تھی، جس کی قیادت ایک ایسے دینی و فکری رہنما نے کی جس نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاست کی سمت کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ ان کی فکر، بصیرت اور جدوجہد نے دنیا پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔

امام خمینیؒ کی پیدائش

بیسویں صدی کا عظیم انقلاب 1979ء میں طویل سیاسی، سماجی اور معاشی کشمکش کے نتیجے میں کامیاب ہوا،جس کے بانی اور رہنما حضرت امام خمینیؒ تھے۔ آپ 1320ھ میں ایران کے شہر خمین میں پیدا ہوئے۔

امام خمینیؒ کا قیام

اس زمانے میں ایران پر ایک مطلق العنان شاہ کی حکومت قائم تھی، جہاں آزادی کا کوئی تصور نہ تھا اور عوام شدید ظلم و ستم کا شکار تھے۔ شاہ ایران مغربی ایجنڈے پر عمل پیرا تھا، جس کے باعث مذہبی طبقہ خصوصاً علما اس سے نالاں تھے۔ علما نے شاہ کے اقدامات کو دین کے خلاف قرار دیا۔

ان سخت حالات میں آیت اللہ خمینیؒ نے شاہی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا اور مظلوم عوام کی مضبوط آواز بن کر سامنے آئے۔ عوام نے آپ کی آواز پر لبیک کہا اور سڑکوں پر نکل آئے۔ ہڑتالوں، تقاریر اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں شاہ نے قتلِ عام کا حکم دیا۔

5 شوال، 22 مارچ 1963ء کو امام جعفر صادقؑ کی شہادت کے موقع پر منعقدہ مجلس پر شاہ کے کارندوں نے حملہ کیا، جس میں متعدد افراد شہید ہوئے۔ اس موقع پر امام خمینیؒ نے بے مثال جرأت و شجاعت کے ساتھ شاہی ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور ڈٹ کر اس کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

امام خمینی کی جلاوطنی

حکومت نے امام خمینیؒ کو گرفتار کر کے ترکی جلاوطن کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد آپ فرانس منتقل ہو گئے۔ شاہ کا خیال تھا کہ عوام کو ان کے مرجعِ تقلید سے دور کر دیا جائے گا، لیکن اس دوران امامؒ نے انقلابی علما کی تربیت کی اور معاشرے میں انقلاب کے لیے فکری و نظریاتی بنیادیں مضبوط کیں۔ آپ نے اسلامی حکومت کا واضح خاکہ پیش کیا اور شاہی حکومت کی بداعمالیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔

امام خمینی کی وطن واپسی

پندرہ برس کی جلاوطنی کے بعد امام خمینیؒ نے 22 بہمن (بمطابق 1 فروری 1979ء) کو ایران کی سرزمین پر دوبارہ قدم رکھا۔ آپ کی واپسی پر پوری دنیا کی نظریں آپ پر مرکوز تھیں۔ امامؒ کی قیادت میں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔ آپ گیارہ برس تک اسلامی ایران کے لیے ایک درخشاں چراغ کی مانند روشن رہے اور قوم کو فکری و روحانی حرارت بخشتے رہے۔

امام خمینی کا وصال

امام خمینیؒ نے دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں کو جینے کا سلیقہ سکھایا۔ یہ عظیم رہنما 3 جون 1989ء کو اس دارِ فانی سے عالمِ بقا کی طرف کوچ کر گئے۔

نتیجہ

اگرچہ امام خمینیؒ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کا اسوۂ حیات ہمارے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہے۔ ان کی زندگی انبیا، اولیا اور آزادی پسند انسانوں کے راستے کی عملی تفسیر ہے، جو ہمیشہ باقی رہے گی۔

ان کی پاکیزہ جدوجہد اور عظیم کارنامے قیامت تک زندہ رہیں گے، کیونکہ جو انسان ملت و انسانیت کے لیے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیتا ہے، اس کا جسم تو مٹی میں مل جاتا ہے مگر اس کے افکار اور کارنامے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ امام خمینیؒ بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha