اتوار 8 فروری 2026 - 15:24
دینِ اسلام تربیتِ اولاد کو انتخاب نہیں بلکہ شرعی ذمہ داری قرار دیتا ہے

حوزہ/ الٰہی قوانین اور انسانی ضوابط میں فرق یہ ہے کہ اسلام والدین کو اولاد کے حقوق کی ادائیگی کا پابند قرار دیتا ہے حتیٰ کہ پیدائش سے پہلے بھی اور نیک اولاد کو "باقیاتِ صالحات" بتاتا ہے۔ اولاد کے حقوق میں ان کا اچھا نام رکھنا، تعلیم دینا اور بروقت شادی کا انتظام کرنا وغیرہ شامل سمجھتا ہے اور بچوں کی حفاظت کو والدین کی صلاحیت و درستگی سے وابستہ قرار دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ جوادی آملی نے اپنی ایک تصنیف میں اولاد کے بعض حقوق کی طرف اشارہ کیا ہے جو اہلِ فکر کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں:

موجودہ دنیا میں الٰہی قوانین اور انسانی ضوابط کا فرق یہ ہے کہ عالمی اعلامیۂ حقوقِ انسان اس بات پر زور دیتا ہے کہ اولاد کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور ان کی تربیت کے لیے کوئی کوشش نہ کی جائے بلکہ وہ خود اپنی زندگی کا راستہ آزادانہ طور پر منتخب کریں لیکن اسلامی تعلیمات میں اس بات پر اصرار ہے کہ والدین پر اپنی اولاد کے حقوق کے حوالے سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور مناسب ہے کہ اولاد کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

اولاد فطری طور پر اور معمول کے مطابق دنیا کی زینت سمجھی جاتی ہے لیکن نیک اولاد جو والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے والدین کی باقیاتِ صالحات میں شمار ہوتی ہے۔

«المالُ والبنونَ زینةُ الحیاةِ الدنیا والباقیاتُ الصالحاتُ خیرٌ عندَ ربّک ثواباً وخیرٌ أملاً» مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے پروردگار کے نزدیک اجر کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بھی بہتر۔

دینِ اسلام تربیتِ اولاد کو انتخاب نہیں بلکہ شرعی ذمہ داری قرار دیتا ہے

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان حقوق کے بارے میں فرمایا: «مِن حقِّ الولدِ علی والده ثلاثةٌ: أن یُحسِّنَ اسمَه و یُعلِّمَه الکتابةَ و یُزوِّجَه إذا بلغَ» یعنی اولاد کا والد پر تین حق ہیں:

اس کے لیے اچھا نام منتخب کرے

اسے لکھنا پڑھنا سکھائے

اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کا انتظام کرے۔

امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: «یحفظ الأطفال بصلاح آبائهم» بچوں کی حفاظت ان کے والدین کی درست تربیت کے ذریعہ ہوتی ہے۔

شاید امام علیہ السلام اس طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ اگر والدین اپنی اولاد کے حقوق کا خیال رکھیں تو بچے انحراف کے خطرات سے محفوظ رہتے ہیں ورنہ زمانے کے شدید حوادث کے طوفان کے سامنے کمزور اور آسیب پذیر ہو جاتے ہیں۔

اگر مربی اور والدین بچوں اور کمسنوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کریں اور ان حقوق کے حصول میں ان کی حوصلہ افزائی کریں تو وہ جوانی اور بڑھاپے میں اس کا فائدہ ضرور پائیں گے۔

ماخذ: کتاب «حق و تکلیف در اسلام» صفحہ ۳۱۸، ۳۱۹

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha