تحریر: مولانا علی عباس حمیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| 1979ء میں ایران میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ یہ عالمِ اسلام میں فکری، تہذیبی اور روحانی بیداری کی ایک ہمہ گیر لہر ثابت ہوا۔ اس انقلاب نے جہاں استعماری نظامِ تسلط کو چیلنج کیا، وہیں مسلم دنیا خصوصاً شیعہ معاشروں کو ایک نئی خود اعتمادی، نظریاتی سمت اور اجتماعی شعور عطا کیا۔ ہندوستان جیسے کثیر المذاہب اور جمہوری ملک میں بسنے والی شیعہ برادری بھی اس انقلاب کے اثرات سے مستثنیٰ نہیں رہی۔
اگرچہ ہندوستانی شیعوں کی سماجی، سیاسی اور مذہبی صورتِ حال ایران سے مختلف تھی، تاہم اسلامی انقلاب نے ان کے فکری افق، دینی سرگرمیوں، سماجی تنظیم اور عالمی امور کے ادراک پر گہرے نقوش چھوڑے۔
فکری بیداری اور خود آگہی
اسلامی انقلاب کا سب سے پہلا اور نمایاں اثر ہندوستانی شیعوں میں فکری بیداری کی صورت میں ظاہر ہوا۔ انقلاب سے قبل شیعہ معاشرہ بڑی حد تک عزاداری، مجالس اور رسومِ مذہبی تک محدود تصور کیا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ شعائر اپنی جگہ اہم تھے، مگر اجتماعی سطح پر دین کو ایک ہمہ جہت نظامِ حیات کے طور پر دیکھنے کا رجحان نسبتاً کمزور تھا۔ انقلابِ ایران نے یہ تصور تقویت دی کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ سماجی انصاف، سیاسی خودمختاری اور استعمار سے آزادی کا مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ ہندوستانی شیعہ نوجوانوں میں یہ احساس بیدار ہوا کہ دین محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔
نوجوان نسل میں انقلابی شعور
انقلاب کے بعد ہندوستانی شیعہ نوجوانوں میں ایک نئی انقلابی خود اعتمادی پیدا ہوئی۔ ایران میں نوجوانوں کی قیادت، ان کی قربانیاں اور ان کا عملی کردار ہندوستانی نوجوانوں کے لیے باعثِ تحریک بنا۔ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم شیعہ طلبہ نے اسلامی فکر، فلسفۂ شہادت، استعماری قوتوں کی سیاست اور امتِ مسلمہ کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو کا آغاز کیا۔ مختلف شہروں میں مطالعہ جاتی حلقے، فکری نشستیں اور اسلامی تاریخ پر مبنی مطالعاتی پروگرام منعقد ہونے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان نسل محض مذہبی رسومات تک محدود نہ رہی بلکہ سماجی مسائل، مظلوم اقوام کی حمایت اور عالمی سیاست کو بھی دینی نقطۂ نظر سے سمجھنے لگی۔
دینی اداروں اور علمی سرگرمیوں پر اثر
اسلامی انقلاب نے ہندوستانی شیعوں کے دینی اداروں کو بھی متاثر کیا۔ مدارس اور حوزہ جاتی نظام میں جدید فکری مباحث، سیاسی شعور اور عالمی اسلامی تحریکوں پر گفتگو بڑھنے لگی۔ ایران کے علمی مراکز سے وابستہ علماء اور مفکرین کی کتب کے اردو اور ہندی تراجم شائع ہوئے، جن میں امام خمینیؒ، شہید مطہریؒ شہید بہشتی ؒ اور دیگر انقلابی مفکرین کے افکار شامل تھے۔ ان کتب نے ہندوستانی شیعہ معاشرے میں دین کے سماجی و سیاسی پہلو کو اجاگر کیا۔ اس کے نتیجے میں خطباء اور ذاکرین کی تقریروں میں بھی امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل، استعمار کے خلاف شعور اور اسلامی وحدت کے موضوعات نمایاں ہونے لگے۔
سیاسی شعور اور شہری ذمہ داری کا احساس
ہندوستانی شیعہ برادری ایک جمہوری نظام کے تحت زندگی گزارتی ہے، جہاں سیاسی شرکت ایک شہری حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اسلامی انقلاب نے شیعہ عوام میں سیاسی شعور کو تقویت دی۔ اگرچہ ہندوستانی شیعوں نے کبھی کسی بیرونی ماڈل کو بعینہٖ اپنانے کی کوشش نہیں کی، تاہم انقلاب نے یہ پیغام ضرور دیا کہ مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے قیام کے لیے منظم اور باشعور طریقے سے جدوجہد کریں۔ نتیجتاً شیعہ برادری نے مقامی مسائل، تعلیمی پسماندگی، سماجی انصاف اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی آواز زیادہ مؤثر انداز میں بلند کرنا شروع کی۔
عالمی مظلومین سے ہمدردی کا جذبہ
اسلامی انقلاب نے مظلوم اقوام کے ساتھ ہمدردی کے جذبے کو ایک نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ فلسطین، لبنان، یمن اور دیگر خطوں میں مظلوم مسلمانوں کے مسائل ہندوستانی شیعہ مجالس اور اجتماعات میں زیرِ بحث آنے لگے۔ یہ عالمی شعور اس بات کی علامت تھا کہ ہندوستانی شیعہ خود کو محض ایک مقامی مذہبی گروہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایک ذمہ دار حصے کے طور پر دیکھنے لگے۔ اس شعور نے انسانی ہمدردی، خیراتی سرگرمیوں اور عالمی مسائل پر رائے سازی کو فروغ دیا۔
سماجی تنظیم نو اور رفاہی سرگرمیاں
انقلاب کے اثرات سماجی سطح پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہندوستانی شیعہ معاشرے میں سماجی تنظیم نو کا رجحان پیدا ہوا۔ مختلف شہروں میں تعلیمی اداروں، لائبریریوں، فلاحی تنظیموں اور نوجوانوں کی تربیت کے مراکز قائم ہوئے۔ غریب طلبہ کے لیے وظائف، طبی امداد کے کیمپ اور سماجی خدمت کے پروگرام اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ مذہب محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ سماج کی عملی خدمت بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ یہ سب انقلاب کے اس پیغام کی توسیع تھی کہ دین سماجی ذمہ داری کا نام ہے۔
ثقافتی شناخت اور خود اعتمادی
اسلامی انقلاب نے ہندوستانی شیعوں میں ثقافتی خود اعتمادی کو بھی مضبوط کیا۔ مذہبی شناخت کو احساسِ کمتری کے بجائے وقار اور اعتماد کے ساتھ اپنانے کا رجحان بڑھا۔ مجالس، جلوس اور مذہبی اجتماعات میں نظم و ضبط، فکری مواد اور سماجی پیغام کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔ اس سے ایک طرف مذہبی شعائر کا وقار بڑھا، تو دوسری طرف غیر مسلم سماج میں بھی شیعہ برادری کی ایک منظم اور باشعور تصویر ابھر کر سامنے آئی۔
چیلنجز اور اعتدال کی ضرورت
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ اسلامی انقلاب کے اثرات کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی سامنے آئے۔ بعض اوقات جذباتی وابستگی نے اعتدال کو متاثر کیا اور مقامی سماجی و سیاسی حقائق کو نظرانداز کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ ہندوستان جیسے متنوع سماج میں مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور آئینی حدود کا لحاظ ضروری ہے۔ اس لیے ہندوستانی شیعہ مفکرین اور رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ انقلاب سے حاصل ہونے والے فکری اسباق کو مقامی حالات کے مطابق دانش مندی سے بروئے کار لایا جائے، نہ کہ کسی بیرونی ماڈل کو جوں کا توں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔
نتیجہ
اسلامی انقلاب نے ہندوستانی شیعوں کو فکری بیداری، سیاسی شعور، سماجی ذمہ داری اور عالمی اُمت سے وابستگی کا نیا احساس عطا کیا۔ اس نے شیعہ معاشرے کو محض رسوم و روایات تک محدود رہنے کے بجائے ایک باشعور، متحرک اور ذمہ دار سماجی قوت کے طور پر ابھرنے کی ترغیب دی۔ اگرچہ ہندوستانی سماج کی مخصوص تہذیبی اور آئینی ساخت کے پیشِ نظر اس انقلاب کے اثرات ایک منفرد انداز میں ظاہر ہوئے، تاہم یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلامی انقلاب نے ہندوستانی شیعوں کے فکری افق کو وسیع کیا اور انہیں اپنی مذہبی و سماجی شناخت پر نئے سرے سے غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مستقبل میں اگر یہ فکری بیداری اعتدال، حکمت اور قومی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ نہ صرف شیعہ برادری بلکہ پورے ہندوستانی سماج کے لیے مثبت نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ