بدھ 11 فروری 2026 - 17:48
تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کشمیر کے تحت اسلام آباد خودکش دھماکے کی مذمت اور مظلومین کی حمایت میں اجلاس کا انعقاد

حوزہ/سرینگر جموں وکشمیر کے حسن آباد میں تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ اور معروف عالم دین حجت الاسلام آغا سید عابد حسین حسینی کے دولت کدے پر "ملی یکجہتی کونسل" کا ایک اہم اور تاریخی اجلاس منعقد ہوا؛ جس کا اہم ہدف موجودہ حساس صورتحال میں امت مسلمہ کے درمیان وحدت و اخوت کو مزید مستحکم کرنا، دہشت گردی کی مذمت کرنا اور معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں بالخصوص منشیات کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنا تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس کی صدارت ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر سید سلیم گیلانی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض کونسل کے ترجمان اعلیٰ حکیم عبدالرشید نے انجام دئیے اور ابتدائی خطبہ اور اختتامی کلمات بھی حکیم عبدالرشید نے پیش کیے۔

اجلاس کے اہم نکات و قراردادیں

1. شیعہ-سنی وحدت پر زور: اجلاس میں زور دے کر کہا گیا کہ شیعہ اور سنی ایک ہی جسم اور ایک ہی روح ہیں۔ امت مسلمہ کی وحدت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔ الحمدللہ، امت مسلمہ متحد ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ متحد رہے گی۔

2. پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کی دل سے مذمت: اسلام آباد، پاکستان میں مسجد خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شرکاء نے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اسے پوری امت مسلمہ کے لیے عظیم صدمہ قرار دیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ اس گھناؤنے جرم کے پیچھے کسی بڑی عالمی سازش سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کے فوری اور مکمل صحت یاب ہونے کی خصوصی دعا کی گئی۔

3. نوجوانوں سے اپیل: نوجوانوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسی حرکت سے باز رہیں جس سے باہمی اتحاد میں دراڑ پڑنے کا خدشہ ہو۔

4. منشیات کے خلاف اجتماعی جنگ: اجلاس میں منشیات کے استعمال کو نوجوان نسل کے لیے انتہائی خطرناک سماجی برائی قرار دیا گیا۔ اس لعنت کے خلاف مشترکہ، منظم اور مسلسل اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کشمیر کے تحت اسلام آباد خودکش دھماکے کی مذمت اور مظلومین کی حمایت میں اجلاس کا انعقاد

میزبان کی اہم گفتگو

تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ آغا سید عابد حسین حسینی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے انتہائی اہم اور جامع خطاب فرمایا۔

انہوں نے کہا کہ"ان حساس حالات میں اگر اصلاح کرنے والے سامنے نہیں آئیں گے تو فساد کرنے والے بازی ماریں گے۔"

"کام اور تعاون کا معیار خلوص اور تقویٰ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔"

انہوں نے میرواعظ کشمیر مولانا محمد عمر فاروق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "ان کے حمایتی بیان سے کشمیر میں آگ پر تیل چھڑکنے والوں کا منصوبہ ناکام ہوا۔"

آغا سید عابد حسین نے وحدت کے حوالے سے ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ"چودہ سو سال پہلے لڑائی لڑنے اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے سے پہلے اس بات کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ میرا قائد اور راہنما کون ہے۔ آج پورے عالم اسلام میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو اپنا قائد، راہنما اور رہبر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ جو دہشتگردی کی کاروائیاں کرتے ہیں، ٹرمپ ان کا راہنما ہے۔

انہوں نے کچھ گنے چنے جلوسوں میں پاکستان مردہ باد" نعرے کے حوالے سے کہا کہ "یہ نعرہ لگانے والے کچھ بے بصیرت، سیاست سے بے خبر نادان افراد تھے۔ اگرچہ دیکھنے میں کچھ نام نہاد علماء بھی اس نادانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ غور کریں کل جب ایران میں فساد ہوئے، تین ہزار سے زائد افراد شہید کیے گئے اور دسیوں مسجدیں نظرآتش کی گئیں، تو اگر کوئی ایسا نعرہ ایران کے بارے میں دیتا تو قابلِ قبول ہوتا؟

تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کشمیر کے تحت اسلام آباد خودکش دھماکے کی مذمت اور مظلومین کی حمایت میں اجلاس کا انعقاد

قیادت کی پیشکش

اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر سید سلیم گیلانی نے آغا صاحب کو کونسل کا "جنرل سیکرٹری" نامزد کرنے کی تجویز پیش کی۔

اس پر آغا سید عابد حسین نے کہا کہ"میں تعاونوا علی البر و التقویٰ (نیکی اور پرہیزگاری پر تعاون کرو) کی بنا پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ایک منصوبہ مرتب کروں گا، اگر آپ کو منصوبہ سے اتفاق رہا تو عہدہ سنبھالوں گا۔"

اجلاس میں متعدد معزز مذہبی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں، جن میں ملک اکبر حیدری (صدر مسلم یونٹی کونسل)، پیر طاہر قادری، سابق کونسلر آغا سید محمد، مولوی شبیب الحسن صاحب، سید علی حسینی صاحب، عبدالرحمن صاحب، فاروق احمد صاحب، انجینئر اعجاز احمد صاحب (گیرٹر سرینگر لیڈر شپ) اور دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔

شرکاء نے علاقے میں امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فروغ کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے، جنہیں مناسب وقت پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر تمام ایسے افراد کو بھی دعوت دی گئی جو خلوص نیت سے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے معاشرے کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، وہ اس اجتماعی مشن میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آئیں۔

تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، کشمیر کی طرف سے اجلاس کی کامیابی پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha