پیر 9 فروری 2026 - 23:04
پاکستان میں امام بارگاہ پر حملہ: کرگل میں اظہارِ یکجہتی کیلئے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے

حوزہ/ اسلام آباد (پاکستان) کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دہشت گرد حملے کے خلاف جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ کے زیرِ اہتمام کرگل میں ایک بڑے اور پُرامن احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کرکے دہشت گردی کی شدید مذمت اور شہداء کے اہلِ خانہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کرگل، لداخ/ جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ نے اسلام آباد (پاکستان) کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے بہیمانہ اور بزدلانہ خودکش دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم کے مطابق عبادت جیسے مقدس مقام پر نہتے اور معصوم نمازیوں کو نشانہ بنانا ایک غیر انسانی اور سفاک اقدام ہے جو نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ امن، عدل اور انسانیت کے آفاقی اصولوں کے بھی سراسر خلاف ہے۔

مکمل تصاویر دیکھیں:

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش دہشت گردانہ حملہ کے خلاف جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کا احتجاجی مظاہرہ

اس افسوسناک اور انسانیت سوز واقعے کے خلاف احتجاج اور شہداء کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے زیر اہتمام اتوار کے روز کرگل میں ایک عظیم الشان اور پُرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ یہ ریلی نمازِ ظہرین کے بعد اثنا عشریہ چوک سے شروع ہوئی، لال چوک سے ہوتی ہوئی نظم و ضبط کے ساتھ دوبارہ اثنا عشریہ چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔

احتجاجی مظاہرے میں تقریباً آٹھ سے دس ہزار افراد نے شرکت کی، جن میں علمائے کرام، سماجی قائدین، نوجوانوں اور بزرگ شہریوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ریلی کی قیادت جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ کے صدر حجت الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی نے کی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیخ ناظر مہدی محمدی نے کہا کہ ایسے دہشت گردانہ حملے دہشت گردی کے اصل اور مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے جرائم کے مرتکب افراد کا اسلام اور اس کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ بے گناہ عبادت گزاروں کا قتل انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے جس کی غیر مشروط اور دوٹوک الفاظ میں مذمت ضروری ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے پاکستان میں شیعہ افراد کو بار بار نشانہ بنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سنجیدہ عالمی مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے، ملتِ تشیع کے تحفظ اور عبادت گاہوں کی سلامتی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی۔ تنظیم نے دہشت گردی، فرقہ وارانہ تشدد اور ہر قسم کی انتہاپسندی کے خلاف اپنے غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔

مقررین کے مطابق یہ پُرامن احتجاج عوام کے اتحاد، انصاف، بین المذاہب ہم آہنگی اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے عزم کا واضح مظہر تھا۔ شیخ ناظر مہدی محمدی نے مزید کہا کہ امامِ زمانہؑ کے ظہور کی تعجیل کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ظلم و دہشت گردی کا خاتمہ ہو کر دنیا امن اور انصاف سے بھر جائے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha