منگل 3 فروری 2026 - 01:16
رہبرِ معظم کو امریکہ کی کسی دھمکی کی پرواہ نہیں!

حوزہ/ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا شمار موجودہ دور کے اُن سیاسی و مذہبی قائدین میں ہوتا ہے جنہوں نے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ، کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت اور خودمختاری کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔ ان کے بیانات اور سیاسی رویّے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کی دھمکیوں، پابندیوں اور فوجی دباؤ کو ایران کی قومی خودداری اور انقلابی شناخت کے منافی سمجھتے ہیں۔

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

استقامت، خودمختاری اور مزاحمتی سیاست کا تجزیاتی مطالعہ

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا شمار موجودہ دور کے اُن سیاسی و مذہبی قائدین میں ہوتا ہے جنہوں نے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ، کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت اور خودمختاری کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔ ان کے بیانات اور سیاسی رویّے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کی دھمکیوں، پابندیوں اور فوجی دباؤ کو ایران کی قومی خودداری اور انقلابی شناخت کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کھل کر یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایران کسی بھی عالمی طاقت کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔

انقلابِ ایران اور امریکہ سے مخاصمت کی بنیاد

1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بنیادی تبدیلی واقع ہوئی۔ شاہِ ایران کی امریکہ نواز حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی تہران اور واشنگٹن کے درمیان بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہو گئی۔ خامنہ ای صاحب، جو انقلاب کے بعد مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے اور بعد ازاں رہبرِ اعلیٰ بنے، اسی انقلابی فکر کے امین ہیں جس کی بنیاد سامراج مخالف سوچ پر رکھی گئی تھی۔ ان کے نزدیک امریکہ نہ صرف ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب بھی ہے۔

پابندیاں، دھمکیاں اور ایرانی مزاحمت

امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیاں اور وقتاً فوقتاً دی جانے والی فوجی دھمکیاں خامنہ ای صاحب کے بیانیے میں “دباؤ کی سیاست” کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پابندیوں کا مقصد ایرانی عوام کو معاشی مشکلات میں مبتلا کر کے نظام کے خلاف ابھارنا ہے، مگر اس کے برعکس ان پابندیوں نے ایرانی قوم میں خود انحصاری اور مزاحمت کے جذبے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ خامنہ ای صاحب اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ “دشمن کی دھمکیاں ہماری راہ نہیں روک سکتیں بلکہ ہمیں مزید مضبوط بناتی ہیں۔”

خود انحصاری اور “مزاحمتی معیشت”

امریکی دباؤ کے جواب میں خامنہ ای صاحب نے “مزاحمتی معیشت” کا تصور پیش کیا، جس کا مقصد ایران کو اقتصادی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مقامی صنعت، زرعی پیداوار اور سائنسی و تکنیکی ترقی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ایران اقتصادی طور پر مضبوط ہوگا تو بیرونی دھمکیوں اور پابندیوں کا اثر خود بخود کم ہو جائے گا۔ اس نظریے نے ایرانی معاشرے میں خود اعتمادی کو فروغ دیا اور نوجوان نسل کو سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا۔

فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیت

خامنہ ای صاحب کے نزدیک مضبوط دفاعی صلاحیت ہی کسی ملک کی خودمختاری کی ضامن ہوتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات کے پیش نظر ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون سسٹمز اور مقامی دفاعی صنعت کی ترقی کو ایران کی دفاعی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔ خامنہ ای صاحب بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایران جارحیت کا خواہاں نہیں، مگر اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نظریاتی و ثقافتی محاذ

امریکہ کی دھمکیوں کے مقابلے میں خامنہ ای صاحب صرف فوجی یا اقتصادی محاذ پر ہی نہیں بلکہ نظریاتی اور ثقافتی سطح پر بھی مزاحمت کو اہم سمجھتے ہیں۔ وہ مغربی ثقافتی یلغار کو اسلامی اقدار کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں اور ایرانی معاشرے میں دینی و اخلاقی اقدار کے فروغ پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ افکار و نظریات کی ہے، اور اگر قوم فکری طور پر مضبوط ہو تو بیرونی دباؤ بے اثر ہو جاتا ہے۔

خطے میں ایران کا کردار اور امریکہ کی تشویش

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن میں ایران کے اتحادی گروہوں کی موجودگی کو امریکہ اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔ خامنہ ای صاحب اس کردار کو “مظلوم اقوام کی حمایت” سے تعبیر کرتے ہیں اور اسے ایران کی اخلاقی و اسلامی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ خطے میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے، مگر ایران اس دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

داخلی سیاست اور عوامی حمایت

خامنہ ای صاحب کی امریکہ مخالف پالیسی کو ایران کے ایک بڑے طبقے کی حمایت حاصل ہے، خاص طور پر وہ حلقے جو انقلابِ ایران کے نظریات سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ بعض شہری طبقات اقتصادی مشکلات کے باعث امریکہ سے کشیدگی کم کرنے کے خواہاں ہیں، مگر مجموعی طور پر قومی خودمختاری اور عزتِ نفس کا بیانیہ عوام میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خامنہ ای صاحب اس بیانیے کو قومی اتحاد کے لیے ایک مضبوط ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مذاکرات یا مزاحمت؟

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا خامنہ ای صاحب امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے مکمل طور پر مخالف ہیں؟ درحقیقت ان کا موقف یہ ہے کہ عزت اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات قابلِ قبول ہیں، مگر دباؤ، دھمکی اور پابندیوں کے سائے میں ہونے والی بات چیت بے معنی ہے۔ وہ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کے وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ماضی میں معاہدوں کی خلاف ورزی کی مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جو ایران کی خودمختاری کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

نتیجہ

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خامنہ ای صاحب کی نظر میں امریکہ کی دھمکیاں محض نفسیاتی دباؤ کا ایک حربہ ہیں، جن سے مرعوب ہونا ایران کی انقلابی شناخت کے خلاف ہے۔ ان کی قیادت میں ایران نے مزاحمت، خود انحصاری اور دفاعی مضبوطی کی پالیسی کو اپنایا ہے۔ اگرچہ اس راستے میں ایران کو اقتصادی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، مگر خامنہ ای صاحب کا ماننا ہے کہ عزت اور خودمختاری کی قیمت وقتی مشکلات سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ مستقبل میں ایران اور امریکہ کے تعلقات کس سمت جائیں گے، اس کا دار و مدار عالمی سیاست، علاقائی حالات اور دونوں ممالک کی قیادت کے فیصلوں پر ہے، مگر فی الحال خامنہ ای صاحب کا موقف واضح ہے: ایران کسی دھمکی کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha