حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع نمایندگان طلاب و فضلائے حوزہ علمیہ قم کے وفد نے آیت اللہ حسینی بوشہری سے ملاقات کی، جس میں ملکی حالات اور حالیہ واقعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے ولادت امام مہدیؑ کی مناسبت سے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تمام مومنین، خصوصاً شیعہ حضرات، آپؑ کے ظہور کے منتظر ہیں اور آپؑ کے سچے ناصر و مددگار بننے کی تمنا رکھتے ہیں۔
انہوں نے حالیہ فسادات کو رہبر معظم انقلاب کے مطابق “مانند بغاوت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے اپنی تمام انٹیلی جنس اور سیکورٹی طاقتیں بروئے کار لا کر ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ان فسادات میں بعض عناصر نے ایسے جرائم انجام دیے جو بعض مواقع پر دہشت گرد تنظیم داعش سے بھی زیادہ سنگین تھے۔ ان کے مطابق، حالیہ واقعات میں غیر ملکی مداخلت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے اور بعض بیرونی طاقتیں پس پردہ ان کارروائیوں کی قیادت کر رہی تھیں۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے کہا کہ مساجد، قرآن اور طبی مراکز پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ عناصر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں اور اسلامی و انسانی اقدار کے دشمن ہیں۔
انہوں نے 22 رجب کی عظیم الشان عوامی ریلی کو عوامی بصیرت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم نے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ملک کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فردوسی اور خیام کے مجسموں کی توہین اس بات کی نشانی ہے کہ یہ عناصر ایرانی تہذیب اور قومی شناخت سے بھی دشمنی رکھتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے مجمع نمایندگان طلاب کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ انتخابات میں علماء و طلاب بھرپور شرکت کریں گے اور دینی و انقلابی ذمہ داریوں کو مزید مضبوط کریں گے۔









آپ کا تبصرہ