حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ/ حوزہ علمیہ قم میں طلابِ اردو زبان کی جانب سے “دفاعِ ولایت کانفرنس” اور اسلام آباد میں حالیہ دھماکے کے خلاف ایک پُرامن احتجاجی اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں ہندوستان و پاکستان کے علماء، طلباء اور مختلف ملی و دینی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجتماع کا مقصد رہبرِ معظم کی حمایت کا اعادہ، قومی یکجہتی کا اظہار اور دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تھا۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، تلاوت کے فرائض قاری بشارت امامی نے انجام دیے،جس کے بعد شاعر محترم جناب صائب جعفری نے اشعار پیش کیے ۔ شرکاء نے بانگِ تکبیر کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اتحادِ امت کا پیغام دیا۔ پروگرام میں نظامت کے فرائض مولانا یاسین مجلسی نے انجام دیے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید مراد رضا رضوی نے کہا کہ موجودہ دور میں فکری بصیرت اور دینی شعور کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے رہبرِ معظم کی قیادت کو امتِ مسلمہ کے لیے وحدت و استقامت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلابِ علومِ دینیہ کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں شعور، صبر اور استقامت کا پیغام عام کریں۔
اسی طرح مولانا نصرت عباس بخاری نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے افسوسناک دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امتِ مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، جن کا مقابلہ اتحاد، بیداری اور باہمی ہم آہنگی سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مثبت کردار ادا کرنے اور علمی و اخلاقی میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔
اجتماع کے اختتام پر تمام شریک ملی تنظیموں، اداروں اور حوزہ علمیہ قم کے اردو زبان طلاب کی جانب سے ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا گیا،جس کو مولانا سید کمیل شیرازی نے پیش کیا جس میں رہبرِ معظم کی حمایت، دہشت گردی کی مذمت، اور امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ بیانیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اختلافات کے باوجود قومی اور دینی وحدت کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پروگرام کے آخر میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعائے خیر کی گئی۔۔









آپ کا تبصرہ